واشنگٹن / تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کو ایک پیچیدہ 'شطرنج' قرار دے دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع محض طاقت کا نہیں بلکہ ذہانت کا امتحان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، "ہم بہت ہوشیار لوگوں سے یہ کھیل رہے ہیں، ہم انتہائی ذہین اور اونچے پیمانے کا آئی کیو (IQ) رکھنے والے لوگوں سے نمٹ رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے محاذ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل نے خطے کی جنگی صورتحال پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی سب سے اہم 'پارس گیس فیلڈ' پر حملہ کیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ایران کی معاشی شہ رگ کو نقصان پہنچانا تھا، جس کے بعد تہران اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی اہم گیس تنصیبات پر مزید حملے روکنے کا دارومدار اب ایران کے اگلے قدم پر ہے۔اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایران قطر پر دوبارہ حملہ نہیں کرتا، تب تک پارس گیس فیلڈ پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔ امریکہ اس 'شطرنج کے کھیل' میں ایران کو مزید جارحیت سے روکنے کے لیے سفارتی اور عسکری دباؤ کا استعمال کر رہا ہے۔