Wed, September 16, 2026

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس

پاکستان کی قومی سلامتی ہمیشہ ایک حساس اور پیچیدہ موضوع رہی ہے، خاص طور پر جب ملکی حالات بدل رہے ہوں اور سکیورٹی چیلنجز بڑھ رہے ہوں۔ ایسے میں قومی اسمبلی میں ہونے والے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی اجلاس کا انعقاد ایک انتہائی اہم قدم تھا۔ اس اجلاس میں پاکستان کی بری فوج کے سربراہ اور خفیہ ایجنسیز کے سربراہان نے ارکان پارلیمنٹ کو ملک کو درپیش سکیورٹی کے مسائل اور ان کے پیچھے چھپی ملک دشمن قوتوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ تاہم، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے ممبران کی لسٹ بھجوانے کے باوجود آخری لمحے اس اہم ترین بریفنگ کا بھی بائیکاٹ کر دیا، جس پر مختلف سیاسی، فوجی، اور عوامی حلقوں میں کئی سوالات اٹھے کہ کیا یہ بائیکاٹ صرف ایک سیاسی حکمت عملی یا تحریک کا حصہ تھا یا اس کے پیچھے کچھ اور مخفی وجوہات تھیں؟ آئیے اب حکومت اور سکیورٹی فورسز کی بریفنگ اور پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کے مضمرات پر روشنی ڈالیں۔
فوج کے اعلیٰ افسروں کی اس بریفنگ کا مقصد یہ تھا کہ پارلیمنٹ کے ارکان کو ایک واضح تصویر ملے تاکہ وہ۔لک و قوم کے مفاد میں بہتر فیصلے کر سکیں اور قومی سلامتی کے حوالے سے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ حکومت کی اس کوشش کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بھی بیجا نا ہو گا کہ حکومت نے اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریوں اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ کو اہمیت دی۔ حکومت کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ کسی بھی ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں موجود تمام فریقوں یا سیاسی جماعتوں کو اس میں شامل کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے قومی سلامتی کے معاملے میں ایک ہی صفحے پر ہوں۔
بلا شبہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز، بشمول فوج اور خفیہ ایجنسیز، ملکی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ فوج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے ان کی بے مثال جدوجہد اور قربانیوں نے پاکستان کی داخلی و جغرافیائی سکیورٹی کو مستحکم کرنے میں ہمیشہ سب سے 
اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح، خفیہ ایجنسیز نے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے، انہیں تباہ کرنے اور ملکی اداروں کو درپیش خطرات سے آگاہ کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس بریفنگ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دی گئی معلومات اور تجزیے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ فی الوقت ملک میں سکیورٹی کے حوالے سے سویلین حکومت و سکیورٹی اداروں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں کا بھرپور تعاون اور ملکی و سیاسی قیادت کا یکجہتی کے ساتھ کام کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بریفنگ سکیورٹی اداروں کی صلاحیتوں اور ان کے پروفیشنلزم کا مظہر تھی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز ملکی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہیں۔
اب آتے ہیں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور انکے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی اجلاس کے بائیکاٹ کی طرف جو کہ ایک سیاسی اسٹنٹ کے سوا کچھ اور نا تھا۔ پی ٹی آئی کے اس بائیکاٹ نے سیاسی مبصرین و پنڈتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آیا اس کے بائیکاٹ کا مقصد قومی سلامتی کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے پارٹی کے قائد عمران خان نیازی کی شخصیت کو اولیت دینا تھا۔ کیا شخصیات کی انا، ہٹ دھرمی ملک کی سلامتی سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل تھی؟۔
پی ٹی آئی کا یقینی طور پہ یہ موقف ہو سکتا ہے کہ وہ حکومت کے اقدامات سے متفق نہیں ہیں یا وہ بطور جماعت محسوس کرتی ہے کہ اس اجلاس میں ان کے رہنما عمران خان نیازی کو نا بلا کر انہیں مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ تاہم، سوال یہ بھی ہے کہ جب ملکی سلامتی اور قومی مفاد کا معاملہ ہو تو کیا یہ جواز قابل قبول ہے؟ کیا ایک سیاسی جماعت اپنی سیاسی ترجیحات کو ملکی مفاد سے اہمیت دے سکتی ہے؟ یقینا" پی ٹی آئی نے اس بائیکاٹ کے ذریعے یہ تاثر دیا کہ اس کے لیے عمران خان کی شخصیت اور ان کے معاملات ہی سب سے اہم ہیں، نہ کہ ملک کی سلامتی۔ ان کا یہ عمل اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کا ایجنڈا اس وقت صرف ایک فرد واحد کے گرد گھوم رہا ہے، جو کہ ایک جمہوری و محبت وطن جماعت کی بجائے، شخصیت پرستی کی علامت ظاہر کرتا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی قیادت اپنے پارٹی ممبران کو قومی سلامتی کے اہم اجلاس میں شریک کرنے کی ترغیب اور اجازت دے دیتی تو اس سے نہ صرف اسے سیاسی اعتبار سے فائدہ ہوتا بلکہ یہ ملک کے اتحاد اور یکجہتی کو بھی مضبوط کرتا۔ لیکن پی ٹی آئی کے اس بائیکاٹ نے سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی پیدا کی اور اس بات کو مزید واضح کیا کہ پارٹی کے اندر بھی داخلی مسائل اور قائد کی شخصیت کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ اس بائیکاٹ کے کئی مضمرات ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلا اور اہم اثر یہ ہوگا کہ اس سے عوام کے درمیان یہ تاثر جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی صرف اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ملکی مفاد کو بھی نظرانداز کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ، اس کے بائیکاٹ سے پارلیمنٹ میں موجود دیگر سیاسی پارٹیاں اور اسٹیبلشمنٹ اس سے مزید دور ہو سکتے ہیں، جو کہ ان حالات میں ملکی استحکام کے لیے بھی مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ 
قومی سلامتی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کا بائیکاٹ ایک سنگین سیاسی اور قومی المیہ ہے۔ حکومت نے قومی مفاد کی خاطر ایک اہم قدم اٹھایا، اور سکیورٹی فورسز نے ملکی حالات پر بریفنگ دے کر اپنا کردار ادا کیا۔ تاہم، اس موقعے پہ پی ٹی آئی کا بائیکاٹ ایک سوالیہ نشان چھوڑتا ہے کہ آیا پارٹی نے ذاتی مفادات کو قومی سلامتی سے زیادہ اہمیت دی؟ اس بائیکاٹ کے مضمرات میں ملکی استحکام، سیاسی تناؤ، اور عوام میں عدم اعتماد کے مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کسی بھی قسم کی سیاست بازی نہ ہو۔ وگرنہ اس ملک کے مالک چوبیس کروڑ عوام خود شخصیت پرستوں کا کڑا محاسبہ کریں گے۔ یاد رہے ملک ہے تو سب کچھ ہے۔ سیاسی لیڈر ، سیاسی پارٹیاں اور سب کی پہچان بھی۔ لہذا ان مشکل حالات میں صرف ملک کی سالمیت، شخصیات اور ان کی اناوں سے بہت بالا تر اور اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

ٹیگز: