Wed, September 16, 2026

پنکی ،پاکستان کا اصل چہرہ اور سڑتا ہوا نظام

پنکی ،پاکستان کا اصل چہرہ اور سڑتا ہوا نظام

کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں زیرِ بحث آنے والا ”انمول عرف پنکی“ کیس اب کسی ایک عورت، ایک گرفتاری یا ایک کرائم سٹوری کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ پاکستان کے اس سڑے ہوئے نظام کا آئینہ بن چکا ہے جہاں جرم صرف گلیوں میں نہیں پلتا بلکہ طاقت کے ایوانوں کے سائے میں جوان ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ثبوت، نوجوانوں میں پھیلتا نشہ اور بااثر حلقوں کے ناموں پر چھائی خاموشی دراصل اس معاشرے کی اجتماعی منافقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔ یہاں جرم سے زیادہ خوفناک چیز وہ خاموشی ہے جو جرم کے گرد حفاظتی دیوار بن جاتی ہے۔ یہی خاموشی پاکستان کا اصل بحران ہے۔ ہم اس ملک میں ہمیشہ چھوٹے مجرم پکڑتے ہیں، چند چہروں کو میڈیا پر اچھال دیتے ہیں، دو چار چھاپے مار کر نظام کی فتح کا اعلان کر دیتے ہیں، مگر کبھی اس فیکٹری کو بند نہیں کرتے جہاں جرم پیدا ہوتا ہے۔ ہم پانی صاف کرنے کے دعوے کرتے ہیں مگر کنویں سے کتا نہیں نکالتے،اسے وہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مہینے ایک نیا سکینڈل،نیا شوشہ۔ ایک نئی پنکی، ایک نیا نیٹ ورک سامنے آ جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایک عورت کتنی طاقتور تھی، سوال یہ ہے کہ اس کے پیچھے کھڑے لوگ کتنے طاقتور ہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔
پاکستان میں منشیات اب صرف ایک سماجی برائی نہیں رہی بلکہ یہ ایک مکمل ”انڈر گراو¿نڈ اکانومی“ بن چکی ہے۔ یہ کاروبار صرف گلی کے کسی چھوٹے ڈیلر تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں سیاست، بیوروکریسی، جرائم پیشہ گروہوں اور بعض طاقتور حلقوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ منشیات اب صرف پاو¿ڈر یا گولی نہیں، یہ ایک پورا نیٹ ورک ہے جو نوجوانوں کے ذہن، جسم اور مستقبل کو خرید رہا ہے۔ جب کسی ملک کی نوجوان نسل نشے میں ڈوبنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ دشمن سرحدوں سے نہیں، نظام کے اندر سے حملہ آور ہو چکا ہے۔ یہ محض جرم نہیں، قومی تباہی ہے۔سب سے زیادہ خوفناک پہلو یہ ہے کہ اس کاروبار کا شکار وہ نوجوان ہو رہے ہیں جو اس ملک کا مستقبل ہیں۔ یونیورسٹیوں، پوش علاقوں، کیفے کلچر اور نجی محفلوں میں نشہ اب فیشن بنتا جا رہا ہے۔ ابتدا تجسس سے ہوتی ہے، پھر عادت بنتی ہے اور آخرکار انسان اپنی شخصیت، عزت، گھر اور مستقبل سب کچھ ہار جاتا ہے۔ منشیات فروش صرف زہر نہیں بیچتے، وہ خاندان تباہ کرتے ہیں۔ ایک نشئی نوجوان صرف اپنی زندگی نہیں برباد کرتا بلکہ پورے گھر کو ذہنی، معاشی اور اخلاقی قبرستان بنا دیتا ہے۔ یہ سچ اب چھپایا نہیں جا سکتا۔
 المیہ یہ ہے کہ سرکار کے اندر موجود چند کالی بھیڑیں اس کاروبار کو تحفظ دیتی ہیں۔ ہر بڑے غیر قانونی دھندے کے پیچھے کوئی نہ کوئی طاقت ضرور ہوتی ہے۔ کہیں سیاسی سرپرستی، کہیں مالی مفاد، کہیں انتظامی خاموشی اور کہیں خوف۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے لوگ پکڑے جاتے ہیں مگر بڑے نام ہمیشہ دھند میں غائب رہتے ہیں۔کوئی تو ملوث افسر یا بڑا آدمی پکڑا جائے۔ پاکستان میں مسئلہ قانون کی کمی نہیں، مسئلہ قانون کے دوہرے معیار کا ہے۔ طاقتور کے لیے رعایت اور کمزور کے لیے سزا، یہی اس نظام کی اصل پہچان بن چکی ہے۔
میں یہ بات کسی سنی سنائی کہانی کی بنیاد پر نہیں کر رہا۔ برسوں پہلے مجھے شکایت ملی کہ ایک مخصوص نیٹ ورک نوجوانوں کو نشے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ میں نے رابطے کیے، ملاقاتیں کیں، معلومات دیں۔اس وقت کے گورنرلطیف کھوسہ صاحب کو کہا،انہوں نے ایک ڈی آئی جی رضا صاحب سے بات کرائی،رضاصاحب نے مجھے جاوید ایس ایچ او سے ملایا ، فون کالز ہوئیں، یقین دہانیاں ملیں،پھر کال اٹھانی بند ہوئیں۔ چند دن بعد معاملہ فائلوں میں دفن ہو گیا اور زندگی آگے بڑھ گئی۔ یہی اس نظام کا سب سے خطرناک پہلو ہے کہ یہاں مسئلے حل نہیں ہوتے، صرف تھکا دیے جاتے ہیں۔ انسان انصاف مانگتے مانگتے خود خاموش ہو جاتا ہے۔ یہی خاموشی جرائم کی سب سے بڑی محافظ ہے۔
ہمارے ہاں اداروں کی کمی نہیں۔ انٹیلی جنس بیورو ہے، حساس ادارے ہیں، تحقیقاتی ادارے موجود ہیں، قانون نافذ کرنے والی فورسز موجود ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان اداروں کا رخ اصل مجرموں کی طرف بھی جاتا ہے؟ اگر اوپر بیٹھے ہوئے لوگ احتساب سے محفوظ رہیں گے تو نیچے صفائی کبھی ممکن نہیں ہوگی۔ یہ ملک صرف چھاپوں، پریس کانفرنسوں اور نمائشی کارروائیوں سے نہیں چلے گا۔ جب تک حکومت نظام کے اندر موجود گندگی صاف نہیں کرے گی، باہر صفائی ایک مذاق ہی رہے گی۔ کنواں میں کتا گرا ہو تو پانی کبھی صاف نہیں رہتا۔
میڈیا کا کردار بھی اس بحران میں سوالات سے آزاد نہیں۔ روایتی میڈیا آج خوف، کاروباری مفادات اور دباو¿ کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ کئی خبریں اس لیے دبا دی جاتی ہیں کیونکہ ان کے پیچھے طاقتور نام ہوتے ہیں۔ یہی خلا سوشل میڈیا نے پر کیا، مگر وہاں بھی سچ، افواہ اور کردار کشی ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ مسئلہ صرف معلومات کا نہیں بلکہ اعتماد کے خاتمے کا ہے۔ جب عوام کو لگنے لگے کہ اصل سچ کہیں نہیں بتایا جا رہا تو پھر معاشرہ افواہوں کے رحم و کرم پر چلا جاتا ہے۔ یہ کسی بھی ریاست کے لیے خطرناک ترین مرحلہ ہوتا ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا بحران معاشی نہیں، اخلاقی ہے۔ جب ایک معاشرے میں طاقت، دولت اور تعلقات قانون سے زیادہ اہم ہو جائیں تو پھر جرم آہستہ آہستہ نارمل بن جاتا ہے۔ لوگ غلط کو غلط کہنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ادارے انصاف کے بجائے مفادات بچانے لگتے ہیں۔ نوجوان رول ماڈل نہیں، شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرہ اندر سے ٹوٹنا شروع ہوتا ہے۔ قومیں صرف میزائلوں اور سڑکوں سے مضبوط نہیں ہوتیں، ان کی اصل طاقت انصاف اور اخلاقی بنیادیں ہوتی ہیں۔ جب بنیادیں کھوکھلی ہو جائیں تو عمارت زیادہ دیر کھڑی نہیں رہتی۔
یہ ملک اب مزید خاموشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ منشیات، کرپشن، سرپرستی، طاقت کا غلط استعمال اور ادارہ جاتی کمزوری یہ سب الگ الگ مسئلے نہیں بلکہ ایک ہی بیمار نظام کے مختلف چہرے ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے صرف چند کرداروں کو قربانی کا بکرا بنا کر اصل نیٹ ورکس کو چھوڑ دیا تو کل ایک نئی پنکی، ایک نیا سکینڈل اور ایک نئی تباہی ہمارا انتظار کر رہی ہوگی۔ ضرورت ہے کہ فوج کے کسی بریگیڈئیر یا جنرل لیول کے افسر کو یہ ٹاسک دیا جائے کہ لوگ اسی ادارے پر بھروسہ کرتے ہیں۔آئی ایس آئی ، ایم آئی اور آئی بی پہلے پوری معلومات لیں اور پھر سی سی ڈی جیسے محکمے کو کہا جائے کہ مجرموں کو اٹھا لے۔یہ ضروری ہوچکا ہے۔ ایک بے رحم انسداد منشیات آپریشن کیا جائے جس میں کسی کو رعایت نہ دی جائے ۔ پاکستان کا چہرہ اسی طرح اجلا ہو سکتا ہے۔

ٹیگز: