Wed, September 16, 2026

دوست ہوتا نہیں…

دوست ہوتا نہیں…

نت نئی اصطلاحوں کی دنیا میں جھوٹ، دجل، فریب کو ’یوٹرن‘ کہہ کر یکدم اپنے عہد، وعدے، ارادوں کے اظہار کے بعد پلٹ جانا کوئی مسئلہ نہیں۔ بس یوٹرن کہیے اور راستہ بدل لیجیے۔ اسلام چونکہ معاملات کو بالاترین ذات سے نتھی رکھتا ہے، انسانوں کو دھوکا دینے میں رب تعالیٰ کے آگے جوابدہی کا خوف ہوتا ہے، اس لیے احتیاط برتنی ہوتی ہے۔ العدۃ دین…العدۃ عطیۃ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا۔ ’وعدہ قرض ہے۔‘ بندئہ مومن قرض کی ادائی جس طرح لازم جانتا ہے، شہید کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں سوائے قرض کے، تو وعدے کی بھی اہمیت ہے! زبان کی تربیت اور احتیاط، پاکیزگی کے بے شمار اہتمام ہیں۔ اسی طرح ’وعدہ عطیہ ہے‘۔ دی ہوئی چیز، جس کا واپس لینا معیوب ہے؟ سو آج کی دنیا میں ’سیاست‘، ’سیاہ ست‘ بن چکی!یہ نام ہی فریب دھوکے کا ہے! اور اسی لیے ملکی، بین الاقوامی سطح پر اسی سیاست کا دور دورہ ہے۔ جو جتنا بڑا سیاست دان ہے، اتنے ہی حقوقِ دروغ گوئی اس کے مسلّم ہیں!
 آپریشن سیندور میں امریکہ نے صاف دامن چھڑا لیا۔ ’ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں‘۔ تاہم جوں ہی بھارت کو غیر متوقع شکست کا منہ دیکھنا پڑاتورات کی نیند اڑ گئی۔ ٹرمپ میاں، مودی کے ہاتھ پاؤں پھولے دیکھ کر فوری سیز فائر کو آن کودے۔ اب مودی انجان بن گئے کہ اس جنگ بندی میں ہمارا تو کوئی مطالبہ شامل نہ تھا۔ چلیے ایک اور دفتر تو ہے جہاں ہر معاملے کی اصل کاپی محفوظ ہو جاتی ہے جو بالآخر دیکھی تو جائے گی۔’ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے جس نے نہیں چھوڑی کوئی چھوٹی یا بڑی حرکت (جو ہم نے کی تھی)، مگر اسے (یہاں) درج کر لیا گیا ہے۔ اور وہ اپنے اعمال کو سامنے پائیں گے!‘ (الکہف :50) حقائق انفرادی، اجتماعی، قومی، بین الاقوامی سبھی کھل جائیں گے۔ یہ تو ہم نے اپنی فتح( جو سر تا سر اللہ کی مدد اور اذن سے ملی) ٹرمپ کے گلے میں ڈال دی۔ ورنہ حقیقت تو یہی ہے کہ یہ نصرت بالرعب تھی۔ بھارت کا دم نکل گیا، ٹرمپ مودی، وینس پروگرام فیل ہو گئے اور وہ میدانِ جنگ سے نکل بھاگے!سبحان اللہ …اب باری تھی اسرائیل کی۔ پوری سازباز سے ایران پر چڑھ دوڑا۔ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اظہارِ لا علمی بہتر جانا۔ انجان بن جانا بھی جھوٹ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے صاف کہا کہ یہ اسرائیل کا یک طرفہ عمل ہے، ہمارا اس سے کوئی لینا دنیا نہیں۔ تاہم جلد کھل گیا کہ امریکہ کو سب خبر تھی۔ مئی میں کہا تھا: امریکہ ایران نیوکلیئر ڈیل قریب ہے۔ بعد ازاں یکا یک ٹرمپ کا اس سوال پر کہ امریکہ اس (جنگ) کا حصہ بنے گا یا نہیں؟ ٹرمپ کا کہنا تھا: ’میں بن سکتا ہوں، نہیں بھی بن سکتا۔ یعنی کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کروں گا!‘ یہ اول جلول رویہ گلوبل چوہدری کا؟ کی جاناں میں کون! نیشنل ایرانی امریکی کونسل کے صدر نے کہا کہ ’ ٹرمپ خود کو ایک دیوانہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش میں ہے، جس 
کے بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کسی بھی طرف جا سکتا ہے۔‘ مگر دیوانہ بکارِ خود ہوشیار!
ٹرمپ نے قوم کو دھوکا دیا۔ جھوٹے انتخابی وعدے کرتا رہا کہ میں ملک سے باہر تنازعوں پر امریکی رقوم خرچ نہ ہونے دوں گا۔ ہمیں پرائے سر کی بلا لینے کی کیا ضرورت؟ تیسری جنگ عظیم نہیں ہونے دوں گا۔ لیکن عملاً عین اس کے برعکس کیا۔ امریکہ نے اسرائیل سے مل کر پورے خطے کو شدید عدم استحکام سے دو چار کیا۔ ٹرمپ بادشاہ بن بیٹھا۔ حقوقِ انسانی پر اسرائیلی بھیڑیے چھوڑے۔ بے محابا بمباریوں سے۔ موسمیاتی بحران نے پورے گلوب کو خطرات سے دو چار کر رکھا ہے۔ اپنے نت نئے ہتھیاروں کے تجربے غزہ کی کمزور عورتوں، بچوں کو تجرباتی چوہوں (Guinea Pigs ) کے طور پر استعمال کر کے، حقوق انسانی کا ریکارڈ توڑ بحران غزہ میں کھڑا گیا جس پر انسانیت تڑپ اٹھی۔ صیہونیوں کو مظلوم بنا کر ہولو کاسٹ کے رونے رو کر امریکہ بھر میں بہترین یونیورسیٹوں،اداروں کو اجاڑا۔ ذہین طلبائ، ماہرین تعلیم، دانشوروں کی تذلیل، تشدد، گرفتاریاں تک کر ڈالیں۔ امریکہ نے عالمی معیشت، سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
غزہ کے بعد ایران جا گھسا۔ پہلے دو ہفتے کی حتمی تاریخ دی کہ ایران پر حملہ کرنے، نہ کرنے کا فیصلہ ایرانی سفارتی تعاون کے مطابق ہو گا۔ دوہفتے کے بیچ یکا یک 30 ہزار پاونڈ کے 14بلاک بسٹر بم گرا کر کہانی تمام کی۔ یہ صلاحیت اسرائیل کے پاس نہ تھی لہٰذا یکایک دماغ میں کیڑا سر سرایا، دو ہفتے کی ڈیڈ لائن فراموش کردی اور 3 منٹ کی پریس کانفرنس میں دنیا کو اپنے تازہ ترین کارنامے سے آگاہ کر کے چلتا بنا۔ ایرانی ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کے بعد 22 جون کو قوت کے نشے میں دھت امریکی سیکرٹری دفاع اور سینئر جرنیل نے قوم اور دنیا بھر کو تکبر، فخر و ناز سے بھری بریفنگ دی۔ (جس کام کے لیے دس بارہ جہاز بھی درکار نہ تھے، 120 جہاز اڑا کر اپنے جنگی تجربات اور مہارت کو آزمایا)۔ گفتگو گلوب یا امریکہ نہیں اس سیارے (Planet Earth) پر اپنی حکمرانی اور ہیبت جتانے کے پیرائے میں تھی! پھر دو دن بعدٹرمپ نے اسرائیل ، ایران جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کی بحالی کا اعلان کر دیا۔ تمام تر تباہی برسانے کے بعدامن قائم کرنے کا ایک اور سہرا! یہ ہے دیوانہ ٹرمپ اور اس کا خونخوار بغل بچہ (پراکسی) اسرائیل ! کمزور قوموں پر دنیا کے وسائل لوٹ کر سائبر،خلائی قوت کا رعب گانٹھنا صرف فرعونی قارونی تکبر ہے! حالانکہ دو ہفتے کی ڈیڈ لائن کا اعلان کرتے ہوئے پریس سیکرٹری نے کہا تھا:’ صدر ہمیشہ سفارتی حل چاہتے ہیں۔ وہ بہت بڑے امن پسند، امن جو، امن خو ہیں!‘ اور اب؟ صرف بموں کی خوبو باقی ہے! غزہ میں بھی سفارتی امن جوئی نہیں، امدادی خونخواری جاری ہے۔ تاریخ ِ عالم میں بے رحمانہ بھوک مسلط کر کے، خوراک کی تلاش میں آنے والوں پر گولیاں کب کسی نے برسائیں! ایک ہی ماں کے سات ننھے بچے یک لخت اور ایک اور ماں کا شوہر اور 9 بچے یک لخت، بہ چشم زدن مارنے کی امن جوئی اور امن خوئی دنیا میں کہاں ملے گی! یہ سارے کمالات مشترکہ اثاثہ ہیں ٹرمپ اور نتین یا ہوکے۔ سو امنِ عالم کے ان دونوں امینوں کو مشترکہ نوبل امن انعام ملنا چاہیے۔ تاہم انگریزی میں ’پیس ‘‘(امن) کے ہجے درست کر کے ’Peace‘کی بجائے نوبل ’Piece‘ پرائز ہو۔ (اس میں بائیڈن بھی شریک ہو۔’Pieces ‘جو ہم نے خود دیکھے۔ باپ جو اپنے شہید چھوٹے بیٹے کے جسم کے ٹکڑے تھیلے میں (جس سے خون رس رہا ہے) اٹھائے لارہا ہے۔ ایک نو عمر لڑکا۔ گلے میں بستہ ڈالے اسے محبت سے سینے سے لگائے ہے۔ پوچھنے والے کو بتاتا ہے، یہ ٹوٹا ہوا میرا شہید منا بھائی ہے۔ سوپریس سیکرٹری درست فرماتے ہیں۔ ٹرمپ عالمی امن کا سب سے بڑا ہیرو ہے۔ 
جہاں تک پاکستان بھارت جنگ ختم کروانے میں ٹرمپ کا کردار ہے ثبوت طلب ہی ہے!جنگ بندی مودی کی شدید ضرورت تھی، ہو گئی۔ اس کے بعد بھارت بھر میں مودی کی عزت اپوزیشن اور عوام نے دوٹکے کی نہ چھوڑی۔ جنگ بندی کے بعد اگر ٹرمپ نرا مسخرا، مجذوب نہ ہوتا۔ ایک اعلیٰ کردار، بلند و بالا شخصیت ہوتی تو مسئلہ کشمیر جو بالکل واضح ہے، حل کروایا جاتا، سندھ طاس معاہدے میں بھارتی خلاف ورزیوں کا ہر پہلو سامنے لا کر ہمارے حقوق کی ادائی کا معاملہ پاتا۔ پھر سوچا جاسکتا تھا کہ دیوانہ ہمارے کام میں ہوشیار اور انصاف پسند ہے۔ وہ نکالے ہمارے پرانے قضیے اور ان کا مداوا کرے!
 اس سے بھی بڑھ کر امریکی جہالت کا یہ عالم ہے کہ سبھی سفید فام، سیاہ فام، گندم گوں کی الجھنوں کے گرفتار ہیں۔ مسک سفید فامی جہالت کا سرغنہ ہے۔ امریکہ، یورپ میں اسے پھیلانے کے درپے ہے۔ ٹرمپ انہی کا کٹر ساتھی ہے۔ اندازہ کیجیے کہ اسرائیل نے آج تک سارے قوانین سے ماوراء کب کہاں کیسے ایٹمی صلاحیت حاصل کی، ستر تا نوے ایٹم بموں کا مالک۔ اس پر کوئی سوال نہیں؟ کوئی پوچھے تو امریکی ویٹو کی چھتری ہر جگہ موجود ہے۔شاہ کے وقت تو امریکہ اسرائیل، ایران کے بہت قریب تھے۔ امریکہ پہلے ایران کو نہ صرف مضبوط ہوتے دیکھتا رہا، بلکہ شاہ ایران دور کے ایرانی منجمداثاثے اسے لوٹا کر قوی کیا۔ مقصد خطے میں عربوں کے سر پر ایک قوت مسلط رکھنا تھا۔ اب عربوں نے بڑھ کراسرائیل کو تسلیم کیا۔ امریکی جیبیں کھربوں ڈالر سے بھر دیں تو ایران کھلنے لگا۔ کل تک اسی کے ہاتھوں شام کی اینٹ سے اینٹ بجائی تھی۔ اب امریکہ کی اس جنگ میں براہ راست شمولیت نے سب کے طوطے اڑا دیے ہیں۔ پاکستان امریکی کردار کو گہری نظر سے دیکھے۔ ہمارا ایٹمی پروگرام بھی اتنا ہی ناپسندیدہ ہے۔ ٹرمپ کی دیوانی یوٹرن اور اچانک آنکھیں ماتھے پر رکھ کر اجنبی ہو جانا معمول کی بات ہے۔ اللہ اس کے شرور سے ہمارا ایٹمی پروگرام اپنی پناہ میں رکھے۔ مومنانہ فراست ہماری قیادتوں کو عطا فرمائے۔ (آمین) دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملا نے والا! دوست ہوتا نہیں ہر لنچ کھلانے والا!۔

ٹیگز: