Wed, September 16, 2026

پارٹ آف سروس

 پارٹ آف سروس

بے شرمی بے حیائی بے مروتی بدتمیزی و بداخلاقی کی آگ بڑی تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے، ایک طوفان بدتمیزی ہر طرف برپا ہے، عدم برداشت کی آلودگی کے سامنے رشتوں کی کوئی قدرو قیمت بھی اب نہیں رہی، یہ معاملہ پچھلے چار پانچ برس میں انتہا تک پہنچ گیا ہے، میں اب کسی محفل میں کسی سیاسی موضوع پر گفتگو کرنے سے ہر ممکن حد تک گریز کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں میں چاہے کتنے سلیقے، شائستگی، دھیمے پن اور دلائل کے ساتھ کوئی بات کروں گا پھر بھی اکثر لوگ میرے ساتھ وہی سلوک کریں گے یا وہی رویہ اپنائیں گے اب جو اس معاشرے کی شناخت ہے، ہم دوسروں کو صرف اپنی سنانا چاہتے ہیں کسی اور کی سننا ہی نہیں چاہتے، جیسے ہم صرف دوسروں کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، خود نہیں ہونا چاہتے، اور دوسروں کو بھی ہم صرف اپنے لئے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، باقیوں کے ساتھ چاہے وہ کتنی ہی بدسلوکی کیوں نہ کریں، ہمیں اس کی کوئی پروا ہی نہیں ہوتی، اس عالم میں خاموشی ہی بہتر ہے تاکہ تھوڑی بہت جو عزت بچ گئی ہے وہ بچی رہے، بعض اوقات بولنے اور بَکنے میں فرق بْھول جانے والے ہمارے اینکر شاہزیب خانزادہ کے ساتھ جو کچھ ہوا غلط ہوا، مجھے ذاتی طور پر اس کا افسوس ہے، اْن کی بیگم صاحبہ کی موجودگی میں اْن کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے کے سامنے تصویر کا شاید ایک رخ تھا، ضروری نہیں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بارے میں اپنے پروگرام میں جو کچھ شاہزیب خانزادہ نے کہا وہ اْن کی ذاتی یا مستقل رائے ہو، بعض اوقات بلکہ اب تو اکثر اوقات ہمارے اکثر اینکرز کو اپنے ادارے کی پالیسی فالو کرنا پڑتی ہے، چنانچہ ممکن ہے اْن کے ادارے نے جو حکم اْنہیں دیا ہو اْس کی اْنہوں نے من و عن تعمیل کر دی ہو، اور ضروری نہیں اْن کے ادارے کی بھی یہ اپنی پالیسی ہو، ممکن ہے اْن کے ادارے کو جو حکم اْوپر سے ملا ہو اْنہوں نے من و عن اْس کی تعمیل کر دی ہو، عدم تعمیل کی صورت میں معاملات جس حد تک اب بگڑ جاتے ہیں ماضی میں اس کا کوئی تصور ہی نہیں تھا، میں اکثر سوچتا ہوں میڈیا نے جتنی مشکل سے آزادی یا رہائی حاصل کی تھی اْتنی آسانی سے اْسے گنوا دیا، میڈیا کو اپنی اہمیت اور عزت آبرو کا وہ مقام اب شاید ہی دوبارہ کبھی مل سکے گا، ابھی تو صرف بات کرنے یا لکھنے لکھانے پر پابندیاں قبول فرما لی گئی ہیں، آئندہ سوچنے کی پابندی بھی اگر لگ گئی اس پر بھی کوئی احتجاج نہیں ہونا، ممکن ہے مردہ آئین میں ایک نئی ’’روح‘‘ اب یہ پھونک دی جائے اگر کسی پر ہلکا سا یہ شبہ گزرے وہ نقلی یا اصلی حکمرانوں کے خلاف سوچ رہا ہے یا اْن کے مخالفین کے حق میں سوچ رہا ہے اْسے فوراً گرفتار کر لیا جائے۔ میں حیران ہوں جب لوگوں کو پتہ ہے ہمارے اکثر صحافی و اینکرز وغیرہ اپنی نوکریوں کی وجہ مجبور ہیں پھر کیوں پبلک مقامات پر اْنہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اْن پر آوازے کسے جاتے ہیں، اْنہیں گالیاں دی جاتی ہیں، اْن کے لئے غلیظ الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے؟ آج اگر شاہزیب خانزادہ نے بشریٰ بی بی پر گھٹیا تنقید کی ہے، عورت کے ’’مخصوص معاملات‘‘ زیر بحث لا کر اپنی زبان پلید کی ہے ہو سکتا ہے کل کلاں ایسا وقت آ جائے یا پھر ایسا ماحول بن جائے جس میں وہ بشریٰ بی بی کو انتہائی فرشتہ صفت عورت قرار دینے لگیں، مجھے اس موقع پر ایک واقعہ یاد آ رہا ہے، بہت سال پہلے میرے ایک پروفیسر صاحب کے بیٹے کا کسی سے جھگڑا ہو گیا جس کے نتیجے میں اْس بیچارے کا سر پھٹ گیا، پروفیسر صاحب اپنے زخمی بیٹے کو تھانے لے کر گئے تو وہاں وہ لڑکے پہلے سے موجود تھے جنہوں نے اْن کے بیٹے کا سر پھاڑا تھا، ایس ایچ او اْنہیں بڑا پروٹوکول دے رہا تھا، اْس نے پروفیسر صاحب کی بات ہی نہیں سْنی، بلکہ اْلٹا اْنہیں گالیاں دینے لگا اور اْن کے زخمی بیٹے کے خلاف ایف ائی آر بھی دے دی، کیونکہ مخالف پارٹی نے ایس ایچ او کو اْس وقت کے ایک ایم این اے کے بیٹے سے فون کرا دیا تھا، مجھے جب اس واقعے کا پتہ چلا میں نے فوری طور پر اْس وقت کے آئی جی طارق سلیم ڈوگر سے رابطہ کیا، اْنہوں نے متعلقہ ایس پی کو حکم دیا ’’ایس ایچ او کو معطل کر دو اور کل تک اس واقعے کی مکمل انکوائری کر کے مجھے رپورٹ دو‘‘، ایس پی کو کسی ذریعے سے پتہ چل گیا آئی جی کے نوٹس میں یہ واقعہ میں لایا ہوں، اْس نے فون پر مجھ سے کہا، ’’سر میرا یہ ایس ایچ او بہت اچھا افسر ہے، اس مہینے اْس نے چار بڑے اشتہاری گرفتار کیے ہیں علاقے کا کرائم کنٹرول کرنے کی بھی پوری کوشش کرتا ہے، اْس سے غلطی ہو گئی ہے، آئی جی صاحب بہت غصے میں ہیں، میں اسے ابھی پروفیسر صاحب کے گھر لے جاتا ہوں، آپ بھی اْدھر آ جائیں، یہ اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہے، اسے معافی دلوا دیں ‘‘۔ میں نے ایس پی سے کہا ’’اشتہاری تو پتہ نہیں اس ایس ایچ او نے پکڑے ہیں یا نہیں؟ اپنے علاقے کا کرائم تو پتہ نہیں یہ کنٹرول کرتا ہے یا نہیں؟ لیکن جتنی تم اْس کی صفائیاں دے رہے ہو لگتا ہے یہ ’’منتھلی‘‘ تمہیں پوری پہنچاتا ہے‘‘۔ بہرحال میں جب پروفیسر صاحب کے گھر پہنچا ایس پی اور ایس ایچ او وہاں پہلے سے موجود تھے، ایس ایچ او پروفیسر صاحب کے پاؤں میں گرا اْن سے معافیاں مانگ رہا تھا، پروفیسر صاحب اْسے اْٹھا رہے تھے مگر وہ مسلسل کہے جا رہا تھا ’’سر جب تک آپ مجھے معاف نہیں کریں گے میں ادھر آپ کے پاؤں میں ہی بیٹھا رہوں گا ‘‘۔ میں نے اْس ایس ایچ او سے کہا ’’تم کوئی بڑے ہی بے غیرت انسان ہو، کل جس شخص کو اپنے تھانے میں تم گالیاں دے رہے تھے، مظلوم ہونے کے باوجود اْس کے زخمی بیٹے کے خلاف پرچہ بھی کاٹ دیا، آج اْسی شخص کے تم پاؤں میں گرے ہوئے ہو، تمہیں شرم نہیں آتی؟‘‘۔ میری بات سْن کر بڑی ڈھٹائی سے اْس نے میری طرف دیکھا کہنے لگا ’’سر اس میں بے غیرتی اور بے شرمی والی کیا بات ہے؟ یہ تو ہمارا ’’پارٹ آف سروس‘‘ ہے، کل پروفیسر صاحب کے مخالفین کا پلڑا بھاری تھا میں پروفیسر صاحب کو گالیاں دے رہا تھا آج پروفیسر صاحب کا پلڑا بھاری ہو گیا ہے تو میں نے صبح ان کے مخالفین کو نہ صرف غلیظ گالیاں دی ہیں بلکہ ان کے بیٹے کے خلاف دی جانے والی ایف آئی آر خارج کر کے ان کے مخالفین پر دے دی ہے‘‘۔ 
سو میرے محترم بھائی شاہ زیب خانزادہ کو جو کچھ بشریٰ بی بی کے بارے میں کہنا پڑا وہ ’’پارٹ آف سروس‘‘ ہے، پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے یہ اْن کی ذاتی رائے یا سوچ نہیں تھی، بظاہر وہ ایک مہذب انسان معلوم ہوتے ہیں، کسی مہذب انسان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی وہ اپنے پروگرام میں عورتوں کے پوشیدہ معاملات زیر بحث لائے، مجھے لگتا ہے شاہ زیب خان زادہ پر کوئی ’’جادو ٹونہ‘‘ ہو گیا ہے، اْنہیں کوئی ’’چڑیل‘‘ چمٹ گئی ہے۔

ٹیگز: