لوگ بہت کچھ کہتے رہے لیکن وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈمارشل جنرل عاصم منیرکی کوششیں بالاخررنگ لے آئیں۔ کوئی مانے یانہ لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان تاریخی معاہدے نے پاکستان کاسرفخرسے بلندکردیاہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی عمل میں پاکستان کی بطورثالث شرکت یہ صرف ایک سفارتی سرگرمی یاعمل نہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے وقار کی علامت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا طاقت کے توازن، معاشی مفادات اور علاقائی کشمکش کے گرد گھوم رہی ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ذمہ دار سفارت کاری اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی تنازعات کے حل میں موثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ اورایران کے درمیان جنگ کی بھڑکتی آگ کوٹھنڈاکرنے کے لئے پاکستان نے جوکوششیں،رابطے اور پیش رفت کی اس نے پاکستان کودنیاکے سامنے ایک ایسے ملک کے طور پر نمایاں کردیا ہے جو نہ صرف جنگ کی جگہ امن چاہتاہے بلکہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مکالمے اور مفاہمت کوبھی فروغ دیتا ہے۔دنیا کی تاریخ میں ایسے لمحات کم بہت ہی کم آتے ہیں جب جنگ،کشیدگی اور دشمنی کے طویل ادوار کے بعد مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ممکن ہو تا ہو۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی پیش رفت اسی نوعیت کا ایک اہم واقعہ ہے جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی انتہائی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔دوایسے ممالک جوبرسوں سے کسی بات پرمتفق ہونے کے لئے تیارنہیں تھے پاکستان نے دونوں ممالک کوایک میزپرلاکریہ ثابت کردیاہے کہ نیت صاف اوردل ودماغ پرمودی کی طرح جنگی جنون سوارنہ ہوتوآگ اورپانی کوملانابھی ناممکن نہیں۔آج کی دنیا کو جنگوں سے زیادہ مکالمے، تصادم سے زیادہ تعاون اور طاقت کے استعمال سے زیادہ انصاف پر مبنی سفارت کاری کی ضرورت ہے یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ پورے خطے کو پائیدار امن اور استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ کمزور ممالک پرچڑھائی اوردنیامیں جنگیں بہت ہوئی لیکن آج تک آگ اوربارودکے کھیل سے انسانوں کے ہاتھوں میں تباہی کے سواکچھ نہیں آیا۔عراق سے لبنان،شام سے فلسطین اورلیبیاسے افغانستان تک دیکھیں تو اسی جنگی جنون نے نہ صرف امن کوپارہ پارہ کیا بلکہ ہزاروں نہیں لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کاچین اورسکون بھی غارت کردیا۔جنگ زدہ ممالک میں آج بھی انسان سسک سسک اور تڑپ تڑپ کرزندگی گزاررہے ہیں۔ہمارے پیرومرشدبرادرم مولاناخالدقاسمی اکثرکہتے ہیں کہ گلشن کوبربادکرنے میں توایک لمحہ لگتاہے لیکن گلشن کوآبادکرنے میں صدیاں نہیں بلکہ زندگیاں تک گزرجاتی ہیں۔ پاکستان کی کوششوں اورقربانیوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے بعدہونے والی مفاہمت اور مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے نے دنیائے انسانیت میں ایک نئی امید کو جنم دے دیا ہے۔ اب یہ امید کی جا سکتی ہے کہ دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات بھی مذاکرات اور دانشمندانہ سفارت کاری کے ذریعے حل کئے جا سکتے ہیںبشرطیکہ اگر عالمی طاقتیں انصاف، خودمختاری اور انسانی حقوق کے اصولوں کواپنی خودغرضی،ہٹ دھرمی اورتھانیداری پر مقدم رکھیں۔ پاکستان کی طرح اگر عالمی طاقتیں بھی چاہیں کہ دنیا کے اندرامن اور سکون قائم ہو تو نہ صرف بے گناہ انسانوں کے خون سے سرخ فلسطین بلکہ پورا مشرق وسطیٰ امن، ترقی اور استحکام کی نئی منزلوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت نے اس حقیقت کودنیاکے سامنے آشکارہ کر دیا ہے کہ شدید ترین دشمنی بھی مذاکرات کے ذریعے کم کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں جوجوش، جذبہ اورکوشش امریکہ ایران تنازع کے دوران کی گئی اگر یہی جذبہ اورکوششیں فلسطین، لبنان اور دیگر علاقائی تنازعات کے حل کے لئے بھی اختیار کی جائیں تو مشرق وسطیٰ میں امن کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ عالمی طاقتوں باالخصوص امریکہ کوخطے میں پائیدارامن کے لئے اسرائیل کی بھی خیرخبرلینی چاہئے۔مشرق وسطیٰ میں بدامنی اورگناہوں کی بہت سی جڑیں اسرائیل کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔پوری دنیاجانتی ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی مسئلے کے مستقل اور منصفانہ حل کے بجائے طاقت کے استعمال، فوجی کارروائیوں اور یکطرفہ اقدامات کو ترجیح دی ہے۔ جب بھی کسی جامع اور سیاسی تصفیے کی بات سامنے آتی ہے تو اسرائیل اس کی راہ میں رکاوٹ بننے لگتاہے۔ امریکہ اورایران کے درمیان مفاہمت اورمعاہدے سے خطے میں امن کی ہوائیں ضرورچلنے لگی ہیں لیکن دنیاکویہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ غزہ، مغربی کنارے اور القدس کے مسائل آج بھی مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے اگر فلسطینی عوام کے سیاسی، انسانی اور قومی حقوق کو تسلیم کئے بغیراسی طرح صرف عسکری حکمت عملی اختیار کی جاتی رہی تو خطے میں دیرپا امن کا قیام یقینا مشکل رہے گا۔ اس لئے امریکہ اورایران کے درمیان راضی نامہ کرانے کے بعددنیاکواسرائیل کاکوئی شافی اورکافی علاج کرانے کے لئے بھی کچھ کرنا چاہئے تاکہ دنیاکے اندرحقیقی معنوں میں امن کاقیام ممکن ہوسکے۔