رمضان المبارک کا آج بیسواں روزہ ہے۔ ہر روز صبح سے رات گئے تک میری آنکھ بہت کچھ غلط ملط کام ہوتے دیکھتی ہے اور میں اکثر سوچتا ہوں کہ بحیثیت مسلمان ہم نے کبھی زندگی کے اس مختصر سفر پر چلتے یہ سوچا ہے کہ ہم آخرت بھول کر دنیاوی راستوں پر کدھر جا رہے ہیں۔ کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان خود کو صبح سے رات گئے تک خود کو کتنا سنوارتے ہیں۔ نت نئے فیشن، نت نئے لباس، نئے پرفیوم اور اب تو مرد حضرات بھی باقاعدہ خواتین کی طرح میک اپ کرکے اپنی نمائش کرواتے ہیں۔ کیا زندگی کی اس بے روانی میں ہم نے کبھی اس طرف توجہ دی ہے کہ جس قدر ہم فیشن کرتے ہیں کیا اسی طرح ہمارا اندر کتنا صاف ہے کیا ہم نے کبھی اپنے دل، اپنے ضمیر اور اپنے من کی صفائی کی ہے۔ کیا ہم دوسروں کے بارے میں ہر وقت اچھا سوچتے ہیں؟ اور آپ کسی کے ساتھ کوئی اچھا برا کرتے وقت اپنا معاملہ اپنے رب کی عدالت میں چھوڑتے ہیں کہ وہ واحد عدالت ہے جس کا قانون ایک ہے اور تاقیامت اس قانون میں ترمیم نہیں ہو سکتی۔ یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ ہم دنیاوی زندگی اور بناوٹی کتابوں کو تو بہت پڑھتے ہیں کیا آپ یا ہم سب قرآن پاک کو پڑھنے کے بعد اس کے دیئے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ کیا ہم نے قرآن پاک کو صرف عربی زبان میں پڑھا ہے اور ہماری نسلیں اس کے ترجمے سے ناواقف ہیں۔ گھر سے لے کر آفس تک کیا ہم نے کبھی اپنے حقوق کو جانا ہے۔ دوسرا یہ حقوق العباد ہوتے کیا ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جو حقوق العباد پر عمل پیرا ہیں؟ حقوق العباد بھی تو 24گھنٹے کی نماز ہے۔ کیا میرے سمیت اس نماز کے کتنے فیصد لوگ عادی ہیں۔ بات صرف سوچنے نہیں اندر اتارنے والی ہے۔
یہ چند برس پرانی بات ہے‘ ایک امریکی نو مسلم بندے نے قرآن مجید سے حقوق العباد سے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکامات جمع کئے اور پھر اس نے یہ احکامات پوری دنیا میں پھیلے مسلم سکالرز کو بھجوائے اور ان سب سے نہایت ہی ایک معصومانہ سا سوال کیا ’’ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کے دیئے احکامات پر عمل کیوں نہیں کرتے‘‘۔ صد افسوس کہ ہمارے کئی مسلم سکالرز کے پاس اس کے معصومانہ سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کہ ہمارے رب نے ہمیں قرآن مجید کے ذریعے جو احکامات دے رکھے ہیں‘ ان میں سے کتنے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر پورا اترتے ہیں۔ اب وہ احکامات کیا ہیں جو خدا تعالیٰ نے قرآن پاک میں ہمیں عطاء فرمائے۔ آیئے ایک نظر ان پر دوڑاتے چلیں کہ وہ ہیں کیا…یعنی گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو… غصے کو قابو میں رکھو… دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو… تکبر نہ کرو… دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو… لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو… اپنی آواز نیچی رکھا کرو… دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو‘ والدین کی خدمت کیا کرو… منہ سے والدین کی توہین کا ایک لفظ نہ نکالو… والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو… حساب لکھ لیا کرو… کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو… اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو… سود نہ کھاؤ… رشوت نہ لو… وعدہ نہ توڑو… دوسروں پر اعتماد کیا کرو… سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو… لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو…انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو…مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو…خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں…یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو…یتیموں کی حفاظت کرو… دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو… لوگوں کے درمیان صلح کراؤ… بدگمانی سے بچو… غیبت نہ کرو… جاسوسی نہ کرو…خیرات کیا کرو…غرباء کو کھانا کھلایا کرو…ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو…فضول خرچی نہ کیا کرو…خیرات کر کے جتلایا نہ کرو…مہمانوں کی عزت کیاکرو…نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو…زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو…لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو…صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں…جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو…جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ…مذہب میں کوئی سختی نہیں…تمام انبیاء پر ایمان لاؤ…حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو…کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو…نفاق سے بچو…کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو…عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے…منتخب خونی رشتوں میں شادی نہ کرو…مرد کو خاندان کا سربراہ ہونا چاہیے…بخیل نہ بنو…حسد نہ کرو…ایک دوسرے کو قتل نہ کرو…فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو…گناہ اور شدت میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو…نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو…اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی…صحیح راستے پر رہو…جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو…گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو…مردہ جانور‘ خون اور سور کا گوشت حرام ہے…شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو…جواء نہ کھیلو…ہیرا پھیری نہ کرو…چغلی نہ کھاؤ…کھاؤ اور پیو لیکن اصراف نہ کرو…نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو…آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو‘ انہیں مدد دو…طہارت قائم رکھو…اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو…اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے…لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ…کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا…غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو…جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کا پیچھا نہ کرو…پوشیدہ چیزوں سے دور رہا کرو (کھوج نہ لگاؤ)…اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو…اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے…زمین پرعاجزی کے ساتھ چلو…دنیا سے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے جاؤ…اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو…ہم جنس پرستی میں نہ پڑو…صحیح(سچ) کا ساتھ دو‘ غلط سے پرہیز کرو…زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو…عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں…اللہ شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے…اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو…برائی کو اچھائی سے ختم کرو…فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو…تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے…مذہب میں رہبانیت نہیں…اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے…غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ…خود کو لالچ سے بچاؤ…اللہ سے معافی مانگو‘ یہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے ۔
’’جو شخص دست سوال دراز کرے اسے انکار نہ کرو‘‘۔
اور آخری بات…
اللہ تعالیٰ کے یہ احکامات حقوق العباد ہیں‘ ہم جب تک زندگی کے اس امتحانی پرچے میں پاس نہیں ہوتے،اس وقت تک اللہ کا قرب حاصل نہیں کر سکتے، خواہ ہم پوری زندگی سجدے میں گزار دیں یا پھر خانہ کعبہ کی چوکھٹ پر جان دے دیں‘ آج روزے کے دوران آپ یہ پرچہ چل کریں‘ مارکنگ کریں اور اپنے گریڈز کا فیصلہ خود کر لیں …