چوپال میں نتھو، پھتو،چاچا رفیق، چاچا رشید،تیلی پہلوان سمیت سب ہی براجمان تھے۔ چاچا رفیق اخبارکے مطالعے میں مصروف تھے۔ نتھو اور پھتو نے کہاکہ چاچا جی کچھ حالات حاضرہ پر بات کریں۔۔۔ ملک کے حالات کس طرف جارہے ہیں؟اور پاکستان میں کیاکچھ ہورہا ہے؟۔ اس پر چاچا رفیق نے کہاکہ چپ سائیں جی کے آنے سے پہلے یہ کہوں گاکہ اس وقت دنیا بھر میں پاکستان کا نام گونج رہا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بیرون ملک میں گرین پاسپورٹ کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔چاچا رفیق ابھی بات کررہے تھے کہ چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ہوئے اور کھنگورا مارتے ہوئے چوپال کی طرف آئے۔ سب احتراماکھڑے ہوگئے، چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ نتھو، پھتو جھٹ سے بولے۔۔سائیں جی۔۔آپ کے آنے سے قبل چاچا رفیق پاکستان کے نام اور گرین پاسپورٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے بارے میں بتارہے تھے۔۔ اب آپ روشنی ڈالیں۔۔۔!
چپ سائیں نے کہا بے شک بچوں۔۔۔ دنیا بھر میں اس وقت پاکستان کا نام گونج رہا ہے اور تعریفی کلمات زبان زد عام ہیں، یہی نہیں بیرون ملک میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور گرین پاسپورٹ کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔۔بچوں۔۔ پاکستا ن جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم ملک ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملکی سیاسی وعسکری قیادت کی وجہ سے ہم ہرلحاظ سے دشمنوں پر دھاک بٹھا رہے ہیں اوردنیا بھر کی نظروں اور خبرو ں میں ہیں۔۔
صاحبو!ذر ا تاریخ پر نظر دوڑائیں۔۔۔ اکیسویں صدی کا تیسرا عشرہ عالمی سیاست میں ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں پرانی طاقتوں کا زوال اور نئی طاقتوں کا ابھار ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والا یک قطبی نظام اب تیزی سے کثیر قطبی دنیا میں بدل رہا ہے۔ اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان جیسے جغرافیائی اور سیاسی طور پر اہم ملک کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہوگیا ہے کہ کیا وہ ایک ایسی خارجہ پالیسی تشکیل دے پائے گا جو نہ صرف متوازن ہو بلکہ قومی خودمختاری کی حقیقی عکاسی بھی کرے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ زیادہ تر سکیورٹی اور دفاعی ضروریات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے جسے ''جیو اکنامکس'' کا نام دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد پاکستان کی سٹرٹیجک لوکیشن کو تجارت، ٹرانزٹ اور توانائی کی راہداری کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ پاکستان کی یہ خواہش ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے درمیان تنازعات کا حصہ بننے کے بجائے معاشی تعاون کا مرکز بنے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا سفارتی امتحان چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئے سرد جنگ میں اپنا توازن برقرار رکھنا ہے۔
دوستو! چین پاکستان کا آہنی برادر ہے اور سی پیک کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ بیجنگ کے ساتھ تعلقات پاکستان کی دفاعی اور معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔دوسری جانب، امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار رہا ہے۔ ٹیکنالوجی، تعلیم، اور سب سے بڑھ کر عالمی مالیاتی اداروں میں واشنگٹن کا اثر و رسوخ پاکستان کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ امریکہ سے بگاڑ پیدا نہ کرے۔ اس کے علاوہ ہماری سول وملٹری قیادت کے وائٹ ہاو¿س میں چرچے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بھی معترف ہیں جو ہمارے لیے ایک اعزاز ہے۔
صاحبو!کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کی خودمختاری اسکی معاشی مضبوطی سے جڑی ہوتی ہے۔ پاکستان کا پڑوس ہمیشہ سے اس کی خارجہ پالیسی کا محور رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں جمود اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پاکستان کی سفارتی توانائی کا ایک بڑا حصہ صرف کر دیتی ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون پاکستان کےلئے نئے امکانات پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو واقعی خودمختار بنانے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔ سیاسی اور معاشی استحکام کے بغیر خارجہ پالیسی میں جان نہیں آ سکتی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ صرف چند ممالک پر انحصار کرنے کے بجائے دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں (جیسے آسیان ممالک اور افریقہ) کے ساتھ تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی، اسلامو فوبیا اور عالمی انصاف جیسے معاملات پر اپنا مقدمہ مزید مضبوطی سے لڑنا ہوگا۔
صاحبو!مجموعی طور پر، پاکستان ایک انتہائی کٹھن دور سے گزر رہا ہے جہاں اسے ایک طرف بڑی طاقتوں کے مفادات کا ٹکراو¿ نظر آتا ہے اور دوسری طرف اپنی معاشی مجبوریاں۔ پاکستان نے اب تک ''متوازن'' رہنے کی کوشش تو کی ہے، لیکن ''خودمختاری'' کا مکمل حصول ابھی منزلِ مقصود ہے۔ حقیقی خودمختاری اس وقت ہوگی جب پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر دنیا کو یہ بتانے کی پوزیشن میں ہوگا کہ اس کے فیصلے کسی غیر ملکی دارالحکومت میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں کیے جاتے ہیں۔ چلتے چلتے یہ بات کرتے جائیں کہ دنیا بھر کی نظریں اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ، ایران مذاکرات پر ہیں،آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور ہونے والا ہے اور اس وجہ سے وہاں پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ خیر دلچسپ امر یہ ہے کہ دنیا کی سیاسی بساط میں پاکستان امن کا داعی بن کر انتہائی اہم کردار کررہا ہے۔
صاحبو!آج کی دنیا میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ موبائل فونز اور سوشل میڈیا پر لڑی جا رہی ہیں۔ پاکستان کو ایک ''خودمختار'' خارجہ پالیسی اپناتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر منفی پراپیگنڈے اور 'ففتھ جنریشن وارفیئر' کا سامنا ہے۔ بدلتی دنیا میں اب صرف ٹینک اور جہاز طاقت کی علامت نہیں رہے۔ وہ ممالک زیادہ خودمختار ہیں جو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید سائنس میں آگے ہیں۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں ٹیکنالوجی کے تبادلے کو ترجیح دینی ہوگی تاکہ وہ دفاعی اور معاشی طور پر کسی ایک ملک کا محتاج نہ رہے۔یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک ابھرتا ہوا اور اہم ترین پہلو ہے۔دوستو!پاکستان کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب اسے ''قومی مفاد'' اور ''عوامی جذبات'' کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت 'جارحانہ' ہونے کے بجائے 'حکمت عملی' سے کام لینے کی ضرورت ہے تاکہ اپنے لیے محفوظ راستہ نکال سکے،دنیا بھر میں جس طرح ہماری ثالثی، سول، ملٹری قیادت کی تعریفیں ہورہی ہیں،خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ سبز پاسپورٹ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔