Wed, September 16, 2026

کیا اسرائیل امریکہ کے بغیر جی سکتا ہے؟

 کیا اسرائیل امریکہ کے بغیر جی سکتا ہے؟

تصور کیجیے کوئی بچہ، جو پیدائش سے لے کر جوانی تک اپنے سب سے مضبوط سہارے کی انگلی تھامے چلتا رہا ہو، ایک دن اچانک اعلان کر دے کہ اب اسے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ سننے میں یہ بات بڑی خوداعتمادی اور بہادری کی معلوم ہوتی ہے، مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ الفاظ کہنا اور اس پر عمل کر دکھانا، دو الگ چیزیں ہیں۔ کچھ ایسا ہی منظر ان دنوں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک ایسا بیان دیا ہے ،جو نہ صرف معمول سے ہٹا ہوا ہے بلکہ خود اسرائیل کی اپنی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی روایتی سوچ سے بھی مختلف دکھائی دیتا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اب لازماً خود انحصاری کی راہ اپنانا ہو گی اور امریکی اسلحے و ہتھیاروں پر انحصار سے بتدریج آزادی حاصل کرنا ہو گی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوجی امداد کا موضوع زیرِ بحث تھا، ایسی امداد جس کا مجموعی حجم تقریباً 53 ارب ڈالر بنتا ہے، جبکہ صرف سالانہ امداد کی مالیت 8 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اسی پس منظر میں نیتن یاہو کا کہنا تھا: اب ہم ایران اور اس کی پراکسیز کے خلاف کھڑے ہیں، لیکن یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہم کتنے مضبوط اور مستحکم ہیں اور اگلے تیس برسوں میں ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔
یہ بیان محض ایک اتفاقی جملہ نہیں بلکہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب نیتن یاہو کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ سیاسی اختلافات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ اختلافات ایران کے خلاف جاری کشمکش اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال ازخود ابھر آیا ہے کہ کیا اسرائیل واقعی امریکہ کے بغیر اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے؟ اور اگر یہ سوال محض سیاسی مباحثے تک محدود نہ رہے بلکہ فوجی و سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے تو جواب کہیں زیادہ پیچیدہ نظر آتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سوال بالکل نیا نہیں۔ 2017 میں اسرائیل کے سابق نائب مشیرِ سلامتی چارلس فریلیچ نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی تھی، جس کا عنوان ہی یہی تھا: کیا اسرائیل امریکہ کے بغیر قائم رہ سکتا ہے؟ یہ رپورٹ بعد ازاں اسرائیلی سلامتی کے حلقوں میں ایک اہم حوالہ بن گئی۔ فریلیچ نے لکھا تھا کہ جو لوگ امریکہ سے آزادی کے خواہاں ہیں، انہیں اپنی اس خواہش کے نتائج پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ فریلیچ کے مطابق امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے، جو اس قدر کھلے عام اور گہرے انداز میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ یہ تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے اور صرف مالی امداد تک محدود نہیں، بلکہ اس میں انٹیلی جنس تعاون، سفارتی پشت پناہی اور عالمی اداروں کے ذریعے تحفظ شامل ہے۔معاشی اعتبار سے شاید کوئی متبادل تلاش کیا بھی جا سکے، مگر اصل مسئلہ وسائل کی کمی بیشی کا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کا ہے۔ اسرائیل کے بیشتر فضائی نظام آج بھی امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرتے ہیں، جیسے ایف۔35 جنگی طیارے، ان کے اضافی پرزے، جدید گولہ بارود، انجن، اور جدید فوجی مواصلاتی نظام۔ حتی کہ اسرائیل کی اپنی فوجی صنعت، جسے دنیا کی جدید ترین صنعتوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاریخی طور پر امریکی مدد اور شراکت داری کی بنیاد پر ہی کھڑی ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ امریکہ سے الگ رہ کر حاصل نہیں کیا گیا۔
امریکہ نے سلامتی کونسل میں درجنوں مرتبہ اپنا ویٹو استعمال کر کے اسرائیل کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے زیرِ اثر ممالک اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں اسرائیل کو یہ سیاسی چھتری فراہم نہ کرتے، تو نہ صرف اسرائیل کی عالمی تنہائی اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی بلکہ اس کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں میں بھی خاطر خواہ کمی نہ آتی۔ دنیا کا کوئی اور ملک اسرائیل کو ایسی محفوظ پناہ فراہم نہیں کر سکتا جیسی امریکہ نے فراہم کر رکھی ہے۔
چارلس فریلیچ نے تو یہاں تک لکھا کہ امریکہ محض اسرائیل کا اتحادی نہیں بلکہ اس کے دفاع اور تحفظ کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اسرائیل کے دشمن جب بھی حساب لگاتے ہیں، وہ صرف اس کی فوجی و معاشی قوت کا اندازہ نہیں کرتے بلکہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ اگر امریکہ سیاسی یا فوجی سطح پر میدان میں کود پڑا تو مشکلات کہیں بڑھ جائیں گی۔
اس پورے پس منظر میں دیکھا جائے تو نیتن یاہو کے تازہ ریمارکس کی اہمیت کسی قابلِ عمل تزویراتی منصوبے سے کہیں زیادہ سیاسی نوعیت کی معلوم ہوتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اسرائیل نے حالیہ برسوں میں اپنی فوجی صنعت کو مقامی وسائل اور ایجادات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے اور دنیا میں ایک بڑی ہتھیار ساز اور برآمد کنندہ قوت کے طور پر اپنی شناخت بھی بنائی ہے۔ حالیہ جنگوں میں اسرائیل نے کافی حد تک اپنا مقامی ساختہ اسلحہ اور دفاعی ٹیکنالوجی استعمال کی اور بیرونی انحصار میں بھی نسبتاً کمی لائی۔ مگر مکمل خود انحصاری کا ہدف اب بھی بہت دور کی بات ہے اور اس کی وجہ اسرائیل کی کمزوری نہیں بلکہ جدید فوجی صنعت کی وہ پیچیدہ نوعیت ہے، جس کا سامنا آج بڑی سے بڑی طاقتوں کو بھی ہے۔ ہتھیاروں اور اسلحے کی سپلائی چین اتنی الجھی ہوئی ہے کہ اس سے مکمل آزادی حاصل کرنا کسی ایک ملک کے لیے، چاہے وہ کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو، آسان کام نہیں۔ اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ہتھیاروں کے میدان میں امریکی احتیاج سے نکلنے کی بات دراصل امریکہ سے مکمل دوری اختیار کرنے کی خواہش نہیں، بلکہ امریکہ کے ساتھ موجودہ تعلقات کی ”ری سٹرکچرنگ“ کی خواہش ہے۔
نیتن یاہو کے اس بیان کے کئی مطلب نکالے جا سکتے ہیں۔ شاید وہ اپنی مذاکراتی پوزیشن کو بہتر بنانا چاہتے ہوں، یا اپنے عوام کو ایک سیاسی نعرہ دینا چاہتے ہوں کہ وہ اسرائیل کو کتنا بڑا اور خودمختار دیکھنا چاہتے ہیں، تاکہ عوام ان کا ساتھ دیں۔ بہرحال جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ کسی ایسی حد کو عبور نہیں کرتا جسے ناقابلِ قبول قرار دیا جائے۔ اسی لیے کسی کو بھی اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کوئی حقیقی فاصلہ پیدا ہو چکا ہے۔البتہ اصل سوال اپنی جگہ حقیقت پر مبنی ہے: اگر اسرائیل واقعی امریکہ کے بغیر اکیلے پرواز کرنا چاہتا ہے، تو کیا وہ اس کی قیمت چکانے کی پوزیشن میں ہے؟ کم از کم مستقبلِ قریب میں ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ جب عقل غارت ، کان بند اور دہن بے قابو ہو جائے تو ایسے ایسے بیانات سامنے آنا کوئی حیران کن نہیں ۔

ٹیگز: