فیصل آباد : وفاقی رہنما رانا ثناء اللہ نے فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی ہے، اور وہ اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے کسی بھی حصے پر قبضہ کرنے یا وہاں جنگ مسلط کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
رانا ثناء اللہ نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے دوحہ معاہدے کے مطابق رہا ہے۔ انہوں نے افغان حکومت کو یاد دلایا کہ امن کے لیے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے لیکن وہ خطے میں خونریزی کے بجائے استحکام کا خواہاں ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اسے خطے کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں برادر ملک ایران کے غم میں برابر کا شریک ہے اور ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
خارجہ محاذ پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آج پاکستان کو سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات (UAE) جیسے اہم ممالک کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری سفارت کاری کا مقصد مسلم امہ کے درمیان اتحاد پیدا کرنا اور ملکی معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔