کبھی کبھی انسان کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ جن خبروں کو روزانہ سنتا، پڑھتا اور نظرانداز کر دیتا ہے، وہی خبریں وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ بن جاتی ہیں۔ آج جو بات ہمیں ایک بحث، ایک اسکینڈل یا ایک سوشل میڈیا ٹرینڈ لگتی ہے، کل وہ کسی کتاب میں چند سطروں یا ایک پورے باب کی صورت لکھی جا سکتی ہے۔ تاریخ روزانہ نہیں لکھی جاتی، مگر روزانہ کی جانے والی حرکتیں تاریخ کا خام مال ضرور بن جاتی ہیں۔
ذرا تصور کیجیے کہ کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، ہم سب اس دنیا میں نہیں رہے، اور کسی غیرجانبدار مورخ نے ہمارے ملک کی تاریخ قلم بند کرنا شروع کی ہے۔ وہ جب ریاستی اداروں پر باب لکھے گا تو اس کے سامنے اخباری تراشے، عدالتی فیصلے، ٹی وی پروگرامز اور عوامی گفتگو موجود ہوگی۔ اگر وہ یہ لکھ دے کہ اس ملک کا انٹیلی جنس چیف تو زمینوں پر قبضے کے الزامات میں گھرا رہا، ملک کا چیف جسٹس مبینہ طور پر چوری شدہ گاڑیاں استعمال کرتا تھا، ایک ہائی کورٹ کا جج جعلی ڈگری پر تعینات ہوا تھا، اور کسی ہوٹل کا پبلک ریلیشن افسرٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر قوم کی رہنمائی کرنے والا بڑا تجزیہ کار تصور کیا جاتا تھا، تو سوچئے اس ایک پیراگراف سے پوری قوم کا نقشہ کیسا بنے گا؟۔
یہ چند افراد کی کہانی نہیں ہوگی، بلکہ ایک پورے نظام کا تعارف ہوگا۔ دنیا یہ نہیں دیکھے گی کہ الزام درست تھا یا غلط، دنیا یہ دیکھے گی کہ ایسے الزامات ممکن کیسے ہوئے، اور اگر ہوئے تو ان کا انجام کیا ہوا؟۔
کسی بھی ملک میں انٹیلی جنس ادارے کا سربراہ وہ شخص ہوتا ہے جس پر ریاست سب سے زیادہ بھروسہ کرتی ہے۔ عام آدمی شاید اسے جانتا بھی نہ ہو، مگر دل میں یہ یقین ضرور رکھتا ہے کہ یہ شخص ذاتی مفاد، لالچ اور حرص سے کوسوں دور ہوگا۔ اگر تاریخ یہ لکھ دے کہ وہ شخص تو زمینوں پر قبضے، پلاٹوں اور فائلوں کے کھیل میں ملوث تھا تو اس سے ایک سوال جنم لے گا کہ جب ریاست کے رازوں کا امین خود زمین کے ٹکڑوں کا اسیر بن جائے تو ریاست کیونکر محفوظ رہ سکتی ہے؟۔
کوئی بھی شخص جب ہر دروازے سے مایوس ہو جاتا ہے تو اس کی آخری امید عدلیہ ہوتی ہے۔ اور اگر بات ہو ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کی تو اس کے چیف جسٹس کا تو نام سن کر عام شہری کے دل میں انصاف کی امید جاگ اٹھتی ہے۔ اگر تاریخ یہ لکھ دے کہ ایک ایسا شخص جو زمینوں پر قبضوں اور بلیک میلنگ جیسے جرائم میں ملوث تھا اور وقت کا چیف جسٹس اس سے چوری شدہ گاڑیاں لے کراستعمال کرتا تھا تو یہ صرف ایک فرد پر الزام نہیں ہوگا بلکہ انصاف کے پورے تصور پر سوال ہوگا۔ آنے والی نسلیں یہ نہیں پوچھیں گی کہ وہ فیصلے اچھے تھے یا برے، وہ یہ پوچھیں گی کہ جس شخص کی ذاتی زندگی میں دیانت مشکوک ہو، وہ قوم کو انصاف کیسے دے سکتا تھا؟۔
ہائی کورٹ کے جج کا جعلی ڈگری پر تعینات ہونا تو اور بھی زیادہ تکلیف دہ بات ہے۔ جج وہ شخص ہوتا ہے جو لوگوں کی آزادی، عزت اور بعض اوقات زندگی کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر وہ خود جعلی کاغذوں پر بیٹھا ہو تو پھر اس پورے عدالتی نظام کی ساکھ کہاں جائے گی؟ تاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ ایک جج نے بے ایمانی سے یہ اعلیٰ عہدہ حاصل کیابلکہ مورخ پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان لگا دے گا۔
ایک زمانہ تھا جب صحافی کو معاشرے کی آنکھ اور کان کہا جاتا تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اخبار میں لکھنے والا یا ٹی وی پر بیٹھا شخص سچ ہی بول رہا ہے۔ لیکن اگر تاریخ میں یہ لکھا جائے کہ ایک ہوٹل کا پبلک ریلشنز منیجر جو دراصل ایک سیاسی پارٹی کے ترجمان کا کردار ادا کرتا تھا لیکن جانے کیوں اس کو قوم کا ایک بڑا تجزیہ کار گردانا جاتا تھا۔ کیا یہ جملہ پورے میڈیا کے منہ پر ایک طمانچہ نہ ہوگا۔ اس قسم کی تاریخ پڑھ کر دنیا ہمارے ملک کو کیسے دیکھے گی؟ کوئی غیر ملکی طالب علم، کوئی محقق یا کوئی سفارتکار شاید یہ نتیجہ نکالے کہ یہ ایک ایسا ملک تھا جہاں عہدے کردار سے نہیں بلکہ طاقت اور سفارش سے ملتے تھے۔ جہاں میرٹ ایک نعرہ تھا اور حقیقت میں سب کچھ بند کمروں میں طے ہوتا تھا۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ دنیا ہمارے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے، ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور ہمیں ایک سازش کے تحت بدنام کیا جا تا ہے۔ مگر کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا کہ ہم دنیا کو دکھا کیا رہے ہیں؟ اگر ہمارے اپنے ادارے خود شفاف نہ ہوں، اور ہم سوال اٹھانے والوں کو غدار کہہ کر خاموش کرا دیں، تو پھر دنیا کیوں ہماری بات مانے گی؟۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کسی فرد سے غلطی ہو گئی۔ غلطیاں تو انسان سے ہوتی ہی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے غلطیوں کو ماننے کے بجائے چھپانے کو حکمت سمجھ لیا ہے۔ ہم نے احتساب کو کمزوری اور سوال کو دشمنی بنا دیا ہے۔ جب معاشرہ اس راستے پر چل پڑے تو تاریخ میں اس کا انجام کبھی اچھا نہیں لکھا جاتا۔ اگر آنے والی نسلیں تاریخ میں یہ پڑھیں کہ اس ملک میں طاقتور قانون سے بالاتر تھے، تو وہ اس ملک کے ساتھ جذباتی تعلق کیسے رکھ پائیں گی؟ کیا وہ فخر کریں گی یا شرمندگی محسوس کریں گی؟ کیا وہ اس ملک کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گی یا یہاں سے نکل جانے کا خواب دیکھیں گی؟۔
یہ کالم کسی فرد، کسی ادارے یا کسی پیشے کے خلاف نہیں، بلکہ ایک عام شہری کے دل کا سوال ہے۔ ابھی وقت ہے کہ ہم خود کو درست کر لیں۔ ہم مان لیں کہ ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں، اور جب کسی فرد سے غلطی ہو جائے تو ادارے کو اسے بچانے کے بجائے خود کو بچانا چاہیے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو تاریخ وہی لکھے گی جو اسے نظر آئے گا۔خوشی کی بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے خلاف اسی کے ادارے کی جانب سے بھر پور کاروائی کر کے ایک مثال قائم کی گئی۔ جو ایک قابل ستائش عمل ہے ۔اسی طرح طارق جہانگیری کے خلاف اسی کے ادارے کی جانب سے آنے والا فیصلہ بھی قابل تعریف ہے۔ ایک سابق چیف جسٹس پر اگرچہ چوری کی گاڑیاں استعمال کرنے کا الزام ابھی تک ثابت نہیں ہوا لیکن پھر بھی اس میں وزن اس لیے نظر آتا ہے کیونکہ مبینہ طور پر چوری کی گاڑیاں وہ شخص فراہم کرتا تھا جو اس وقت اپنی بدعنوانیوں کی پاداش میں اپنے ہی ادرے سے چودہ برس کی قید بامشقت کی سزا پا چکا ہے۔ افسوس کہ اس الزام کی کسی سطح پر تحقیق نہیں کروائی جا رہی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عہدہ سے قطع نظر الزام کی شفاف تحقیات کروائی جائیں اور اگر کوئی بے ظابطگی پائی جائے تو مناسب ایکشن لیا جائے۔
تاریخ کسی سے دشمنی نہیں رکھتی، نہ کسی سے ہمدردی۔ وہ صرف وہی لکھتی ہے جو ہوا۔ سوال یہ ہے کہ ہم تاریخ کو کیا دے کر جانا چاہتے ہیں؟ ایک باوقار قوم کی کہانی یا ایک ایسے معاشرے کی داستان جو طاقت، مفاد اور خاموشی کے سہارے چلتا رہا؟۔
فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے، کیونکہ کل جب تاریخ لکھی جائے گی تو ہمیں صفائی کا موقع نہیں ملے گا۔