Wed, September 16, 2026

ایمل کانسی سے لیکرعافیہ صدیقی تک…

ایمل کانسی سے لیکرعافیہ صدیقی تک…

یہ تو لکھی پڑھی بات ہے کہ ہم کسی برتن کے ڈھکن نہیں کبھی ہم امریکہ کے ساتھ اور کبھی امریکہ کے خلاف ہوتے ہیں اسی طرح مطلب کیلئے کبھی سعودیہ کو مائی باپ کہتے ہیں اور کبھی آنکھیں چرالیتے ہیں نہ ہماری گھر میں کبھی بنی ہے اور نہ ہی ہمسایوں سے ؟ہم نے ملک کی بجائے ہمیشہ اپنے مفاد کو ترجیح دی اس کیلئے چاہے ملکی مفاد ہی کیوں نہ دائو پر لگا دیا جائے جون 1997 کے وہ تکلیف دہ اور ذلت آمیز دن نہیں بھولتے جب نواز شریف حکومت نے ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کیا تھا تو مقدمے کے دوران امریکی وکیل نے کہا تھا پاکستانی چند ڈالر کے عوض ماں بھی بیچ دیتے ہیں اس کے بعد ملک میں جو ہاہا کار مچی تھی وہ سنجیدہ اور محب وطن حلقوں کو آج بھی یاد ہے۔ اسی بارے میں گوہر ایوب اپنی کتاب ایوان اقتدار میں لکھتے ہیں کہ ایمل کانسی کو چودھری نثار علی خان کے ذریعے امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا وہ لکھتے ہیں جون 1997 میں سابق امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ نے استنبول میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو ایمل کانسی کی حوالگی کے بارے میں فون کیا تھا جواب میں نواز شریف نے ایک گھنٹہ بعد فون کرنے کو کہا نواز شریف نے چودھری نثارعلی کی ڈیوٹی لگا ئی تھی جس کے بعد ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کتنے محب وطن ہیں اور عوام کا کتنا درد رکھتے ہیں افسوس تو اس بات کا ہے کہ قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی جو ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہیں کو لاکھوں کوششوں کے باوجود رہائی نہیں دلا سکے ہماری تو کوشش یہ ہے کہ کمایا کس طرح جائے کس طرح فنڈنگ کے نام پر بینک بیلنس بڑھایا جائیدادیں بنائی جائیں اسی پلان پر دن رات عمل پیرا ہیں ورنہ ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے اللہ کا دیا سب کچھ ہے چار موسم ہمارے پاس ہیں وسائل کی کمی نہیں صرف نیتوں میں فتور ہے اسی لئے آج کوڑی کوڑی کے محتاج ہیں دوسری طرف شہر اقتدار پر قابض چند خاندانوں کی وجہ سے ہمارے ہاں اس وقت مایوسی کی فضا نے قوم کوپریشان کر رکھا ہے ہر دوسرا بندہ روزی روٹی کی وجہ سے سر پکڑے بیٹھا ہے جبکہ تعلیم صحت کے نام پر قرضے لیکر ہڑپ کیے جا رہے ہیں بدلے میں عوام کو صحت ملی نہ تعلیم؟ بات یہاں ہی نہیں رکی حکومت نے آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری کیلئے آخری شرط بھی پوری کرنے کی ٹھان لی کیونکہ ہمارے ہاں کرپشن کے ناسور کی جڑیں اس قدر مضبوط اور گہری ہو چکی ہیں کہ شاید بڑے آپریشن سے بھی انہیں ختم نہیں کیا جا سکتا جبکہ لوٹ مارکی وجہ سے ہماری گورننس بھی بہت متاثر ہو رہی ہے، ملک میں یکساں قانون ہے اور نہ ہی انصاف کی عملداری ہے اشرافیہ طبقات تو قانون سے بالکل ہی دورہے قانون صرف ماڑے کیلئے ہے ورنہ سیاستدانوں پر جتنے کیس بن چکے ہیں آدھے سے زیادہ پھانسی کے پھندے پر چڑھ چکے ہوتے، ترمیم پہ ترمیم کے نام پر ملک کے بڑے مگرمچھوں کو جو تحفظ فراہم کیا ہے اسکی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی کیونکہ عام آدمی تو اتنا بڑا ہاتھ مار نہیں سکتا اسکی کرپشن کی پہنچ سیکڑوں میں نہیں تو ہزاروں میں ہو سکتی ہے جبکہ اربوں کی کرپشن یا تو ادارہ جاتی سطح پر ہوتی ہے یا حکومتی سطح پر ہی کی جاسکتی ہے جبکہ آئی ایم ایف نے پہلی مرتبہ حکومت پر اخراجات کم کرنے کا زوربھی نہیں دیا گیا اس سے پہلے بھی وہ حکمرانوں کو کہہ چکا ہے کہ وہ اپنے شاہی اخراجات کو کنٹرول کریں مگر مجال ہے آئی ایم ایف کی کہ وہ ہمارے حکمرانوں سے اپنا یہ مطالبہ منوا سکے ابھی گزشتہ سال کی بات ہے کہ وفاقی وزراء کیلئے 25 لگژری گاڑیاں خریدی گئیں جن کی مبینہ طور پر لاگت 61 کروڑ 24 لاکھ 75 ہزار بتائی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک صوبائی حکومت کا بھی وی وی آئی پیز کیلئے 79 نئی لگژری گاڑیاں خریدنے کا منصوبہ سامنے آیا تھا، اندازہ کیجئے کہ صرف 25 لگژری گاڑیوں کی قیمت سوا 61 کروڑ کے لگ بھگ تھی تو 79 لگژری گاڑیوں کی لاگت کیا ہوگی؟ ظاہر ہے یہ پیسہ وی وی آئی پیز نے اپنی جیب سے تو نہیں دیا ہوگا ایسی عیاشی عوام کے ٹیکس پر ہی کی جاتی ہے،ان عیاشیوں کے ساتھ ساتھ مراعات کی برسات الگ ہوتی ہے جن میں بجلی گیس پٹرول انہیں مفت دستیاب ہے، ایسے میں آئی ایم ایف کا یہ مطالبہ بھلا انہیں کیسے وارا کھا سکتا ہے، آئی ایم ایف پاکستانی عوام سے تو انکے منہ کا آخری نوالہ بھی چھین چکا ہے بجلی گیس کے بلوں کی آڑ میں؟ بیوروکریسی اور سیاسی حلقوں میں کرپشن اس قدر عام ہے کہ پاکستان مختلف عالمی بدعنوانی کے انڈیکس میں اعلیٰ مقامات پر پہنچ چکا ہے، احتساب کم ہوتا ہے، منصوبہ بندی کمزور ہے مگر قرض ہمیشہ دستیاب رہتا ہے، شاید عالمی مالیاتی ادارہ بھی جان چکا ہے کہ پاکستان کو پیسے سے زیادہ پیسوں کے ایڈونچر کی ضرورت ہے آج لوٹ مار کی دولت چھپانے کیلئے بھی نت نئے طریقے تیار کرلیے گئے ہیں اور اس کی کوئی حد نہیں ہمیں تو پیسے چاہئیں چاہے ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کرنے سے ملیں یا پھر عافیہ صدیقی کو؟؟؟۔

ٹیگز: