Wed, September 16, 2026

اسرائیلی ظلم کے سامنے پاکستان کی للکار

اسرائیلی ظلم کے سامنے پاکستان کی للکار

فلسطین صرف ایک تنازع نہیں، یہ حق اور طاقت کے درمیان جنگ ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس نے دنیا کے دوہرے معیار کو سب سے زیادہ بے نقاب کیا۔ ایک طرف انسانی حقوق، جمہوریت اور عالمی قانون کے دعوے ہیں، دوسری طرف غزہ کے ملبے تلے دبی لاشیں، مسجدِ اقصیٰ پر حملے اور فلسطینی بچوں کا بہتا ہوا خون۔ ایسے وقت میں پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح، دوٹوک اور غیر متزلزل رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار دیا اور آج 2026 تک اس مو¿قف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
قائداعظم محمد علی جناح نے فلسطین کے مسئلے پر واضح کہا تھا کہ فلسطینیوں کے ساتھ ناانصافی پوری مسلم دنیا کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے کھل کر اس کی مخالفت کی۔ اس کے برعکس کئی عرب ممالک وقت کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی طرف گئے، مگر پاکستان نے کبھی اپنے اصول نہیں بدلے۔ یہی فرق اصولی ریاست اور مفاداتی ریاست میں ہوتا ہے۔
1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد جب اسرائیل نے مشرقی یروشلم، غزہ اور مغربی کنارے پر قبضہ کیا تو پاکستان نے اقوام متحدہ میں سخت احتجاج کیا اور فلسطینی ریاست کے مطالبے کو مزید مضبوط انداز میں اٹھایا۔
 پھر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان نے صرف بیانات نہیں دیے بلکہ عملی کردار ادا کیا۔ پاکستانی فضائیہ کے پائلٹس نے عرب ممالک کی مدد کی۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ فلسطین صرف تقریروں کا مسئلہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے وقار کا سوال ہے۔
1993 میں اوسلو معاہدہ ہوا، دنیا نے سمجھا شاید اب امن قائم ہو جائے گا، مگر اسرائیل نے مذاکرات کے ساتھ ساتھ غیر قانونی بستیاں بھی بڑھائیں۔ یہی وہ فرق ہے جو پاکستان بار بار دنیا کو سمجھاتا رہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف جنگ بندی سے حل نہیں ہوگا بلکہ انصاف سے حل ہوگا۔ اگر انصاف نہ ہو تو ہر جنگ بندی اگلی جنگ کا وقفہ بن جاتی ہے۔
2008، 2014، 2021 اور پھر 2023 سے 2025 تک غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے، اسپتال تباہ ہوئے، بچوں کے اسکول ملبے میں بدل گئے، مگر مغربی دنیا کی اکثریت خاموش رہی۔ یوکرین میں جنگ ہو تو عالمی ضمیر جاگ اٹھتا ہے، مگر غزہ میں نسل کشی ہو تو صرف ”تشویش“ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے ہر فورم پر اس منافقت کو بے نقاب کیا۔
پاکستان کی حکومت اور پاک فوج دونوں نے ہمیشہ فلسطین کے حق میں سخت مو¿قف اپنایا۔ 2023 میں غزہ جنگ کے دوران پاکستان نے نہ صرف فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا بلکہ انسانی امداد بھی بھیجی۔ آرمی چیف اور سیاسی قیادت نے واضح کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ یہ صرف سفارتکاری نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی ہے۔
آج جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے جنگی جنون کے بجائے مذاکرات، تحمل اور امن کی بات کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلم دنیا میں پاکستان کی آواز کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ طاقت صرف میزائلوں سے نہیں بلکہ اصولوں پر ثابت قدم رہنے سے بھی حاصل ہوتی ہے۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فلسطین صرف عربوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔ اگر عالمی قانون واقعی موجود ہے تو پھر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے، بستیوں اور جنگی جرائم پر خاموشی کیوں؟ اگر اقوام متحدہ کے فیصلے اہم ہیں تو فلسطین کے حوالے سے ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوتا؟ پاکستان برسوں سے یہی سوال پوچھ رہا ہے۔
پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا وقتی سیاست نہیں بلکہ قومی اصول ہے۔ پاکستان جانتا ہے کہ جس قوم سے اس کی زمین، شناخت اور آزادی چھین لی جائے، اسے امن کے نام پر غلامی قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں امن صرف ایک دھوکہ ہوگا۔
فلسطین کے معاملے پر پاکستان نہ پہلے جھکا تھا، نہ آج جھکے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اصول بیچے، وہ وقتی فائدہ تو لے گئیں مگر عزت کھو بیٹھیں۔ پاکستان نے شاید معاشی یا سیاسی دباو¿ برداشت کیا ہو، مگر فلسطین پر اپنا مو¿قف نہیں بدلا۔ یہی اس کی اصل طاقت ہے۔
غزہ کے ملبے سے اٹھتی چیخیں آج بھی دنیا سے انصاف مانگ رہی ہیں۔ مسجدِ اقصیٰ آج بھی امتِ مسلمہ کو پکار رہی ہے۔ اور پاکستان آج بھی پوری دنیا کو یہی پیغام دے رہا ہے کہ فلسطین آزاد ہوگا، القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہوگا، اور اسرائیلی ظلم ایک دن تاریخ کے کٹہرے میں ضرور کھڑا ہوگا۔

ٹیگز: