Wed, September 16, 2026

قوم کامستقبل تباہی سے بچائیں

قوم کامستقبل تباہی سے بچائیں

بچے کارزلٹ کارڈٹیبل پررکھتے ہوئے وہ انتہائی پریشانی اورمایوسی کے عالم میں بولے جوزوی صاحب اس بچے نے بہت پریشان کر رکھا ہے۔ ہر مہینے بھاری فیسیں بھرنے اورہرقسم خاطرتواضع کرنے کے بعدبھی اس کاحال اس کارڈمیںآپ کے سامنے ہے۔پہلے امتحان میں اس کے دوپیپرفیل ہوئے تھے۔ اب جناب ترقی کرکے چارتک پہنچ گئے ہیں۔یہ دیکھیں ظالم نے اس بارایک دونہیں بلکہ پورے چارپیپرفیل کردیئے ہیں۔ہم روکھی سوکھی کھاکرصرف اس لئے اس کے سکول اورٹیوشن کی بھاری فیسیں بھرتے ہیں کہ یہ کمبخت لکھ پڑھ کرکچھ بن جائیں لیکن اس صاحب کوتوموبائل اورٹی وی ڈراموں سے فرصت ہی نہیں۔ ہروقت یہ موبائل اورٹی وی میں ایسا گھسارہتاہے کہ جیسے یہ دنیامیں آیا ہی اس کام کے لئے ہو۔کہنے کوتویہ ایک باپ کا رونا، دھونااور چیخنا وچلاناہے لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو اس وقت موبائل اورٹی وی نے ہمارے اکثربچوں کایہ حال کردیاہے۔آج کے بچے جتناٹائم اوروقت موبائل وٹی وی ڈراموں پرصرف کرتے ہیں اتناٹائم اگریہ تعلیم وتربیت اورشعورکے لئے دیتے تویہ آنکھیں بند کر کے ڈاکٹر، ٹیچر، انجینئر، سائنسدان، لیڈر اور قوم کے ہیرو بنتے۔ آج قدم قدم پر سکول، کالج اور یونیورسٹیاں قائم ہیں۔ شہر کیا اب تو دور دراز کے گاؤں اوردیہات بھی سکول وکالجزسمیت دینی مدارس جیسی دینی درس گاہوں سے آباد ہیں۔ پہلے لوگ دینی ودنیاوی تعلیم کے لئے میلوں کا سفر طے کرکے کہیں دن بھرکی محنت ومشقت کے بعد دوسرے شہرپہنچتے۔اس وقت نہ صرف تعلیمی ادارے میلوں دورتھے بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک آمدورفت کابھی کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں اچھی طرح یادہے ہائی سکول جوزمیں تعلیم کے دوران ہمارے ساتھ سکول و کلاس میں دوردراز کے ایسے ایسے علاقوں کے ساتھی تھے جن گھر 
وعلاقوں میں آنے جانے کے لئے ہمارے جیسوں کے آج بھی سات اٹھ گھنٹے لگتے ہوں گے پھربھی ان علاقوں سے وہ ساتھی اسمبلی ٹائم پرسکول پہنچ جایاکرتے تھے۔ان ساتھیوں کویادکرکے ہم آج بھی سرپکڑکریہ سوچتے ہیں کہ گرمی اورسردی میں وہ اس وقت روزکیسے آتے ہوں گے۔؟اب تو موسم کافی بدل گیاہے اس وقت موسم سرماکی سالانہ تعطیلات سے بھی پہلے اکثران علاقوں میں شدیدسردی پڑنے کے ساتھ برفباری بھی ہوتی تھی۔ سکول سے چونکہ چھٹیاں نہیں ہوئی ہوتی تھیں اس لئے دواورتین فٹ کی برف میں بھی وہ ساتھی پابندی کے ساتھ سکول پہنچ آیاکرتے تھے۔اب تو ہر گھر کے ساتھ دوسری اورتیسری گلی میں کوئی نہ کوئی سکول اورمدرسہ قائم ہے لیکن پھربھی آج کے بچوں کوان سکولز اور مدرسوں میں جاتے ہوئے بخار چڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ سکول وکالج اگرپہلے کی طرح آج بھی میلوں دورہوتے توپھرہمارے ان بچوں کاکیاحال ہوتا۔؟آج کے دورمیںسکول جاتے اورکتابیں کھولتے ہوئے ہمارے ان لاڈلے بچوں کے پاؤں اورہاتھوں پر چھالے پڑنے ودانے نکلناشروع ہو جاتے ہیں لیکن موبائل سے چمٹنے اورڈرامے دیکھنے میں گھنٹے کیادن اور رات بھی گزرجائے توان کو ذرہ بھی کوئی تکلیف اورتھکاوٹ نہیں ہوتی۔ان سے اگرزبردستی موبائل نہ لیاجائے یاٹی وی بندنہ کی جائے تویہ گھنٹوں کیادنوں تک ان کے سامنے بیٹھے رہیں گے۔ سکول پڑھتے بچے کیا۔؟آج کی ماؤں نے تودودھ پیتے بچوں کوبھی موبائل پر لگا دیا ہے۔ چھوٹے بچے پہلے جب روتے تھے تومائیں انہیں کچھ کھلا پلا اور چھوٹے موٹے کھلونوں سے بہلا کر خاموش کرا دیا کرتی تھیں لیکن اب بچوں کوخاموش کرانے کایہ آسان طریقہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں موبائل پکڑا دیا جائے۔گھرہویاباہر۔آپ جہاں بھی دیکھیں آپ کوبچے موبائل میں گم نظرآئیں گے۔کسی ایک گھراوردرنہیں موبائل کی یہ بیماری اس وقت ہربچے کولاحق ہے۔جس گھرکوبھی دیکھیں وہاں بچے شہدکی مکھیوں کی طرح موبائل کے گردگھومتے دکھائی دیں گے یاٹی وی سے چمٹے ہوں گے۔بچے ہمارامستقبل ہے افسوس ہم نے اپنے اس مستقبل کوموبائل اورٹی وی کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ماناکہ موبائل اورٹی وی سمیت جدیدٹیکنالوجی اللہ کی ایک نعمت ہے مگر ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ بچوں کے لئے ہرگز ہرگز نعمت نہیں۔ جدید تحقیق اور ماہرین صحت موبائل وٹی وی کوبچوں  کے لئے خطرناک قراردے رہے ہیں۔ یہ ذرائع نہ صرف بچوں کی صحت بلکہ استعداد، قوت وصلاحیتوں کے لئے بھی زہرقاتل ہے۔ہمیں ہر حال میں اپنے بچوں کوان خطرات سے دور رکھنا ہو گا۔یہ توسب مانتے اور جانتے ہیںکہ بچے ہمارا مستقبل ہے پراس مستقبل کو سنوارنے اورتباہی سے بچانے کی کسی کو فکر نہیں۔ ہمارا یہ مستقبل تب محفوظ اورروشن ہوگاجب یہ موبائل اورٹی وی سکرین کے بجائے ہمارے ہاتھوں میں پروان چڑھے گا۔نہیں توپھربچوں کے رزلٹ کارڈ اور سی وی ہاتھوں میں اٹھا کر ہمارے پاس رونے، دھونے، چیخنے اورچلانے کے سواکوئی چارہ باقی نہیں رہے گا۔اس لئے اب بھی وقت ہے کہ اپنے اس مستقبل کو تباہی اور بربادی سے بچایا جائے۔ موبائل اورٹی وی یہ بچوں کے لئے نہ صرف خطرناک بلکہ حدسے بھی زیادہ خطرناک ہے۔اس سے بچوں کے نفسیات اورصحت پرانتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔صحت کی خرابی کے ساتھ ہمارے بچوں کاقیمتی وقت بھی موبائل اورٹی وی کے ہاتھوں ضائع ہورہاہے۔سمجھداروہی لوگ ہیں جووقت پراپنے بچوں اورقوم کے اس مستقبل کو موبائل وٹی وی سمیت اس طرح کی منفی سرگرمیوں سے محفوظ رکھیں۔ہم سب کواب ہرحال میں اپنے بچوں کواس تباہی سے بچاناہوگانہیں توپھرہمارے پاس ہاتھ ملنے اورافسوس کرنے کے کوئی چارہ باقی نہیں رہے گا۔

ٹیگز: