Wed, September 16, 2026

ثالثی یا مذاکرات کی کامیابی فیصلہ کن جنگ سے مشروط

ثالثی یا مذاکرات کی کامیابی فیصلہ کن جنگ سے مشروط


جنگ تاریخ انسانی کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں ہے۔ ہم تہذیب انسانی کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تمدنی ارتقاءاور تہذیبی اثرپذیری کا جنگ کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ سائنسی ایجادات کی تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ انسان نے اعلیٰ درجے کی ایجادات عسکری ضروریات کے پس منظر میں کی ہیں۔ غالب اقوام و تہذیبیں عسکری طور پر اپنی برتری ثابت کر کے ہی اس مقام تک پہنچتی رہی ہیں۔ عصر حاضر کی غالب و حکمران مملکت ریاست ہائے متحدہ امریکہ صف اول میں اسی وجہ سے ہے کہ وہ فیصلہ سازی کرنے میں ہی نہیں بلکہ فیصلوں کو نافذ العمل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ امریکہ عالمی معیشت میں انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی معیشت کا حجم اور قدر عالمی معیشت پر غالب و نمایاں ہے، اس کی معیشت کا تعلق اس کی عسکریت کے ساتھ ہے۔ امریکہ معاشی و سفارتی طور پر اعلیٰ اور ارفع اس لئے ہے کہ اس کی حربی و ضربی صلاحیت بھی دنیا میں نمایاں اور غالب ہے۔ امریکی غلبے سے پہلے برطانیہ عظمیٰ بھی اسی مقام پر فائز تھا، اس کی سلطنت کا پھیلاﺅ شرقاً غرباً اس قدر تھا کہ اس میں سورج ایک طرف نکل رہا ہوتا تھا تو دوسری طرف طلوع ہو رہا ہوتا تھا۔ اس قدر وسیع جغرافیے نے انہیں معاشی غلبہ بھی عطا کر رکھا تھا۔ برطانوی نیول فورس دنیا کے سمندروں پر بھی غالب اور حکمران تھی۔ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کو کامیابی نہیں ملی ہے۔ ایران نے 45سالہ عالمی پابندیوں کے باوجود اپنے دفاع کو قائم و دائم رکھا ہوا ہے۔ ہرمز پر قبضہ ایران کی ایسی حکمت عملی ہے جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ نے ایران پر قہر نازل کر دیا ہے۔ تباہی مچا دی ہے لیکن وہ ایرانی راکٹوں، میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے۔ ایران کے پاس آپشنز ہی نہیں ہیںوہ صرف لڑ کر ، دفاع کر کے نہیں بلکہ نقصان پہنچا کر اپنا دفاع کر رہا ہے، اس کی ایسی حکمت عملی نے مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی شدید منفی اثرات مرتب کرنے شروع کر رکھے ہیں۔ باب المندب کی بندش جاری بحران میں جلتی پر تیل کا کام کرے گی۔ ایران آخری حربے کے طور پر یہ بھی کر گزرے گا۔ سردست ثالث ایک بار پھر میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ جنگ بندی کی کاوشیں کی جانے لگی ہیں۔ ایرانی وزیر داخلہ، ایرانی صدر بزشکیان کا خصوصی پیغام لئے یہاں پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ بات چیت شروع ہو چکی ہے، ممکن ہے جنگ بندی ہو بھی جائے لیکن معاملات میں استحکام اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک کوئی ایک فریق حتمی طور پر فاتح یا مفتوح کے مقام تک نہیں پہنچ جائے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ فیصلے ہمیشہ میدان جنگ میں ہوتے ہیں۔ قوموں کی تقدیر، تہذیبوں کے عروج و زوال کے فیصلے طاقت کے ذریعے ہی ہوتے ہیں۔ یہ طاقت عسکری بھی ہو سکتی ہے اور فکری و نظری بھی۔ ذہنی صلاحیت بھی ایک طاقت ہوتی ہے۔ یہ میدان جنگ میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے اور فتح یا شکست کا فیصلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ حالات حاضرہ میں دیکھ لیںایران جیسا کمزور ملک، 45سالوں سے پابندیوں کا شکار ملک کس طرح دنیا کی طاقتور ترین قوم کے ساتھ نبرد آزما ہے۔ امریکہ حربی و ضربی اور معاشی و سفارتی طاقت رکھنے کے باوجود ایران کو جھکانے میں ناکام نظر آرہا ہے، اس کی بڑی وجہ امریکی قیادت کی ذہنی استعداد ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت ہے۔ حربی اور ضربی طاقت رکھنے کے باوجود ایران کو جھکا یا نہیں جا سکا تو اس کی کئی ایک وجوہات میں سے ایک وجہ ان کی قومی قیادت کی، امریکی قیادت پر ذہنی و فکری برتری ہے ویسے اخلاقی اعتبار سے بھی ایران کو برتری حاصل ہے کیونکہ وہ جارح نہیں ہے۔ وہ اپنے وطن اور قومی سلامتی کا دفاع کر رہا ہے، اس کا مقصد اعلیٰ و ارفع ہے۔ امریکہ بہت بڑی اسلحی طاقت رکھنے کے باوجود، ایران پر فتح نہیں پا سکا ہے۔ ایران نے 
راکٹوں، میزائلوں اور ڈرونز کے حیرت انگیز استعمال کے ذریعے ابھی تک جنگ کا توازن اپنے حق میں قائم کر رکھا ہے۔ امریکی حواریوں پر خوف و ہراس طاری ہے۔ مشرقِ وسطیٰ تباہی و بربادی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ امریکی فوجی اڈے ویران ہو چکے ہیں، سرمایہ کار اڑ چکے ہیں۔ معاشی بدحالی نے یہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ عربوں کی معیشت تیل کی تجارت سے وابستہ ہے اور ایران نے اسی کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بعد اگر ایران حوثیوں کے ذریعے باب المندب بھی بند کر دیتا ہے تو خطے کی 50فیصد تیل کی ترسیل خطرات کا شکار ہو جائے گی۔ عالمی منڈی میں تیل کی تجارت کا 50فیصد انہی دو راستوںسے گزر کر اپنی منازل تک پہنچتا ہے۔ ابھی ہرمز بند ہے تو تیل کی قیمت ریکارڈ قائم کرنے جا رہی ہے۔ اگر باب المندب پر بھی لاک لگ گیا تو سوچئے تیل کی قیمت کہاں جا پہنچے گی۔ روس، یوکرائن جنگ نے پہلے ہی عالمی توانائی مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کر رکھے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کا بحران جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ حالات ٹھیک نہیں ہیں اور ان کی سمت بھی درست نظر نہیں آرہی ہے۔ ہر روز بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی معیشت پر دباﺅ بڑھ رہا ہے۔ تیل عالمی معیشت میں بنیادی عامل ہے، اس کی قیمت میں ردوبدل اور ترسیل کے معاملات عالمی معیشت پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور ظاہر ہے ایران، امریکہ جنگ کے اثرات منفی ہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ درست لائحہ عمل کیا ہو سکتا ہے؟ میرے خیال میں نیتن یاہو کی سوچ درست ہے کہ جنگ جاری رہنی چاہئے کیونکہ فیصلے میدان جنگ میں ہی طے پاتے ہیں اور جو فیصلے میدان جنگ میں ہوتے انہیں تحریر مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کیا جاتا ہے۔ سردست ثالثی کے نتیجے میں جنگ بند ہو جائے گی۔ پہلے بھی ہوئی تھی لیکن یہ پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکی اور اب بھی نہیں بنے گی کیونکہ ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ میدان جنگ میں کوئی بھی فریق فیصلہ کن پوزیشن حاصل نہیں کر سکا ہے، اس لئے ابھی ثالثی یا مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوں گے۔ جنگ ہو کر رہے گی، حتمی فیصلہ ہونے تک جنگ جاری رہے گی حتیٰ کہ فیصلہ ہو جائے پھر ثالثی اور مذاکرات کے ذریعے فیصلہ لکھا جائے گا۔

ٹیگز: