Wed, September 16, 2026

اسلام آباد پر گولہ باری، پُر عزم خطاب، 8 دھڑے

اسلام آباد پر گولہ باری، پُر عزم خطاب، 8 دھڑے

اسلام آباد میں گزشتہ جمعرات آسمانی ’’گولہ باری‘‘ سے کم و بیش ڈھائی تین ہزار گاڑیاں تباہ اور اتنی ہی گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا، وفاقی دارالحکومت میں طوفان باد و باراں معمول کی بات لیکن 5 منٹ 33 سیکنڈ کے دوران ٹینس کی بال جتنے بڑے اولوں (ژالہ باری) نے تباہی مچا دی، گاڑیوں کی سکرینیں، سائیڈ کے شیشے اور لائٹس کے علاوہ چھتوں پر لگی سولر پلیٹیں اڑ گئیں، سڑکوں پر شیشے ہی شیشے نظر آئے، لاکھوں کروڑوں کا نقصان، سکرینوں اور دیگر درآمدی سامان کے تاجروں نے گاڑیوں کے مالکان کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 40 فیصد قیمتیں بڑھا دیں۔ ہمارا قومی اعزاز، ہم اسی سے پہچانے جاتے ہیں۔ یوتھیوں نے اسے اور ہی رنگ دے کر ذہنی غلاظت کا ثبوت دیا، اہل دانش نے استغفار کی درخواست کی، اللہ اپنا کرم اور رحم فرمائے، سیاسی حالات کیا ہیں؟ حکومت روز بروز مستحکم، مقتدرہ اپنے مشن میں کامیاب، زر مبادلہ میں اضافہ کی خبریں، ترسیلات زر میں اضافہ، بانی پی ٹی آئی اور بیرون ملک بیٹھے ’’مفرور مسخروں‘‘ کی ٹوئٹس اور سول نافرمانی کی کالوں کے باوجود مارچ کے مہینے میں ترسیلات زر کی مد میں ریکارڈ 4 ارب 10 کروڑ ڈالر بھیجے گئے۔ مخالفین کے دلوں میں آگ بھڑکی، محب وطن عوام نے ٹھنڈک محسوس کی۔ اسی دوران وفاقی دارالحکومت میں 15سو اوورسیز پاکستانیوں نے جو اپنے خرچہ پر یہاں پہنچے تھے دو روزہ کنونشن میں شرکت کی۔ ان میں بانی پی ٹی آئی سے ہمدردیاں رکھنے والے ڈاکٹرز، ارکان کانگریس اور فنڈنگ کرنے والے اہل ثروت بھی شامل تھے۔ مفرور مسخروں نے فیک نیوز اور ملک دشمن ٹوئٹس کے ذریعے ان کے ذہن پراگندہ کر رکھے تھے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں غلط تصویریں دکھائی تھیں لیکن کنونشن اور ملاقاتوں کے دوران جب انہیں اصل حقائق کا علم ہوا تو ان کے دل و دماغ میں وطن کی محبت جاگ اٹھی جس کا مظاہرہ انہوں نے آرمی چیف جنرل سید حافظ عاصم منیر کے پُر جوش اور پُر عزم خطاب کے دوران نعروں اور نشستوں پر کھڑے ہو کر تالیوں سے کیا۔ آرمی چیف نے دہشت گردوں ان کے سہولتکاروں، بیرون سازشیں کرنے والوں اور بلوچستان کے مٹھی بھر علیحدگی پسندوں کو مخصوص فوجی انداز میں للکارا، اپنے خطاب میں کہا جو پاکستان کی ترقی میں حائل ہو گا، اسے ہٹا دیں گے دہشت گردوں کا خاتمہ کریں گے۔ 15 سو مٹھی بھر ملک دشمن بھول جائیں آپ کی دس نسلیں بھی پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں، سوال یہ نہیں کہ پاکستان کب ترقی کرے گا سوال یہ ہے کہ کتنی ترقی کرے گا۔ اختر مینگل نے تقریر سنی اور گھبرا کر دھرنا ختم کر دیا اوورسیز پاکستانیوں کے جذبات دیکھ کر آرمی چیف نے کہا یہ برین ڈرین نہیں برین گین ہے۔ آپ کو پاکستان کی کہانی آئندہ نسلوں کو سنانا ہے۔ طویل اور جذبات سے لبریز خطاب کے بعد انہوں نے قوم کو ’’پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘‘ کا نعرہ دے کر گویا میلہ لوٹ لیا۔ حالات کا پانسہ پلٹ گیا دلوں میں بانی کی سفارش کرنے کے ارادے سے آنے والے کانوں کو ہاتھ لگا کر واپس گئے۔ 13 مارچ کو جو ڈاکٹر حالات کا جائزہ لینے پاکستان آئے تھے وہ 15 اپریل کو آنے والوں میں بھی شامل تھے۔ یوٹیومرز اور جیل سے باہر کی پوری قیادت نے ڈیل کی چیہ میگوئیاں شروع کر دیں، فری عمران خان کی ٹوئٹ کرنے والے رکن کانگریس بریگمین کی قیادت میں بھی ایک وفد نے آرمی چیف سے ڈھائی گھنٹے ملاقات کی۔ وفد کو اصل حقائق سے آگاہ کیا گیا اس ملاقات میں امریکی وفد نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی فوج کی خدمات اور بے پناہ قربانیوں کا اعتراف کیا۔ وفد نے وزیر اعظم، نائب وزیر اعظم اور دیگر وزراء سے بھی ملاقاتیں کیں خان سے ملنا بھول گئے۔ ’’اِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا‘‘ امریکی وفود اوور سیز پاکستانی پی ٹی آئی کی جیل سے باہر قائدین اور جیل میں قید بانی سے ملے بغیر واپس چلے گئے۔ اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے اوورسیز کے بچوں کے داخلوں کیلئے کالجوں اور یونیورسٹیز میں کوٹہ مختص کرنے، ایئر پورٹس پر علیحدہ گرین چینلز بنانے اور میر پور میں ایئر پورٹ کی تعمیر سمیت جن متعدد مراعات کا اعلان کیا ان سے حکومت کو ان کے دل جیتنے میں مدد ملی، ان دوروں کے دوران شومئی قسمت سے خان کا ذکر تک نہ ہوا۔ البتہ بیرون ملک پی ٹی آئی کی فنڈنگ بند ہو گئی۔ پی ٹی آئی میں صف ماتم بچھ گئی۔ شہزاد اکبر نے شہباز گل ولد نامعلوم اور عارف علوی کو کوسنے دئیے کہ ’’تم لوگوں نے لاکھوں ڈالر لابسٹ فرموں پر ضائع کر دئیے نتیجہ کیا ہوا۔‘‘ امریکی وفود اور دیگر اوورسیز کے دورے پی ٹی آئی پر 
ڈرون حملے ثابت ہوئے ہمیں اب خان کی رہائی بھول جانی چاہیے۔ شہباز اکبر اس ’’سینہ کوبی‘‘ میں اکیلے نہیں سارے پارٹی لیڈر جو طویل عرصہ سے احمقوں کی جنت میں رہ رہے تھے زمین پر آ گرے ہیں۔ امریکی حکومت کی خان کے بارے میں سرد مہری اور حکومت پاکستان سے گرم جوشی نے پارٹی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ گویا پارٹی کے سر پر بادل اُمڈ آئے ہیں۔ دکھ کی بات ہے امریکی وفود نے خان اور پارٹی کے دیگر رہنمائوں کو گھاس تک نہیں ڈالی، ’’توقع جن سے تھی کچھ خستگی کی داد پانے کی‘‘ انہوں نے پارٹی کے ساتھ وہ ہاتھ کیا ہے کہ پارٹی چاروں خانے چت پڑی زخم چاٹ رہی ہے۔ خان کو گلہ ہے کہ مجھے ٹیم اچھی نہیں ملی، اچھے مشیر نہیں ملے بلکہ اوورسیز بھی اچھے نہیں ملے، خان اس صدمے سے دوچار آنے جانے والوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔ اوئے کوئی تو ان سے رابطہ کرو، بیرسٹر سیف نے سمجھایا سر جی ان کی طرف سے تو چٹا جواب ہے حکومت سے بات ہو سکتی ہے۔ خان نے ہاں کر دی، اعظم سواتی (امریکا میں محمد بشیر کے نام سے پہچانے جاتے تھے) کو ’’ان‘‘ سے ملاقات کا ٹاسک دیا۔ اعظم سواتی بدھ کو تیار ہو کر مذاکرات کا ’’معرکہ‘‘ سر کرنے نکلے کوئی رابطہ ہوا؟ نہیں، کسی سے مذاکرات ہوئے کوئی ڈیل کوئی ڈھیل؟ ہرگز نہیں، خان کی حالیہ ٹوئٹ نے کام بگاڑ دیا۔ مذاکرات کیلئے مچلنے والوں کے چہرے لٹک گئے۔ عوام کو کیا منہ دکھائیں ریلیف کیا ملتا تکالیف بڑھ گئیں۔ ملاقاتوں پر پابندی، اوپر تلے بُری خبریں مل رہی ہیں، آئندہ چالیس روز خطرناک پھندہ تیار، بانی کے لیے بُری خبریں سوہان روح ثابت ہو رہی ہیں، اقتدار سے محرومی مقدر، پارٹی آٹھ دھڑوں میں تقسیم، معافی کا آپشن ختم، 20 اپریل کو جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اجازت نہیں ملی، سیانوں کا کہنا ہے کہ حالات کے ذمہ دار خود ’’پیارے خان‘‘ ہیں ان کے معافی نامے پر کسی نے توجہ نہیں دی، مسترد ہی سمجھا جائے۔
اتحادی حکومت خود بھی اتحادیوں کے ہاتھوں پریشان ہے۔ سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی نے کینالز کے مسئلہ پر ناک میں دم کر رکھا ہے۔ منصوبہ کی منظوری دینے والے آصف زرداری بیماری کے باعث منظر سے غائب ہیں بلاول بھٹو نے گڑھی خدا بخش اور حیدر آباد کے جلسوں میں حکومت چھوڑنے کی دھمکی دی ہے حکومت کو مشترکہ مفادات کی کونسل بلانے کی شاید فرصت نہیں، معاملہ کیسے حل ہو گا، پی پی الگ ہو گئی تو 58 ارکان کی حمایت کہاں سے ملے گی۔ وزیر اعظم اس وقت قومی اسمبلی تحلیل کرنے اور انتخابات کرانے کا رسک نہیں لے سکتے، کسی کو تو مداخلت کرنا پڑے گی۔

ٹیگز: