Wed, September 16, 2026

سندھ حکومت کا انقلابی قدم: گندم کی خریداری سے 'کوٹہ سسٹم' ختم، چھوٹے کسانوں کو بڑی ریلیف

سندھ حکومت کا انقلابی قدم: گندم کی خریداری سے 'کوٹہ سسٹم' ختم، چھوٹے کسانوں کو بڑی ریلیف

کراچی : سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے گندم کی فروخت پر عائد حد (Limit) ختم کرنے کے فیصلے کو صوبے کی زراعت کے لیے گیم چینجر قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے مڈل مین کا کردار ختم ہوگا اور چھوٹے کسانوں کو ان کی فصل کا پورا معاوضہ ملے گا۔
 کاشتکار اب کسی بھی "پاس" یا مخصوص حد کے بغیر اپنی گندم سرکاری مراکز پر لا سکیں گے۔ حکومت نے 3500 روپے فی من قیمت مقرر کی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔
 شرجیل میمن نے تصدیق کی ہے کہ کسانوں کو فصل کی فراہمی کے فوراً بعد ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، جس سے دیہی معیشت میں استحکام آ رہا ہے۔
شرجیل میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارا مقصد ہاریوں کو بااختیار بنانا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام تر انتظامی رکاوٹیں دور کر دی ہیں تاکہ کسان بغیر کسی خوف اور پریشانی کے اپنی محنت کا صلہ حاصل کر سکے۔
اس فیصلے کو سندھ کے کسانوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلے چھوٹے کاشتکاروں کو اپنی فصل سرکاری نرخوں پر فروخت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

ٹیگز: