Wed, September 16, 2026

جنگ کے زمانوں میں محبت کی بات کریں

جنگ کے زمانوں میں محبت کی بات کریں

ہر انسان ایک مکمل داستان ہے جو اپنے اندر ایک کائنات رکھتا ہے۔ کس نے کیا فرمایا یہ دانشوروں کی باتیں ہیں مگر جذبوں کا احساس ان کا اظہار ہر شخص کے حالات اور داخلی و خارجی واردات یعنی واردات قلبی و عملی پر منحصر ہے۔ مجھے یاد ہے رزاق جھرنا جو ظہور الٰہی کے قتل میں سولی چڑھ گیا تھا اس کی آخری ملاقات پر اس کے گھر والے بھی ملے۔ اس میں اس کا والد اور والدہ سے مکالمہ قارئین کی نذر ہے۔ منظر کچھ یوں ہے کہ رزاق جھرنا آنسو ہاتھ یا انگلی سے صاف نہیں کرتا بلکہ گردن کو جھٹکا دے کر آنسو کو پرے پھینکتا ہے۔ اس کے والد نے کہا کہ تم کتے ہو میں بھی کتا ہوں کیونکہ تم بھی وفادار ہو اور میں بھی وفادار ہوں۔ رزاق جھرنا کی والدہ بیٹے کو دیکھ رہی ہوتی ہیں اور جھرنا والدہ سے پوچھتا ہے، کیسی ہے وہ؟ والدہ نفرت کرتی ہے تم سے وہ۔ رزاق جھرنا اپنی محبوبہ کی بات کر رہا تھا۔ اب آتا ہے وہ فقرہ جو محبت کا لاجواب اور انمول اظہار ہے۔ والدہ کہتی ہے، نفرت کرتی ہے تم سے۔ جھرنا کہتا ہے کہ پھر کیا ہے ”کچھ فرق نہیں پڑتا ہم جو اس سے محبت کرتے ہیں“۔ کیا انداز اور جذبہ ہے کیا لاجواب اظہار ہے پھر وہ جھرنا گاتا ہوا رات کے آخری پہر
بازار وکیندیاں تاراں
اسیں بھٹو شہید دے یار آں
اس کے بعد بھارتی گانا
زندگی کی ٹوٹے نہ لڑی
پیار کر لیں گھڑی دو گھڑی
گاتا ہوا پھانسی گھاٹ کی طرف چلتا ہے اور بھٹو بہادر، ان کے بیٹوں کے نام کے ساتھ زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا سولی چوم لیتا ہے۔ شائد پورے پاکستان اس کے گھر والوں کے علاوہ صرف ہم ہی دکھی تھے۔ پھر دوسرا فقرہ ہے معروف فنکار جناب دلیپ کمار صاحب کے ایک انٹرویو میں! سوال کرنے والا سائرہ بانو اور ان سے محبت کے حوالے سے سوال کرتا ہے۔ سائرہ بانو کہتی ہیں ”مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا مجھے جو ان سے محبت ہے وہ ہم دونوں کے لیے کافی ہے۔“ سبحان اللہ کیا لاجواب بیان، اظہار ہے محبت کا۔ اس کا معروف شاعر جناب حافظ انجم سعید صاحب سے میں نے تذکرہ کیا اور کلپ انہوں نے دیکھا کہنے لگے کہ کمال یہ حسین خیال اس سے پہلے کسی کو کیوں نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے قارئین، رزاق جھرنا اور سائرہ بانو کے اظہار سے تسلی نہ ہوئی ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ اس اظہار کیلئے شعور، تعلیم، شاعر اور لکھاری ہونا ضروری نہیں۔ چلیں دنیا کے معروف لوگوں کا محبت کے بارے میں بیان آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
ساحر لدھیانوی کے ہاں محبت رومان کی سرحدوں سے نکل کر سماج سے ٹکرا جاتی ہے۔ وہ محبت کو حسن و جمال کی پرستش سے بلند کر کے ایک ایسا رویہ بناتے ہیں جو ظلم، غربت، طبقاتی تفریق کے خلاف احتجاج کرتا ہے۔ اُن کا مشہور شعر:
محبت صرف ان لمحوں کی کہانی نہیں ہوتی
جو جسموں کو جوانی دے، نگاہوں کو روانی دے
ساحر کے نزدیک محبت خواب بھی ہے، انقلاب بھی۔ وہ اس محبوب کو نہیں پوجتے جو صرف حسن کی دیوی ہو، بلکہ اُس محبت کو مانتے ہیں جو انسان کو بیدار کرے، معاشرے کو بدل دے، اور جو فقط وصل کی لذت نہیں، جدوجہد کی تھکن میں بھی جمال تلاش کرے۔ ساحر کی نظموں میں محبوب کے ہونٹوں سے زیادہ بھوکی ماں کا چہرہ بولتا ہے، اور محبت، صرف ذاتی خوشی کا وسیلہ نہیں رہتی بلکہ معاشرتی عدل کا تقاضا بن جاتی ہے۔
فیض احمد فیض عشق کو مزدور کے ہاتھ، قیدی کی آنکھ، اور سرفروش کے خواب کی صورت دیکھتے ہیں۔ ان کے ہاں محبت اور انقلاب، جمال اور کرب، دو انتہاو¿ں کی وحدت ہے۔ ان کا معروف شعر:
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
یہ دراصل محبت کو رد نہیں کرتا، بلکہ اُسے زندگی کے دوسرے دکھوں سے جوڑ کر ایک ہمہ گیر جذبہ بناتا ہے۔ فیض کی محبت، جبر کے خلاف ایک داخلی بغاوت ہے۔ وہ عشق کو ایسی چنگاری بناتے ہیں جو ظلم کی رات کو جلا دے۔ اُن کے ہاں محبوب کی زلف میں اُلجھنا، گلی میں کھڑے رہنا، سب کچھ ہے، مگر یہ سب اس وقت تک ہے جب تک یہ عشق انسان کی آزادی اور خوشی کا رستہ نہ روک لے۔ اس لیے فیض کا عشق، جمال کے ساتھ شعور کی روشنی بھی ہے۔
اب ہم رومی کی طرف بڑھتے ہیں جو عشق کو عشقِ الٰہی، عشقِ حقیقت، اور روحانی وصال کا دروازہ بناتے ہیں۔ ان کے ہاں عشق، وجود کی سرحدوں کو توڑ کر، انسان کو اُس ”اصل“ سے ملا دیتا ہے جہاں نہ لفظ ہوتے ہیں، نہ تمثیل .... صرف احساس ہوتا ہے۔ رومی کہتے ہیں: ”عشق نہ پوچھنے سے ملتا ہے، نہ سیکھنے سے .... وہ آتا ہے، تمہیں توڑ دیتا ہے، پھر جوڑتا ہے، اور تم خود کو پہچان لیتے ہو۔“ رومی کے لیے عشق، خدا تک پہنچنے کی وہ کشتی ہے جس میں بیٹھ کر انسان اپنے جسم، عقل، اور انا سے آگے نکل جاتا ہے۔ وہ اپنے ہر قول میں عشق کو ایک صوفیانہ دائرے میں سمیٹتے ہیں جہاں نہ وصال ضروری ہے، نہ جدائی ہولناک .... بس ایک مکمل تسلیم ہے، ایک فنا جو حقیقت سے جوڑ دیتی ہے۔
اسی جذبے کی ایک اور تجلی ہمیں بیدل دہلوی میں ملتی ہے، جن کی زبان مشکل سہی، مگر مفہوم ایسا کہ عقل خاموش ہو جائے اور دل بولنے لگے۔ بیدل کے ہاں عشق ایک ایسا آئینہ ہے جس میں محبوب کا عکس نہیں، عاشق کی حقیقت نظر آتی ہے۔ وہ عشق کو جُداگانہ، پیچیدہ اور لامتناہی تصور کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں اکثر ”نفس“، ”فنا“، اور ”حیرت“ جیسے الفاظ بار بار آتے ہیں، جو بتاتے ہیں کہ ان کے ہاں عشق ایک مسلسل خودی سے انکاری عمل ہے۔
بیدل کا عشق محض جذباتی نہیں بلکہ فکری، روحانی اور وجودی ہے۔ وہ عشق کو ”حیرت“ کہتے ہیں، اور حیرت وہ پہلا در ہے جس سے عشق کی روحانی گہرائی شروع ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک، محبت وہ آئینہ ہے جس میں دیکھنے والا، دیکھنے والے سے زیادہ، خود کو دیکھ لیتا ہے۔ یوں، ان چاروں مفکرین .... ساحر، فیض، بیدل اور رومی .... کے ہاں عشق نہ محض دل کی دھڑکن ہے، نہ حسن پرستی کا شوق، بلکہ ایک داخلی بیداری، ایک باطنی انقلاب اور ایک ایسا سفر ہے جو خود کو مٹانے سے شروع ہوتا ہے، اور حقیقت سے جڑنے پر ختم ہوتا ہے۔یہی وہ مشترکہ دھارا ہے جو غالب، میر، شیکسپی¿ر، وارث شاہ، جون ایلیا، فیض، ساحر، بیدل اور رومی .... ان سب کے ہاں ہمیں ایک ہی موج میں بہتا نظر آتا ہے: عشق ایک سوال بھی ہے جواب بھی، دکھ بھی ہے شفاءبھی، شور بھی ہے سکوت بھی، فنا بھی ہے بقا بھی۔ اور شاید یہی عشق کی سب سے بڑی خوبی ہے .... کہ یہ ہمیشہ ناتمام رہتا ہے، مگر پھر بھی مکمل لگتا ہے۔ (جاری ہے)

ٹیگز: