Wed, September 16, 2026

سندھ کی تقسیم کی تمام کوششیں مسترد: وزیراعلیٰ کی اسمبلی میں تاریخی قرارداد پیش

سندھ کی تقسیم کی تمام کوششیں مسترد: وزیراعلیٰ کی اسمبلی میں تاریخی قرارداد پیش

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں صوبے کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت کے حق میں ایک تاریخی قرارداد پیش کی ہے، جس میں کراچی کو سندھ کا ناقابلِ تقسیم حصہ قرار دیتے ہوئے تقسیم کے کسی بھی بیانیے کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا گیا ہے۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ محض کوئی انتظامی اکائی نہیں بلکہ وادیٔ سندھ کی عظیم تہذیب کا گہوارہ ہے۔ انہوں نے موئن جو دڑو کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ سندھ کی زبان، ثقافت اور شناخت سیاسی سرحدوں سے کہیں زیادہ قدیم اور مضبوط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  یہ صوفیاء کی دھرتی ہے جہاں شاہ لطیفؒ، سچل سرمستؒ اور لعل شہباز قلندرؒ نے امن و وحدت کا درس دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی حملہ آور آئے مگر سندھ کی وحدت کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا۔
قرارداد میں کراچی کے حوالے سے تمام ابہام دور کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ شہر تاریخی طور پر 'کولاچی' کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ سندھ کی مٹی سے ہی پھوٹنے والا شہر ہے۔ وزیراعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
مراد علی شاہ نے تقسیم کے خواہشمند عناصر کو قانونی آئینہ دکھاتے ہوئے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیا، جس کے تحت    کسی بھی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔    آئینی طور پر ایسی کسی بھی تبدیلی کی گنجائش موجود نہیں جس کی تائید سندھ کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے نہ کریں۔

متفقہ عزم اور سیاسی اپیل

قرارداد کے آخر میں تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ تقسیم پر مبنی بیانیے سے گریز کریں۔ ایوان نے جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر یہ عہد کیا کہ سندھ کے دفاع اور اس کی جغرافیائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ٹیگز: