Wed, September 16, 2026

مال گاڑی میں امانتیں.... !

مال گاڑی میں امانتیں.... !

”مال گاڑی میں امانتیں“، کسی قصے ، کہانی یا مضمون کا عنوان نہیں بلکہ ایک کتاب کا نام ہے جس میں کتنے ہی واقعات ، کتنی ہی کہانیاں، کتنے ہی شواہد اور کتنی ہی دستاویزات دی گئی ہیں جن کاتعلق 1947ءمیں قیامِ پاکستان کے حالات و واقعات سے جُڑتا ہے تو اس کے ساتھ ان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اگست 1947 ءمیں متحدہ ہندوستان کی دو آزاد مملکتوں یا ریاستوں پاکستان اور بھارت میں تقسیم کے وقت برٹش انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی سے نوزائیدہ مملکت پاکستان کے بہت دور واقع دارالحکومت کراچی تک مملکتِ خدادادِ پاکستان کے عمال کے ذاتی سازو سامان اور سرکاری اثاثوں کو پہنچانے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ،اس کے لیے کتنی تگ ودوکی گئی اور سامان اور اثاثے پہنچانے کی ذمہ داری لینے والے کیرج کنٹریکٹرچوہدری محمد اسماعیل بندھانی کو اس میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بلا شبہ یہ حقائق و شواہد سے عبارت ایک بڑی ولولہ انگیز داستان ہے جسے کیرج کنٹریکٹر چوہدری محمد اسماعیل بند ھانی کے فرزند محمد حنیف بندھانی سینئر ایڈووکیٹ سندھ ہائی کورٹ نے بڑے ولولے ، جذبے اور دستاویزی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے تحریر کیا ہے۔ یہ ایک لحاظ سے محمد حنیف بندھانی ایڈووکیٹ کی خود نوشت یا آپ بیتی ہے تو اس کے ساتھ اُن کے قابلِ قدر والد چوہدری محمد اسماعیل بند ھانی جو نئی دہلی میں انڈین گورنمنٹ کے ساتھ کیرج کنٹریکٹر کے طور پر رجسٹرڈ تھے کی زندگی کے اہم حالات و واقعات اور اُن کے خاندانی پس منظر و پیش منظر پر بھی محیط ہے۔ اس کے ساتھ اس میں جولائی تا ستمبر 1947ءمیں دہلی میں مسلمان کنبوں کو جن مشکلات و مصائب کا سامنا تھا اُس کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ 
”مال گاڑی میں امانتیں“ 192 صفحات پر مشتمل ایک خوبصورت تصنیف ہے جسے قلم فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل لاہور کے علامہ عبدالستار عاصم نے خوبصورت گردو پیش ، پُر کشش سرورق اور مضبوط جلد کے ساتھ اپنے ادارے کی طباعت و اشاعت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے شائع کیا ہے۔ اس میں محمد حنیف بندھانی نے 1947ءمیں جب اُن کی عمر 9 یا 10 سال تھی اور وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ”ملتان ڈھانڈا“ دریا گنج دہلی میں مقیم تھے اور اُن کے والد چوہدری محمد اسماعیل کیرج کنٹریکٹر کے طور پر انڈین گورنمنٹ سے وابسطہ تھے سے لے کر 
جون 2024ءتک 77 سال کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات و واقعات کو بیان کیا ہے جو تقریباً20 صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔93 صفحات (صفحہ 45 تا 137 ) پر ان نادر دستاویزات کے عکس چھاپے گئے ہیں جنہیں معروف دانشور، سینئر صحافی اور ایڈیٹر جناب محمود شام کے ادارے ”اطراف مطبوعات “ نے ترتیب دے رکھا ہے۔ ان نادر دستاویزات سے کتاب کو جو ”مال گاڑی میں امانتیں“ کا نام دیا گیا ہے کی وضاحت ہوتی ہے تو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ چوہدری محمد اسماعیل کیرج کنٹریکٹر کو نئی دہلی سے پاکستان کے دارالحکومت کراچی منتقل ہونے والے سرکاری عمال کا ذاتی سازو سامان اور سرکاری اثاثے لانے کے لیے کتنی مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور نوزائندہ مملکت پاکستان کے ٹرانسفر آفیسر کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی شرائط کے مطابق انہیں حکومت کی طرف سے معاوضے کے بل کی منظوری اور ادائیگی میں بھی کتنی رکاوٹیں حائل رہیں ۔ قیامِ پاکستان کے کوئی 9 سال بعد 1956ءمیں انہیں اپنے معاوضے کے پیش کردہ95418/- روپے کے بل کی بجائے 29611/- روپے کی ادائیگی ہوئی اور انہوں نے (چوہدری محمد اسماعیل ) نے اپنے ساتھ باربرداری کا کام کرنے والے مزدوروں کو ایک ایک کر اُن کی مزدوری ادا کر کے اُن سے رسیدیں حاصل کیں۔ کتاب ”مال گاڑی میں امانتیں“کے صفحہ 138 تا 154( 17 صفحات )پر جناب محمد حنیف بندھانی اور اُن کے اہلِ خانہ کی تصاویر دی گئی ہیںتو 6 صفحات (صفحہ 155 تا 160 ) پر بعض مخیر حضرات کی مدد سے جناب محمد حنیف بندھانی کی طرف سے بادامی سٹریٹ اسلام پورہ کراچی میں تعمیر کردہ مسجد اور تعلیمی ادارے کی تصاویر دی گئی ہیں ان کے علاوہ جناب حنیف بندھانی نے اسحاق آباد کراچی میں اپنے تعمیر کردہ اپنے گھر کی تصاویر بھی دے رکھی ہیں۔ 
ان ساری دستاویزات کے عکس اور تصاویر بلا شبہ بڑی قابلِ قدر ہیں لیکن ان کے ساتھ معروف دانشور ، صحافی اور سینئر ایڈیٹر جناب محمود شام صاحب کی دیباچے کے طور پر تاریخی تحریر اور اس کے ساتھ معروف مجلے ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ کے چیف ایڈیٹر ، بزرگ صحافی اور نامور دانشور جناب الطاف حسین قریشی اور قلم فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل کے مدارالمہام جناب علامہ عبدالستار عاصم کے کتاب پر مفصل تبصرے بھی انتہائی قابلِ قدر اور پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی سمیت سید جعفر احمد اور مصنف محمد حنیف بندھانی کے خطاب کے اقتباسات بھی خاصے کی چیز ہیں۔ جناب محمود شام کیرج کنٹریکٹر چوہدری محمد اسماعیل کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے رقم طراز ہیں ،”کتنے خوش قسمت تھے چوہدری محمد اسماعیل کہ یہ کوئی عام ٹینڈر نہیں تھا ۔ نہ ہی کوئی معمول کا ٹھیکہ تھا۔ انڈین سول سروس کے ان افسروں میں سکندر مرزا بھی تھے جو بعد میں 1956ءکے آئین کی تخلیق کے بعد صدرِ مملکت بنے۔۔۔۔۔۔ ان میں چوہدری محمد علی ، قدرت اللہ شہاب اور بہت دوسرے جن افسروں کی امانتیں حنیف بندھانی ایڈووکیٹ کے والد ِ محترم چوہدری محمد اسماعیل نے بلووں ، فسادات اور ٹرینوں پر حملوں کے دوران ساتھ لائے۔ یہ ایک اہم تاریخی ذمہ داری تھی ۔اس کے بعد انہیں جن ابتلاﺅں سے سے گزرنا پڑا ، جن کے اثاثے انہوں نے بحفاظت پاکستان پہنچائے انہی افسروں نے ان کے بلوں کی ادائیگی روکے رکھی“۔
محترم جناب الطاف حسن قریشی ”مال گاڑی میں امانتیں“ کے بارے میں لکھتے ہیں ،”تاریخ ہمیشہ تلوار، تاج اور تختہ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ بڑے بڑے نام ، فتوحات، معاہدے اور انقلابات ہمارے حافظے کا حصہ بنے مگر اصل تاریخ اُن گمنام کرداروں کے اِرد گرد پروان چڑھتی ہے جو زمین کی خاموش رگوں میں خون کی طرح رواں رہتے ہیں۔ انہی خاموش کرداروں میں سے ایک نام چوہدری محمد اسماعیل کا ہے جن کی بے مثال قربانی، فرض شناسی اور دیانتداری کو محمد حنیف بندھانی نے اپنی کتاب”مال گاڑی میں امانتیں“میں زندہ جاوید بنا دیا ہے۔ یہ کتاب ایک زندہ جاوید فرد کی سوانح ہونے سے زیادہ ہجرت، تعمیر ِ وطن اور قومی وقار کے مظاہر کی ایسی داستان ہے جس سے آج کی نسل بہت کچھ سیکھ سکتی ہے“۔جناب علامہ عبدالستار عاصم لکھتے ہیں ،”ہم اکثر اپنے قومی ہیروز کی بات کرتے ہیں ، مگر ان غیر معروف گمنام سپاہیوں کو بھول جاتے ہیں جن کے کندھوں پر یہ مملکت کھڑی ہوئی۔ حنیف بندھانی نے اپنے والد کے ذریعے ایسے ہی ہزاروںافراد کی نمائندگی کی ہے جو تاریخ کی کتابوں میں جگہ نہ پا سکے۔ یہ کتاب ایک بیٹے کے خلوص، ایک وکیل کی جستجو ، ایک مورخ کی تحقیق اور ایک سچے پاکستانی کی ذمہ داری کا حسین امتزاج ہے۔ یہ نہ صرف تاریخ کے طالبعلموں، وکلائ، بینکاروں اور پالیسی سازوں کے لیے اہم ہے بلکہ ہر اُس شخص کے لیے سبق آموز ہے جو ملک و قوم کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے“۔

ٹیگز: