اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جاری سفارتی عمل کے سلسلے میں 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اہم تکنیکی مذاکرات ہوں گے، جن میں پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں منعقد ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے شدہ نکات پر پیش رفت کا جائزہ لینا اور آئندہ اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ یہ اجلاس معاہدے پر دستخط کے بعد ہونے والے رابطوں کا تسلسل ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امن عمل میں سہولت کار اور ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے تعاون فراہم کرتا رہے گا۔
دریں اثنا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور جلد مزید پیش رفت کی توقع ہے۔ ان کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، جبکہ وہ خود بھی آئندہ چند روز میں وہاں جا سکتے ہیں۔
PR No.1️⃣4️⃣8️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) June 20, 2026
Technical-Level Talks Under the Islamabad Memorandum of Understanding
⬇️ pic.twitter.com/9FbJ4WB1Bp
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایرانی وفد مذاکرات میں شرکت کے لیے جلد سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تہران مذاکرات کے دوران مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد اور تمام فریقوں کی جانب سے وعدوں کی پاسداری پر زور دے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے، اب دیگر فریقوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی تکمیل کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کیا گیا تو مفاہمتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ مسلسل خلاف ورزیوں کی صورت میں ایران مناسب ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔