کہتے ہیںکہ کامیابی کے سو ماں باپ ہوتے ہیں لیکن ناکامی ہمیشہ بانجھ ہوتی ہے ۔ سیانے جو کچھ کہہ گئے ہیں وہ صدیوں کی دانش کا نچوڑ ہوتا ہے ۔ آج جو لوگ سیاسی بھنور سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے وہ اگر سیانوں کے اس ایک قول پر ہی غور کر لیں اور اس کے مطابق اینی سیاست میں تبدیلیاں کر لیں تو ان کی بہت سی مشکلات ختم ہو سکتی ہیں ۔ ایک طرف محترم وزیر اعظم نے میثاق استحکام پاکستان کے نام پر مفاہمت کی پیشکش کی ہے لیکن اس میں شرط یہ رکھی ہے کہ فتنہ اور بغاوت سے بات نہیں ہو گی ۔ اس میں تحریک انصاف بھی شامل ہے یا نہیںتو میثاق استحکام پاکستان کی پیشکش بہت سے بیک ڈور چینل کے رابطوں کے بعد کی گئی ہے اور ساز گار ماحول کے لئے شیخ وقاص اکرم کے خلاف کارروائی روک دی گئی اور سپیکر نے اپنے چیمبر میں حزب اختلاف کے ارکان سے ملاقات بھی کی ہے ۔اس کے بعد معروف صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے ایک کالم میں فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سے ملاقات کااحوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ مصالحت کے لئے صدق دل سے معافی ضروری ہے ۔ جو بات محترم وزیر اعظم نے کہی اور جوبات سہیل وڑائچ صاحب نے اپنے کالم میں کہی دونوںمیں کوئی فرق نہیں ہے ۔ اب اس پر کیسا رد عمل آئے گا تو ہماری ذاتی رائے میں اس حوالے سے خود تحریک انصاف کے اندر اختلاف نظر آئے گا اس لئے کہ قارئین کو یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا گنڈا پور نے 9مئی کے حوالے سے اعتراف کیا تھا کہ اس میں ہمارے لوگ تھے ۔ اب جو لوگ آڈیوز اور وڈیوز کی موجودگی کے باوجود بھی انکار کی پالیسی پر کھڑے ہیں تو عرض ہے کہ فوجی عدالتوں سے جن جن کو سزائیں ہوئی تو ان میں سے ہر ایک کی وڈیوز اور جو کچھ وہ 9مئی کو وہ کر رہے تھے وہ قومی الیکٹرانک میڈیا پر بار بار دکھایا گیا ۔ اب جس طرح وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے مفاہمت اور فیلڈ مارشل صاحب نے صدق دل سے معافی کی بات کی ہے تو تحریک انصاف کی بظاہر جو بھی پالیسی ہو لیکن فیصلہ سازی کے حوالے سے سنگین اختلافات کا اندشہ ہے۔
کچھ لوگ ہماری اس رائے سے شدید اختلاف کریں گے لیکن ہم یہ بات ہوا میں نہیں کر رہے بلکہ پاکستانی سیاست کے جو حالات و حقائق ہیں انھیں دیکھتے ہوئے کہہ رہے ہیں اس لئے کہ تحریک انصاف کے اپنے اندر نا اہل ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کی نشستوں پر جو ضمنی انتخابات ہونے ہیں اس پر بھی اختلافات ہیں ۔ خان صاحب نے اپنے غیر سیاسی مزاج کے عین مطابق کہا ہے کہ ان سیٹوں پر الیکشن نہیں لڑا جائے گا لیکن ان کے اس فیصلے پر کوٹ لکھپت جیل سے شاہ محمود قریشی نے بانی پی ٹی آئی کے نام اپنے ایک پیغام میں ان سے اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کے لئے میدان کھلانہ چھوڑا جائے ۔ اسی طرح ایک ٹی وی ٹاک شو میں تحریک انصاف کے رہنما علی احمد خان نے بھی یہی کہا ہے کہ ضمنی الیکشن کا میدان خالی نہ چھوڑا جائے ۔ یہ سوچ صرف ان دونوں رہنمائوں کی نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف کی اکثریت کی یہی رائے ہے اور ہر سیاسی سوچ رکھنے والے کی یہی رائے ہو گی ۔ اب اگر بانی پی ٹی آئی اسی طرح کے غیر سیاسی غیر دانشمندانہ فیصلے کرتے رہے تو اس وقت میری بات سے بہت سے لوگ اختلاف کریں گے لیکن بہت جلد بانی پی ٹی آئی تحریک انصاف کے اندر فیصلہ سازی کا جو فورم ہے اس سےIrrelevantہوتے چلے جائیں گے بالکل ایسے ہی کہ جیسے ان کی مرضی کے بغیر خیبر پختون خوا کا بجٹ پاس ہو گیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر منطقی ، غیر سیاسی اور غیر دانشمندانہ فیصلوں کا ایک حد تک ہی فالو اپ کیا جاتا ہے اور جب مسلسل اسی طرح کے فیصلے کئے جائیں کہ جس سے صرف اور صرف نقصان ہی ہو تو ان سے کنارہ کشی اختیار کرنا ایک فطری امر ہوتا ہے لیکن یہ سب کچھ یہ کہتے ہوئے کیا جائے گا کہ تحریک انصاف کا ہر فیصلہ بانی کی مرضی سے ہو گا ۔
جیسا کہ عرض کیا کہ میثاق استحکام پاکستان کی پیشکش بہت سے بیک ڈور چینل کے رابطوں کے بعد کی گئی ہے اور ساز گار ماحول کے لئے شیخ وقاص اکرم کے خلاف کارروائی روک دی گئی اور سپیکر نے اپنے چیمبر میں حزب اختلاف کے ارکان سے ملاقات بھی کی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اس پر کچھ نہ کچھ مثبت رد عمل تو آنے کے امکانات ہیں ۔ اسی طرح فیلڈ مارشل صاحب کی معافی کی بات پر بھی بیک ڈور چینل پر کچھ نہ کچھ مثبت رسپانس کی توقع کی جانی چاہئے ۔ اس لئے کہ تحریک انصاف کی وہ قیادت جو جیل سے باہر ہے اور پاکستان میں ہے اس کی یقینا یہ خواہش ہو گی کہ تحریک انصاف کے لئے سیاست کے جو دروازے بند کر دیئے گئے ہیں وہ کھل جائیں لیکن پاکستان سے باہر بیٹھے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے والوں کو یہ بات پسند نہیں آئے گی اس لئے کہ اگر تحریک انصاف کے لئے سیاست کے دروازے کھل جاتے ہیں تو سوشل میڈیا پر جو چورن بیچا جا رہا ہے وہ بکنا بند ہو جائے گا اور اگر بانی پی ٹی آئی بھی جیل سے باہر آ جاتے ہیں تو پھر ان کی دکانوں پر تو تالے لگ جائیں گے ۔ اب اگر اس صورت حال میں بھی ماضی کے غلط فیصلوں سے سبق نہیں سیکھا گیا تو وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل دونوں نے جو کچھ کہا اس میں ایک بات مشترک ہے کہ فتنہ اور بغاوت کی کوئی گنجائش نہیں یعنی9مئی کی کوئی معافی نہیں ہے ۔