Wed, September 16, 2026

صاف ستھرا پنجاب، مگرورکر پریشان!

صاف ستھرا پنجاب، مگرورکر پریشان!


پنجاب میں ”صاف ستھرا پنجاب“ پروگرام بلاشبہ ایک قابلِ تعریف منصوبہ ہے۔ صاف سڑکیں، چمکتے بازار، کوڑے سے پاک گلیاں اور بہتر شہری ماحول ہر شہری کی خواہش ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس مقصد کے لیے اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے، جدید مشینری خریدی، صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور عوام کو صاف ماحول فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ لیکن ہر منصوبے کی اصل طاقت وہ انسان ہوتے ہیں جو میدانِ عمل میں اپنی محنت سے خوابوں کو حقیقت بناتے ہیں۔ ”صاف ستھرا پنجاب“ کے وہ ہزاروں ملازمین، جو روزانہ سورج نکلنے سے پہلے جھاڑو ہاتھ میں لیے سڑکوں پر آ جاتے ہیں، اس منصوبے کی اصل بنیاد ہیں۔ اگر یہی ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہوں، اگر ان کے گھروں کے چولہے بجھ رہے ہوں، اگر ان کے بچے فیس نہ 
ہونے کی وجہ سے سکول چھوڑنے پر مجبور ہوں، اگر ان کی بیمار مائیں دوائی کے انتظار میں ہوں اور اگر وہ خود قرض کے بوجھ تلے دبے ہوں، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف شہر صاف ہونا کافی ہے یا ان لوگوں کی زندگیاں بھی صاف، محفوظ اور باوقار ہونی چاہئیں جو یہ صفائی ممکن بناتے ہیں؟ یہ کالم کسی حکومت یا شخصیت پر تنقید کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے طبقے کی آواز بننے کی کوشش ہے جو اکثر اپنی فریاد بلند نہیں کر پاتا۔ اگر واقعی ”صاف ستھرا پنجاب“ کے بعض ملازمین کو بروقت تنخواہیں نہیں مل رہیں، تو یہ معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
ایک صفائی ملازم کی زندگی شاید ہم میں سے بہت کم لوگوں نے قریب سے دیکھی ہو۔ وہ صبح اندھیرے میں گھر سے نکلتا ہے، شدید گرمی، یخ بستہ سردی یا موسلا دھار بارش میں بھی اپنی ڈیوٹی 
انجام دیتا ہے۔ لوگ اس کے پاس سے گزر جاتے ہیں، شاید ہی کوئی اس کی محنت کو محسوس کرے۔ اگر یہی ملازم ایک دن کام پر نہ آئے تو پورا شہر اس کی کمی محسوس کرنے لگتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جس معاشرے کی صفائی اس کے کندھوں پر ہو، اسی معاشرے میں وہ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ تنخواہ صرف چند نوٹوں کا نام نہیں ہوتی بلکہ ایک مزدور کے لیے عزت، خودداری اور زندگی کا سہارا ہوتی ہے۔ اسی سے زندگی کے تمام امور نمٹائے جاتے ہیں۔ جب یہی تنخواہ ہفتوں یا مہینوں تاخیر کا شکار ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ملازم تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خاندان ذہنی، معاشی اور سماجی دباو¿ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمارا مذہب بھی مزدور کے حقوق پر غیر معمولی زور دیتا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ 
محترمہ مریم نواز شریف نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے بعد متعدد عوامی منصوبوں کا آغاز کیا۔ ان کی کوشش رہی ہے کہ پنجاب ترقی کرے، عوام کو بہتر سہولیات ملیں اور حکومتی کارکردگی نمایاں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان تک یہ مسئلہ اپنی اصل صورت میں پہنچے تو امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ضرور اس کا نوٹس لیں گی۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ اعلیٰ قیادت کے اچھے ارادوں کے باوجود نچلی سطح پر انتظامی غفلت، سست روی یا بدعنوانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیتی ہے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اگر فنڈز جاری ہو چکے ہیں تو تنخواہوں میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ کیا مسئلہ ٹھیکیداری نظام میں ہے؟ کیا متعلقہ افسران کی غفلت ذمہ دار ہے؟ کیا مالیاتی رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں؟ اگر ان سوالات کے جواب تلاش نہ کیے گئے تو مسئلہ ہر ماہ جنم لیتا رہے گا۔ صفائی کرنے والے ملازمین کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں، وہ صرف رزقِ حلال کمانے والے لوگ ہیں۔ ان کی محنت کے نتیجے میں شہروں کی خوبصورتی برقرار رہتی ہے۔ اگر یہ لوگ کام روک دیں تو بڑے بڑے شہر چند دنوں میں کچرے کے ڈھیر بن جائیں۔ ریاست اور حکومت کی اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب سب سے کمزور طبقہ بھی خود کو محفوظ محسوس کرے۔ اگر ایک محنت کش اپنے بچوں کو یہ یقین دلا سکے کہ مہینے کے آخر میں تنخواہ ضرور ملے گی تو یہی اس کے لیے سب سے بڑی خوشی ہے۔ لیکن جب وہ خود غیر یقینی کا شکار ہو تو اس کی زندگی مسلسل اضطراب میں گزرنے لگتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب ایک ایسا شفاف نظام قائم کرے جس میں صفائی ملازمین کی تنخواہیں مقررہ تاریخ پر خودکار طریقے سے ان کے بینک اکاو¿نٹس میں منتقل ہوں۔ اس عمل کی نگرانی کے لیے مو¿ثر مانیٹرنگ، شکایتی نظام اور جوابدہی کا واضح طریقہ کار بھی ہونا چاہیے تاکہ کوئی بھی ملازم اپنے حق کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور نہ ہو۔
محترمہ مریم نواز شریف سے مو¿دبانہ گزارش ہے کہ اگر ”صاف ستھرا پنجاب“ کے ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر ہو رہی ہے تو فوری تحقیقات کرائی جائیں۔ واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ کے لیے ایسا نظام بنایا جائے جس میں کسی مزدور کو اپنے حق کے لیے فریاد نہ کرنا پڑے۔ یاد رکھیے، حکومتیں صرف منصوبوں سے نہیں بلکہ انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔ عوام صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے مطمئن ہوتے ہیں۔ ایک غریب مزدور کی دعا کسی بھی حکمران کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہو سکتی ہے، جبکہ ایک مظلوم کی آہ تاریخ میں ہمیشہ گونجتی رہتی ہے۔

ٹیگز: