Wed, September 16, 2026

سپورٹس ادارے کہاں ہیں؟

سپورٹس ادارے کہاں ہیں؟

جب سپر طاقت کا سربراہ پوری دنیا کو یہ بات باور کرادے کہ پاکستانی قوم بہت ذہین ہے تو پھر مان لیں کہ ہم واقعی ذہین لوگ ہیں۔ آپ ہماری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ وہ کون سا شعبہ ہے جہاں ہم نے نامور نام پیدا نہیں کئے۔ سیاست، شوبز، کھیل، آئی ٹی، ادب، سائنس ، بڑے شاعر، بڑے لکھاری اور سب سے بڑھ کر اگر ہم آج کھیل کی بات کریں تو گزشتہ 76سال میں سکواش، کرکٹ، پہلوانی، ایتھلیٹکس، فٹ بال، کراٹے، بیڈمنٹن، والی بال، ٹینس، کبڈی اور کوہ پیمائی ایک نہیں سیکڑوں ہیروز نے دنیا بھر میں پاکستانی پرچم کو بلند کرتے ہوئے بین الاقوامی کھیلوں میں بھی بڑی تاریخ لکھ گئے۔ ورلڈ مقابلوں سے اولمپکس تک ہم نے سلور میڈل سے گولڈ میڈلز اور عالمی کپ بھی لے کر آئے۔ وہ ہمارا اعزاز اور فخر بھی تھے مگر بدقسمتی سے ہم نے اپنے ہی ہاتھوں بڑے کامیاب کھلاڑیوں کو کھویا بھی۔ پوری دنیا میں سیاست کے دائو پیچ ہوتے ہیں اور وہاں طریقہ کے ساتھ اس کا استعمال ہوتا ہے مگر پاکستان میں ہمارا باوا الٹا ہے ہم نہ کھیلتے اور نہ کھیلنے دیتے ہیں۔ حکومتیں اربوں روپے کے بجٹ کھیلوں پر لگاتی ہیں، عشرے بیت گئے آج مجھے کوئی یہ بتا دے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ سے لے کر صوبائی سپورٹس بورڈز اور پھر کھیلوں کی ایسوسی ایشن یا پاکستان اولمپک یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے کوئی ایک ہیرو اپنے سسٹم سے نکالا ہو۔ کیا یہ تمام ادارے دعویٰ کرنے کی اس پوزیشن میں ہیں کہ انہوں نے کتنی سپورٹس اکیڈیمیاں، کتنے کوچنگ کیمپ، کتنے فیلڈ کوچنگ کیمپ، سکول سے کالج سے یونیورسٹیوں کی سطح تک ٹیلنٹ ہنٹ سکیموں کو مستقبل کی بنیاد پر آرگنائزڈ کیا ہو۔ انہوں نے سکول سطح سے یونیورسٹی تک اور صوبوں کے درمیان کتنے بین الصوبائی ٹورنامنٹس یا ان میں مقابلوں کو کرایا ہو۔ ہاں ہاں ایک ایسا دور بھی گزرا جب سکولز میں ایک ڈرل پریڈ ہوا کرتا تھا جس میں تمام کلاسز کے بچوں کو فزیکل تربیت کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے مقابلے بھی ہوتے تھے۔ اسی دوران سکولز انٹر کالجیٹ سپورٹس اتھلیٹکس، سائیکلنگ، پہلوانی اور کبڈی کے بڑے مقابلے ہوتے تھے۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھا جب جھارا پہلوان سے انوکی پہلوان تک کے مقابلے اسی پاک دھرتی پر ہوا کرتے تھے۔ اب وہ سب کچھ ہم نے کھو دیا۔ جب سپورٹس ادارے ہی مقابلے کرانا ہی بند کر دیں گے تو کھلاڑی کہاں سے تیار ہو رہو سکیں گے یہی وجہ ہے کہ ہم کھیلوں کے معیار قائم کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ نائن الیون کے واقعات سے پہلے تو ہم نے ہر میدان میں گھوڑے دوڑائے اور کامیاب ہونے مگر نائن الیون کے بعد پاکستان پر زبردستی دہشت گردی کی جنگ مسلط کی گئی تو اس کے برے ترین اثرات ہمارے کھیلوں کے میدانوں پر بھی پڑے۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ بڑی کھیلوں کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں نے ہمارے ہاں آنے سے انکار کر دیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم دس سال تک اس دہشت گردی کا ضرور شکار ہوئے مگر پھر جب اس کے سائے ختم ہونے لگے اور خاص کر کرکٹ کے میدان سج گئے غیر ملکی کھلاڑیوں نے بے خطر یہاں آنا شروع کر دیا۔ پاکستان سپر لیگ دبئی سے اپنے گرائونڈز پر منتقل ہو گئی مگر کیا ہوا کہ پاکستان اولمپکس، پاکستان سپورٹس بورڈ اور صوبائی سپورٹس بورڈ ابھی تک گہری نیند سوئے ہوئے ہیں۔ کیا وہ سپورٹس کرانا بھول گئے یا ان کو کسی نے روک دیا ہے۔ اس دوران البتہ پنجاب سپورٹس بورڈ کی کارکردگی سامنے آئی کہ اس نے کہیں نہ کہیں مقابلوں کے میدان سجائے، کھیل کھلائے، کلب سے لے کر تحصیل اور ڈویژن کی سطح تک بڑے مقابلوں کی خبریں سامنے آئیں مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ صرف پنجاب ہی کیوں۔ پاکستان کیوں نہیں اب یہ ذمہ داری تو پنجاب سپورٹس بورڈ کی نہیں کہ وہی مقابلے کرائے گا، ذمہ دار تو پاکستان اولمپکس اور پاکستان سپورٹس بورڈ ہیں مگر وہ ابھی تک بین الاقوامی مقابلوں کی دوڑ سے باہر کیوں ہیں۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتوں کی طرف سے سالانہ اربوں روپے جو بجٹ میں ان کو کھیلوں کے فروغ کے لئے ملتے(باقی صفحہ 4 بقیہ نمبر2)
 ہیں وہ کہاں استعمال ہو رہے ہیں ان کا کہیں نہ کہیں تو آڈٹ ہونا ہوگا کیونکہ میدانوں میں تو ہُو کا عالم ہے۔ چلیں آپ دور نہ جائیں پاکستان سپر لیگ کا دسواں ایڈیشن اپنے اختتام کو پہنچ چکا جس نے تمام بین الاقوامی کھلاڑیوں کے دروازے کھولے۔ کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں ہم نے کرکٹ کے علاوہ کتنے بین الاقوامی اور بین الصوبائی مقابلے آرگنائزڈ کرائے، کتنی کھیلوں میں آپ نے شرکت کی اور اولمپکس فرانس کا کوئی کریڈٹ نہ لے اس میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کی اپنی پرفارمنس تھی اور کریڈٹ آپ نے لے کر ان کو مقابلوں میں بھجوایا۔ یہ بتائیں کہ آپ کے کریڈٹ رپ کتنے کھلاڑی ہیں جو آپ نے اس قوم کو دیئے۔ چلتے چلتے ایک چھوٹی سی تازہ ترین مثال دیتا چلوں۔ 
یہ پاکستان ہی ہے جہاں عالیہ سومرو جیسے ہزاروں شجر بھی پائے جاتے ہیں جو یہ بار بار ثابت کرتے ہیں کہ ’’یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘۔ گزشتہ دنوں میں نے عالیہ سومرو کا انٹرویو سنا۔ اس نے نہایت نفیس ، ذہین اور احسن طریقے سے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے اپنی کامیابی کا قصہ سنایا۔ میں اس کے ماں باپ کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے آج کے اس افراتفری کے دور میں اپنی بیٹی کی اس طرح پرورش کی ۔ افسوس کہ۔ہمارے ملک میں سوائے کرکٹ کے کسی بھی اسپورٹس کو اس طرح پزیرائی نہیں ملی اور نہ ہی مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو وہ شہرت و عزت ملتی ۔، چاہے وہ جھنڈ، چکوال سے تعلق رکھنے والے اور ’’ایشیا کا پر ندہ‘‘ لقب پانے والے عبدالخالق ہوں،کراچی سے دنیائے ہاکی میں دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے سہیل عباس ہوں، 45سیکنڈ میں چیس بورڈ ارینج کرنے والی اور ویمن کینڈیٹ ماسٹر کا ٹائٹل حاصل کرنے والی مہک گل ہوں، 22سبجیکٹ میں ای گریڈ لینے والے علی معین نوازش ہوں، ارفع کریم ہوں یا اپنی ذاتی کوششوں سے اولمپکس میں واحد گولڈ میڈل دلانے والے ارشد ندیم ہوں اور اس طرح کے ایک نہیں کئی گمنام نام ہیں جنہیں ہم نے کبھی اس صوبائی یا قومی سطح تک سراہا ہی نہیں اور نہ ہی ہمارے اداروں نے نے کبھی کوئی ان پر فلم ہی بنانے کی سوچی، نہ ہی حکومت نے ایسے ناموں کو وہ مرتبہ دیا جو ان کا حق بنتا تھا ،آج یہ ایک بیٹی ہے عالیہ سومرو… جو اپنی مدد آپ سے اوپر آئی۔ ہمیں بحیثیت قوم تو ایسے ناموں کو وائرل کرنا چاہئے جو ملک کا نام عالمی سطح پر روشن ہی نہیں بلکہ تاریخ رقم کرتے ہیں مگر صد افسوس کہ ان کو بنانے، سنوارنے میں ہمارے سپورٹس اداروں کا کوئی کمال نہیں البتہ جب یہ کھلاڑی بن جاتے ہیں تو پھر ایک نہیں کئی ادارے یہ کریڈٹ لیتے ہیں کہ ان کو تو ہم نے تیار تھا۔ ان پر فلاں کوچ یا ادارے نے محنت کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ شوق دا کوئی مل نہیں۔ میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ پاکستان میں کھیلوں کے میدان میں نام پیدا کرنے والے نوے فیصد کھلاڑی اپنی محنت، لگن، ویژن اور اپنے بل بوتے پر اوپر آئے اور نامور ٹھہرے۔ اربوں کھربوں روپے ڈکار نے والے سپورٹس بورڈز اور اولمپکس جیسے سفید ہاتھیوں والوں نے لوٹ مار ضرور کی ہے مگر وہ نہ کھیل کے میدان سجا سکے اور نہ کھلاڑی… یہ ان کے لئے شاید نہ ہو مگر قوم اور حکومت وقت کے لئے لمحہ فکریہ ضرور ہے۔ 

ٹیگز: