Wed, September 16, 2026

مشن اسلام آباد، فیصلہ کن دوسرا دور کل ، ایران کے ساتھ 'تاریخی ڈیل' اور جنگ بندی کی امیدیں روشن

مشن اسلام آباد، فیصلہ کن دوسرا دور کل ، ایران کے ساتھ 'تاریخی ڈیل' اور جنگ بندی کی امیدیں روشن

واشنگٹن/اسلام آباد : امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا فیصلہ کن دوسرا دور کل اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آج پاکستان آمد متوقع ہے، جسے عالمی برادری مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی سمت ایک بڑا قدم قرار دے رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ہم ایک ایسی ڈیل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو اوباما دور کے معاہدے سے کہیں بہتر اور پوری دنیا کے لیے امن کی ضمانت ہوگی۔ایران کو کسی قیمت پر ایٹمی بم نہیں بنانے دیا جائے گا، البتہ معاہدے کی صورت میں ایران کے لیے معاشی خوشحالی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
 ٹرمپ نے واضح کیا کہ ڈیل ہونے تک آبنائے ہرمز میں امریکی محاصرہ جاری رہے گا اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔امریکی ویب سائٹ 'ایکسیاس' کے مطابق، نائب صدر جے ڈی وینس کی پاکستان روانگی کا مقصد اس معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے جو خطے میں سیز فائر اور طویل مدتی استحکام کا باعث بنے گا۔ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈیل نہ صرف اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ اور امریکا کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
ایران کی جانب سے ابھی تک مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی دھمکیوں کو سفارتی آداب کے منافی قرار دیا ہے، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے تاحال وفد بھیجنے کی تصدیق نہیں کی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرِ خارجہ کے درمیان ہونے والے رابطے نے برف پگھلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی میڈیا نے پاکستان کی سفارتی مہارت کو سراہتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے "ناگزیر" قرار دیا ہے۔

ٹیگز: