Wed, September 16, 2026

بلوچستان میں سکول بس پر حملہ: سکھ تنظیم SFJ نے بھارت پر الزامات عائد کر دیے

بلوچستان میں سکول بس پر حملہ: سکھ تنظیم SFJ نے بھارت پر الزامات عائد کر دیے

اسلام آباد / نیویارک:بین الاقوامی سکھ تنظیم سکھس فار جسٹس (SFJ) نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکول بس پر ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے بھارت کی ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر ملوث ہیں۔

SFJ کے قانونی مشیر گروپتون سنگھ پنن نے ایک جاری بیان میں کہا کہ یہ حملہ ’’مودی حکومت کے اُس خفیہ جنگ کا حصہ ہے جو وہ پاکستان کے خلاف پراکسی گروہوں کے ذریعے لڑ رہی ہے۔ان کے بقول، ’’بھارتی خفیہ ادارہ RAW نہ صرف ان گروہوں کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے انہیں عسکری تربیت بھی دے رہا ہے۔

 گروپتون سنگھ پنن نے ایودھیا اور ناگپور کو ’’ہندوتوا انتہا پسندی کی افزائش گاہیں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر یہی نظریات پاکستان میں معصوم بچوں کی جان لینے کا سبب بن رہے ہیں تو ان کے مرکز کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا ناگزیر ہے۔انہوں نے استفسار کیا    ’کیا ایودھیا اور ناگپور، جہاں سے انتہاپسند نظریات نے جنم لیا، ان دہشت گرد حملوں کے تناظر میں بین الاقوامی سطح پر قابلِ مذمت نہیں؟۔

SFJ نے اپنے بیان میں پاکستان کی خودمختاری کا دفاع کرنے والے اداروں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی عوام اور افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بھارتی ریاست پنجاب کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سکھ تنظیم نے بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں اور دیگر افراد کے اہلِ خانہ سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

ان کاکہنا تھا کہ ہم دکھ کی اس گھڑی میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ بچوں کو سیاسی مفادات کے لیے نشانہ بنانے والوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جائے۔

ٹیگز: