Wed, September 16, 2026

تیل کی قیمت میں اضافہ اور مہنگائی

تیل کی قیمت میں اضافہ اور مہنگائی

پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 36 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 37 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا اس طرح وطنِ عزیز میں پیٹرول کی قیمت 273 روپے اور ڈیزل کی قیمت 285 روپے فی لٹر پر پہنچ گئی ہے جو کہ کم آمدنی والے طبقے کے لئے سوہانِ روح ہے۔ اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنا قرار دیا جا رہا ہے جب اصل حقیقت یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس قدر بڑھنے کی بنیادی وجہ پیٹرولیم لیوی، کسٹم ڈیوٹی، کاربن لیوی، ڈیلر کمیشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیز کا مارجن اور ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن کی مد میں صارفین سے تقریباً 115 روپے پیٹرول پر اور ڈیزل پر 111 روپے فی لٹر وصول کئے جا رہے ہیں۔ حکومت تیل کی قیمتوں میں اضافہ تو کر دیتی ہے شائد اس کے اثرات سے بے خبر ہے کہ اس کے بعد کون کون سی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ یکم جولائی تیل کی قیمت بڑھنے کے حوالے سے کہا یہی جا رہا ہے کہ ایران اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا اور اسی دوران پاکستان نے تیل خریدنے کے سودے کئے تھے اور اب اس کے اثرات عوام پر منتقل کئے جا رہے ہیں جب کہ تیل کی قیمتیں کچھ ہی روز میں واپس اپنی 60 ڈالر فی بیرل کی قیمت پر واپس آ گئی تھیں یعنی نالائقی کا بوجھ عوام کے کاندھوں پر۔ 
تیل کی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ سے مربوط کیا گیا ہے، عالمی مارکیٹ میں جب بھی تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے اور حکومت بری الذمہ ہو جاتی ہے اور جب بھی تیل کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو حکومت اس کا پوری طرح فائدہ عوام کو پہنچانے کی بجائے ان مصنوعات پر ٹیکسوں کی مد میں اضافہ کر کے خود اپنے خزانے کو بھرنے کی کوشش کرنے لگ جاتی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات پر مختلف طرح ٹیکس لگائے جاتے ہیں جن میں پیٹرولیم لیوی، کاربن لیوی، کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی، ویٹ اور طرح طرح کے سیس شامل ہیں۔ انٹر نیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل، امپورٹ کرنے کا کرایہ 2.16 ڈالر فی بیرل، بینک کے ایل سی چارجز 9 فیصد، انشورنس چارجز وغیرہ ٹوٹل 2.01 ڈالر فی بیرل، وارفیج چارجز 2.0 فیصد 1.25 ڈالر فی بیرل، آئل کمپنیز مارجن 0.90 فیصد 1.10 فی بیرل، ریفائننگ چارجز 1.2 ڈالر فی بیرل یہ سب ملا کر ٹوٹل  68.82ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ ایک بیرل میں 159 لٹر ہوتے ہیں۔ اس طرح حکومت کو پیٹرول 123 روپے فی لٹر پڑتا ہے, اس طرح تمام جائز ٹیکس ڈال کر حکومت کو زیادہ سے زیادہ فی لٹر 225 روپے فی لٹر میں فروخت کرنا چاہئے جو کہ 273 ر وپے فی لٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں کمی کا اثر پیداواری اور زرعی شعبے کی خوشحالی کی صورت میں ظاہر ہو سکتا تھا لیکن ملک میں ایسے کاروباری کارٹلز سرگرم ہیں جو اشیاء کے نرخ مقرر کرنے کے حوالے سے حکومتی اتھارٹی کو مسلسل چیلنج کرتے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ حالیہ دنوں میں چینی کی وافر موجودگی کے باوجود ان کے نرخ بڑھتے رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی صرف وافر دستیابی ہی ضروری نہیں ہے بلکہ حکومت اور اس کے اداروں کو ایسا مٔوثر نظام تشکیل دینے کی بھی ضرورت ہے جس سے نرخوں پر کنٹرول رہے اور ان کارٹلز اور مافیاز کو سخت سزائیں مل سکیں جو ناجائز منافع خوری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت قیمتوں میں کمی لانے کے لئے اقدامات عمل میں لائے اور صوبوں میں مارکیٹ پرائسنگ کا جائزہ لے کراسے بہتر بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان عوامل کو کنٹرول کرنے کی کوشش بھی کی جائے جو اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے سے محض جزوی کامیابی حاصل کی جا سکے گی کیونکہ وہ عوامل اسی طرح کارفرما ہوں گے جو اشیائے صرف کی گرانی کا سبب بنتے ہیں تو قیمتیں کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ذرائع آمد و رفت مہنگے ہونے سے اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ مختلف اشیاء کی نقل و حرکت کے لئے بھی عام طور پر یہی ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں لیکن حکومت انہی ذرائع کو مہنگا کرتی چلی جا رہی ہے جس کی ایک مثال پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا بے تحاشا اضافہ ہے۔ چونکہ کاشتکاری کا زیادہ تر کام ڈیزل پر منحصر ہوتا ہے۔ سینچائی سے لے کر نقل و حمل تک ڈیزل سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے کسان بھی پریشانی کا شکار ہیں۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے کاشتکاری کی لاگت بہت بڑھ جائے گی۔ اس طرح کھاد کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔ زرعی لوازمات کے نرخوں میں اضافہ بھی کھانے پینے کی اشیاء مہنگا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جن کی تیاری کے کسی بھی مرحلے میں اس کا بطور ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ بات سو فیصد یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ جب تک توانائی کے ان ذرائع کے نرخوں میں مناسب کمی نہ لائی جائے گی اس وقت تک مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ دوسرا انتظامی شعبے میں پائی جانے والی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی وجہ سے بھی مہنگائی روز افزوں ہے۔ اشیاء کے معیار اور قیمتوں پر نظر رکھنے والے ادارے اور افراد اپنا حصہ وصول کر کے ایک طرف ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف صارف اور دکاندار آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں جس میں صارف کی شنوائی کہیں نہیں ہوتی۔ 
گزشتہ حکومت کے دور میں مہنگائی بڑھنے پر مسلم لیگ (ن) نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا اور ان کا دعویٰ تھا کہ وہ برسرِ اقتدار آ کر مہنگائی کم کریں گے لیکن آج ان کی حکومت بنے تین سال سے زائد ہو چکے ہیںمہنگائی کم ہونے کی بجائے تیزی سے بڑھتی جار ہی ہے۔ دیگر چیزیں جو مہنگی ہو رہی ہیں وہ اپنی جگہ روزمرہ کے استعمال کی چیزیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ گزشتہ 3 برسوں میں مہنگائی تین سو فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ موجودہ دورِ حکومت میں مہنگائی کے عفریت نے جس تیزی سے عوام کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس کے پیشِ نظر یوں لگتا ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی قانون ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ جو حسبِ منشا مصنوعات کے نرخ بڑھانے والوںاور ذخیرہ اندوزوں کی پکڑ کر سکے۔ حکومت نے خود بھی مہنگائی کو مہمیز دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اگر قیمتوں پر کنٹرول نہ کیا گیا تو حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

ٹیگز: