Wed, September 16, 2026

پاکستان کی سیاسی تاریخ اور شریف خاندان

پاکستان کی سیاسی تاریخ اور شریف خاندان


 پاکستان کی سیاسی تاریخ شریف خاندان کے تذکرہ کے بغیر نامکمل تصور کی جاتی ہے۔ یہ خاندان گزشتہ 45برس کے دوران پاکستان کی سیاست کے کئی نشیب و فراز دیکھ چکا ہے۔ ایک طرف اس نے اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک رسائی حاصل کی تو دوسری طرف قیدوبند اور جلاوطنی کی زندگی بھی گزاری۔ اس فیملی کے عروج و زوال، مقدمات اور عوامی حمایت نے ملکی سیاست کو نمایاں طور پر متاثر کیا ۔ اس خاندان کے اہم ترین فرد میاں محمد نواز شریف نہ صرف تین بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے بلکہ انہیںدو بار ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس فیملی کے دوسرے اہم فرد میاں محمد شہباز شریف اس وقت دوسری بار وزیراعظم جبکہ تین بار پنجاب کے وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں ۔ شریف فیملی سے مریم نواز کو پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ میاں حمزہ شہباز بھی وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں۔
 شریف فیملی کے سربراہ میاں محمد شریف کا جنرل ضیاءالحق سے قریبی تعلق رہا ۔ 1981ءمیں جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں ہی میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر خزانہ اور بعدازاں1985ءمیں وزیر اعلیٰ بنے۔1988ءکے اتخابی نتائج کے بعد دوسری بار پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہو ئے۔ 1990ءکے عام انتخابات کے بعد اسلامی جمہوری اتحاد نے کامیابی حاصل کی تو میاں نواز شریف پہلی بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے ۔ 1997ءکے انتخابات میں دو تہائی سے زائد اکثریت لیکر میاں نواز شریف ملک کے طاقتور وزیراعظم بن گئے اور اس وقت کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ دوسری بار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے میاں نواز شریف کی حکومت کا محض اڑھائی سال بعد ہی تختہ الٹ دیا جائیگا۔ان انتخابات کے بعد میاں محمد شہباز شریف پہلی بار پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔ 12اکتوبر 1999ءکو جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کر کے انہیں پابند سلاسل کر دیا۔ نواز شریف کو پہلے راولپنڈی پھر ملیر جیل اور اس کے بعد اٹک قلعہ میں قید رکھا گیا۔ میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز نے مزاحمتی سیاست کا آغاز کیا لیکن رفتہ رفتہ میاں نواز شریف کے قریبی رفقا بھی ان کاساتھ چھوڑ تے گئے۔ دہشت گردی، طیارہ ہائی جیکنگ ، اقدام قتل اور بد عنوانی کے الزامات کے تحت میاں نواز شریف کو عمر قید اور 14سال قید کی سزائیں سنا دی گئیں۔ بعدازاں ایک مبینہ معاہدہ کے تحت شریف فیملی کو جلاوطن کر دیا گیا اور10 دسمبر 2000 ءکومیاں نواز شریف فیملی سمیت سعودی عرب چلے گئے۔ نواز شریف نے 2008 ءکے عام انتخابات سے پہلے لندن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت کیا ۔ 10 ستمبر 2007 ءکو انہوں نے پاکستان آنے کی کوشش کی لیکن ایئر پورٹ سے ہی واپس بھجوا دیا گیا۔ دوسری بار 25 نومبر 2007 ءکو لاہور کی سر زمین پر اترے تو لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا ۔ 2008ءکے انتخابات میں میاں نواز شریف کوحصہ لینے کی اجازت نہ ملی تاہم ان کی جماعت نے وفاق میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی جبکہ پنجاب میں حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوگئے اور میاں شہباز شریف دوسری بار صوبہ کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ 2013ءکا انتخابی بگل بجا تو میاں محمد نواز شریف بھی عملی سیاست میں دوبارہ اِن ہو گئے اور انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا ، ان انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے وفاق اور پنجاب میں کامیابی حاصل کر لی ۔13 سال 7 ماہ اور 18 دن بعد میاں نواز شریف نے بطور رکن اسمبلی پارلیمنٹ ہاﺅس میں داخلے کے ساتھ تیسری بار وزیر اعظم بن کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔14 ماہ کال کوٹھڑی کی قید،6 سال اور11 ماہ سے زائد کی جلا وطنی اور وطن واپسی پر 5 سال 6 ماہ کی سیاسی جدوجہد کے بعد میاں نواز شریف ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے جبکہ صوبہ پنجاب میں میاں شہباز شریف تیسری بار وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہو گئے۔ 28جولائی 2017ءکو پانامہ کیس میں سزا سناتے ہوئے عدلیہ نے میاں محمد نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کیلئے نا اہل قرار دیدیا۔ 21فروری 2018ءکو سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ کے ذریعے میاں نواز شریف کو مسلم لیگ(ن) کی صدارت کیلئے بھی نا اہل قرار دیدیا۔ ان فیصلوں کے بعد میاں شہباز شریف پارٹی کے صدر اور شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے ۔میاں نواز شریف کیلئے ابتلا کا دور یہیں ہی ختم نہیں ہوا بلکہ 6جولائی 2018ءکو انہیں ایون فیلڈ ریفرنس میں دس سال جبکہ اسی سال 24دسمبر کو العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں سات سال قید کی سزابھی سنائی گئی ۔ میاں نواز شریف دسمبر 2018 ءسے نومبر 2019 ءکے دوران دل کی تکلیف کے باعث لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج رہے۔اکتوبر 2019ءکی ایک رات جب نواز شریف نیب کی زیرِ حراست تھے تو ان کی بگڑتی صحت کی خبریں میڈیا میں آنا شروع ہوئیں۔ نواز شریف کوسروسز ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں اُن کے پلیٹ لیٹس خطرناک حد تک گرنے کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں ۔ ان کے وکلا ءکی جانب سے طبی بنیادوں پر ان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست دائر کی گئی‘16 نومبر 2019ءکو لاہور ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کو علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی۔ اس طرح وہ عمران خان کے دورِ حکومت میں19نومبر 2019ءکو علاج کیلئے بیرون ملک چلے گئے جہاں سے وہ 21اکتوبر 2023ءکو وطن واپس آئے ۔8فروری 2024ءکو ہونیوالے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) ملک کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور اس نے مرکز اور پنجاب میں اپنی حکومتیں بھی قائم کر لیں ۔ میاں نواز شریف انتخابات میں کامیاب ہونے کے باوجود چوتھی مرتبہ وزیراعظم نہیں بنے اور میاں شہباز شریف دوسری بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 
اس وقت میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف وزیراعظم جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔آج ایک بار پھر یہ پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ پاکستانی سیاست میں ان کا کردار ختم ہو چکا ہے تاہم میرے خیال میں اگر وہ ازخود اپنے آپ کو محدود کر لیں تو اور بات ہے ورنہ ان کی زندگی میں ان کا سیاسی کردار ختم کرنا کسی کے بس میں نہیں رہا ، کم از کم پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سبق یہی ہے۔

ٹیگز: