واشنگٹن :امریکی حکومت نے ایچ ون بی (H-1B) ورک ویزا کی فیس میں غیر معمولی اضافہ کر کے بیرون ملک سے روزگار کے خواہشمند افراد کو حیران کر دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ نئے حکم نامے کے مطابق اب اس ویزا کی فیس ایک لاکھ ڈالر مقرر کر دی گئی ہے۔
اس اچانک اور بڑے اضافے کو ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن محدود کرنے کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بعض صورتوں میں کمپنیوں پر مزید مالی بوجھ بھی ڈالا جا سکتا ہے، تاکہ "امریکی ملازمتوں کو امریکی شہریوں کے لیے محفوظ" رکھا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کمپنیوں کے لیے بڑا دھچکا ہے جو عالمی سطح پر باصلاحیت افراد کو بھرتی کرتی ہیں، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر، جو بھارت اور چین جیسے ممالک سے بڑی تعداد میں ماہرین کو بھرتی کرتا ہے۔
پہلے ایچ ون بی ویزا کی فیس215 ڈالر سے شروعہوتی تھی اور دیگر مراحل کے ساتھ چند ہزار ڈالر تک جا سکتی تھی۔ لیکن اب ایک لاکھ ڈالر کی مقررہ فیس نے نہ صرف غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے امریکا میں روزگار کے مواقع کو محدود کر دیا ہے بلکہ کمپنیوں کے لیے بھی بھرتیوں کے اخراجات بڑھا دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پالیسی طویل المدت میں امریکا کی ٹیکنالوجی صنعت اور عالمی مسابقتی صلاحیت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ ہنر مند افراد امریکا آنے کے بجائے دوسرے ممالک کا رُخ کر سکتے ہیں۔