مئی مجں جب بھارت نے بغیر ثبوت پاکستان پر خونی حملے کا الزام لگا کر بڑھکیں مارتے ہوئے فضائی کارروائی کی تو پاکستان نے سخت ردِ عمل دےتے ہوئے بھارتی حملے کا منہ توڑ جواب دےا اور بھارت کے علاقائی سپر پاور ہونے کے دعوے کو زمےن بوس کر دےا۔ جس کے اعتراف سے بھارت انکاری تھا لےکن حالےہ امرےکی سےنٹ میں پیش کی گئی کمےشن رپورٹ نے عالمی سطح پر ےہ واضح کر دےا کہ اس جنگ کا حقےقی فاتح پاکستان تھا اور بھارت اپنی فوجی ناکامی چھپانے کے لئے آج بھی جھوٹے بےانےے کا سہارا لے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس جنگ مےں پاکستان نے بہترےن حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچاےا اور بھارت دعووں کے برعکس پاکستان نے جنگ کے ابتدائی مرحلے مےں ہی 6 بھارتی طےارے مار گرائے، جن مےں رافےل بھی شامل ہے۔ جس کا بھارت نے اس حد تک اعتراف کےا کہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کو بھاری نقصان پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق جس رافیل طیارے کو گےم چےنجر سمجھا جا رہا تھا وہ پاکستانی دفاعی نظام کے سامنے بے بس نظر آیا۔ اس مےں کوئی دو رائے نہےں ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی سر زمین کا بہترین دفاع کیا۔
یہ رپورٹ عالمی سطح پر پاکستان کی کامےاب سفارتی و عسکری برتری کو ثابت کر رہی ہے۔ اس سے قبل امرےکی جرےدے فارن پالےسی نے اپنی رپورٹ مےں پاکستان کو خطے کا فاتح قرار دےتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصہ مےں اپنی متوازن حکمتِ عملی سے عالمی منظر نامہ بدل دیا ہے۔ رواں سال اپرےل کے ماہ تک پاکستان اور پاکستانےوں کا عالمی منظر نامے پر مقام نہ ہونے کے برابر تھا۔ ملک کی شناخت صرف بحرانوں اور بد امنی سے کی جا رہی تھی۔ عالمی سطح پر کوئی پاکستان کے م¿وقف پر کان دھرنے کو تےار نہےں تھا جب کہ بھارت کی سازشوں اور پروپیگنڈے نے پاکستان کو دہشت گرد رےاست کے طور پر پےش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہوئی تھی اور عالمی سطح اسلام آباد کو تنہائی کا شکار کر دےا تھا۔ بھارت نے خطے مےں کشےدگی بڑھا کر پاکستان کے خلاف جارحانہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے خود ساختہ پہلگام دہشت کا واقعہ گھڑ کے پاکستان کو اےک کمزور حریف تصور کرتے ہوئے اس کے خلاف اےڈونچر کر دےا۔ بھارت سمجھتا تھا کہ اگر وہ پاکستان پر حملہ کرے گا تو اسے کوئی ردِ عمل نہےں آئے گا بلکہ پاکستان دفاعی پوزےشن مےں آ جائے گا جس کی چند بےرونی طاقتوں نے اسے اپنے طور پر گارنٹی بھی دی ہوئی تھی، ےہی بھارت کی بڑی خوش فہمی ےا غلط فہمی کہا جائے تھی۔ چونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ جنگوں سے مسائل حل نہےں ہوتے بلکہ اس سے مسائل بڑھتے ہےں اس لئے اس نے بھارت کو کہا کہ پاکستان کا پہلگام واقعہ سے کچھ لےنا دےنا نہےں ہے لےکن بھارت پاکستان کے سمجھانے کے باوجود مہم جوئی سے باز نہ آےا اور رات کی تارےکی مےں پاکستان پر بزدلانہ حملے کئے تو پھر وہ اپریل کے بعد مئی کی دس تارےخ وہ تارےخ ساز دن بن گےا جو ہمےشہ سے تارےخ کی کتابوں اور تارےخ کا حصہ رہے گا، جب پاکستان نے " آپرےشن بنےان مرصوص" لانچ کر کے دنےا کو حیران کر دےنے والا ردِ عمل ظاہر کےا۔
اس آپرےشن نے نہ صرف بھارت کی عسکری صلاحےت کے غبارے سے ہوا نکال دی بلکہ عالمی سطح اےک نئی بات استعماری قوتوں کے ذہنوں مےں ڈال دی کہ جنگ صرف ہتھےاروں سے نہےں لڑی جاتی بلکہ اس کے لئے کٹ مرنے کا حوصلہ اور جذبہ بھی موجود ہونا چاہئے۔ اس اس طرح پاکستان نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی کو از سرِ نو ترتب دیا، جس قوم کو کل تک دنےا دہشت گردی سے جوڑتی تھی۔ آج وہ امن، توازن اور شراکت داری کی علامت بن چکی ہے اور امرےکی کمیشن رپورٹ جو کانگرس مےں پےش کی گئی اسی کا محرک ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چھ ماہ میں امرےکہ، چےن، ترکےہ، اےران، سعودی عرب اور ملائےشےا جےسے ممالک کے ساتھ تعلقات میں نئے سنگِ مےل قائم کئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنےا آج پاکستان کو اےک فاتح قوم کے طور پر جاننے لگی ہے اور اس کی عالمی سطح پر وہ اہمےت نہےں ہے جو کہ کبھی ماضی مےں ہوا کرتی تھی۔
حالےہ رپورٹ سے ےہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ بھارت جو کبھی امریکہ کا منظورِ نظر ہوا کرتا تھا اب ان دونوں کے تعلقات مےں واضح دراڑ نظر آ رہی ہے۔ بھارت کی بزدلانہ جارحےت اور پاکستان کے دلےرانہ جواب نے پاکستان کے لئے سفارتی امکانات کا در وا کےا تو دوسری طرف پاکستان کے تدبر نے اس موقع کو تارےخی کامےابی مےں بدل دےا۔ حالےہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات مےں بھارت کی سرپرستی کے واضح اشارے ملنے سے دنےا اب تسلےم کر رہی ہے کہ دہشت گردی اور جارحےت کا اصل مرکز بھارت اور پاکستان امن و استحکام اور بین الاقوامی تعاون کا نےا چہرہ ہے۔ دنےا ےہ بھی سمجھ گئی ہے کہ بھارت کا روےہ غےر ذمہ دارانہ ہے کےونکہ دو جوہری طاقتوں کو الزام تراشی کرتے ہوئے اور ردِ عمل دےتے ہوئے ےہ بات نہےں بھولنی چاہئے کہ جوہری ماحول مےں جنگ کی کوئی گنجائش نہےں۔ کسی بھی قسم کی کشےدگی خاص طور پر جوہری ہتھیاروں سے لےس خطے مےں صورتحال بہت سنگےن ہو سکتی ہے۔
بھارت سمےت تمام دنےا کو یہ بات ذہن مےں رکھنا ہو گی کہ اس وقت پاکستان اےک اےسی عسکری قوت ہے جو کسی بھی مسلط کی گئی جنگ مےں اپنے دفاع کی صلاحےت رکھتی ہے، ہماری تےنوں مسلح افواج فنی اعتبار سے ملی، دےنی اور قومی جذبے سے معمور ہےں۔ ےہ کسی کے لئے تر نوالہ نہےں ہے ، اس لئے تمام تر خواہش اور تےاری کے باجود پاکستان پر حملہ کرتے ہوئے بھارت کو بار بار سوچنا پڑتا ہے کےونکہ جنگ اےک اےسی آفت ہے کہ اسے شروع کرنا تو بس میں ہوتا ہے مگر اس کا اختتام اور انجام اپنے بس مےں نہےں ہوتا۔