حالیہ دنوں بہاولپور میں وقوع پذیر ہونے والے ایک واقعہ نے دل دہلا دیا ہے جب ایک خاتون کئی روز تک کھانے پینے کی ا شیاء سے محروم رہنے کی وجہ سے دم توڑ گئی۔ یہ واقعہ ہے بہاولپور کی کرنا بستی، لوہار والی گلی کا، جب ریسکیو کے اہلکار مذکورہ جگہ پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک خاتون کی لاش جو گل سڑ چکی تھی جب کہ پاس ہی دوسری خاتون مدد کی فریاد کر رہی تھی جو کئی دنوں سے فاقے کی حالت میں تھی۔ اس واقعہ نے ثابت کر دیا کہ ہم سماجی اور معاشرتی طور پر بے حسی کا شکار ہیں۔ یہ جو بھوک ہے کچھ دہائیاں قبل ہی ہمارے ہاں آئی ہے آج سے چالیس پچاس برس قبل بھوک نہیں تھی۔ یہ ضرور ہے کہ یہاں غربت تب بھی تھی لیکن اس میں بھوک نہیں تھی اوراگر غربت میں بھوک نہ ہو تو غربت برداشت ہو جاتی ہے۔ مشکل تب آتی ہے جب اس غربت میں بھوک شامل ہو جاتی ہے۔آج سے چالیس سال قبل ہے ہماری سماجی روایات بہت پختہ تھیں، ایک دوسرے کا خیال رکھا جاتا تھا ۔ زیادہ تر آبادی دیہات میں رہائش پذیر تھی اور دیہات کے لوگ اکثر چیزوں میں خود سے خود کفیل تھے یعنی زیادہ تر چیزیں وہ خود پیدا کر لیا کرتے تھے۔ ہماری بربادی میں ہماری سماجی روایات کے انتقال نے بھی اہم کردار ادا کیا، بچپن میں گاؤں میں بہت سی شاندار روایات رائج تھیں جو رفتہ رفتہ دم توڑ گئیں اور ان کے انتقال نے عام آدمی کے معاشی بحران میں اضافہ کر دیا۔ وہ ایسا وقت تھا جب گاؤں کے تمام کام مل جل کر کئے جاتے تھے۔ یعنی ایک سوشل ارینج منٹ غربت اور بھوک کے درمیان بہت بڑی خلیج تھی۔ یہ بندوبست سیکڑوں ہزاروں سال کے سماجی تجربے کے بعد بنا تھا، یہ غریب کو بھوک سے مرنے تو کجا بھوکا بھی نہیں رہنے دیتا تھا، لیکن ہم نے یہ سماجی بندو بست بھی ختم کر دیا۔ یہ سماجی نظام ابھی تک چل رہا ہوتا تو کیسے ممکن تھا کہ دو خواتین بھوک سے ایڑیاں رگڑتی رہتیں۔ اسی لئے ہمارا مقدر بھوک، غربت، بیماری اور فٹ پاتھ ہیں۔
ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 44 فیصد آبادی کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں۔ وطنِ عزیز ،معاشی بحران کا شکار ہے اور یہ کہ اس معاشی بحران کے اسباب کیا ہیں، دولت کا بہاؤ کس خاص سمت سفر کر رہا ہے، افراطِ زر اور ارتکازِ دولت کے نقصانات کیا ہیں۔ ان سوالات کے جوابات ماہرینِ معاشیات بخوبی جانتے ہوں گے لیکن عام طبقے کو ان سے کوئی سروکار نہیں وہ صرف اور صرف عمومی حالات و واقعات کو دیکھنے اور پرکھنے کا عادی ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ مفلس طبقات محدود آمدن میں اپنی بنیادی انسانی ضروریات و معاشی حوائج کی تکمیل چاہتے ہیں اور ظاہر ہے وہ موجودہ وقت میں پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔
اس وقت پورا ملک بالخصوص حکومتی اور بالائی طبقات ملک کو درپیش سیاسی بحران کی الجھنوں اور پیچیدگیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہر کسی کو اپنے اپنے مفاد کی فکر ہے جوڑ توڑ ہو رہے ہیں وفاداریاں تبدیل کی جا رہی ہیں، سیاسی اتار چڑھاؤ پر گہری نظریں رکھی جا رہی ہیں اور اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق حکمران طبقہ بشمول اپوزیشن پارٹیاں آنے والے دنوں کے لئے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ عام حالات میں بھی حکومت کو معاشرے کے غریب طبقات کے مفادات اور تکالیف کی کوئی فکر ہوتی ہے نہ پروا۔ لیکن اس وقت تو سب کچھ بھول بھلا کر رات دن سیاست کے اتار چڑھاؤ دیکھے جا رہے ہیں اور اپنے مفادات کو محفوظ کرنے کی تدابیر سوچی جا رہی ہیں۔
آج بھی اس ملک میں امیر امیر ترین اور غریب غریب ترین ہوتا جا رہا ہے۔ ملیں فیکٹریاں کافی عرصے سے بند ہیں ان کے مزدوروں کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت نے کبھی سوچا ہے بلکہ حکومت تو عوام پر لگاتار ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا رہی ہے۔ غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہی ہے مثال کے طور پر غریب آدمی اپنے بچوں کو اچھے سکول میں تعلیم نہیں دلا سکتا، غریب آدمی اچھے ہسپتال میں علاج نہیں کرا سکتا یہاں تک کے اس کے پاس مکان کی سہولت بھی نہیں ہے، اس کے علاوہ اس کی اور بھی ضروریات ہیں۔ لوگ غربت اور مہنگائی کی وجہ سے خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ آج حکمرانوں کے وعدے کہاں ہیں الیکشن سے پہلے تو سیاستدان عوام کو سر سبز باغ دکھاتے ہیں ، ٹی وی سکرینوں پر دھواں دھار تقریریں کرتے ہیں ہمارا نام بدل دینا اگر غریب عوام کی تقدیر نہ بدل دی اور جب الیکشن جیت جاتے ہیں تو پھر اقتدار کے نشے میں سب کچھ بھول جاتے ہیں اور اپنے اسی نام سے حکومت کرتے پھرتے ہیں۔
کاش ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو ایک غریب آدمی کی فکر ہوتی تو آج یہ حال نہ ہوتا۔ خدارا عوام کی بنیادی ضروریات سڑکیں، پل، میٹرو اور اورنج ٹرینیں جیسے منصوبے نہیں ہیں عوام کو روٹی، کپڑا، مکان اور روزمرہ کی بنیادی چیزیں چاہئیں۔ اس لئے حکمرانوں کا یہ فرض ہے کہ عوام کو ریلیف ملنا چاہئے اور جب تک یہ تمام چیزیں ٹھیک نہ ہوں گی تو لوگوں کو شکوے ہوتے رہیں گے، لیکن حکمرانوں کو اس بات کی کیا فکر ان کے خاندان کے افراد پر تو خود طرح طرح کی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عوام کی مشکلات کا شافی حل تو اسی طرح ممکن ہے کہ سٹیٹس کو کا موجودہ استحصالی نظام ختم کیا جائے اور معاشرے کے وسائل کی منصفانہ تقسیم کا کوئی اہتمام ہو۔ یہ کام سیاست دانوں کے کرنے کا ہے لیکن انہیں تو صرف اپنے مفادات سے غرض ہے کہ انہیں کسی طرح سے حکومت مل جائے چاہے عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے کہ نہیں ہے۔ جب یہ حالات ہوں گے انسانیت تو پھر دم توڑتی رہے گی اور لوگ بھوک سے مرتے رہیں گے۔ ہمارے حکمران شائد یہ بات بھول رہے ہیں کہ ایسی اموات کے وہ ذمہ دار ہیں۔ اشرافیہ کے نمائندے ہونے کی وجہ سے آج تو انہیں کوئی نہیں پوچھ سکتا لیکن جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تب ان کو کوئی بچانے والا نہیں ہو گا نہ ان کی دولت اور نہ ہی ان کی طاقت ،وہاں صرف اللہ پاک کا انصاف ان سے حساب کتاب لے گا۔
اب بھی وقت ہے کہ سوچ لو اگر سوچ سکتے ہو تو لیکن جناب آپ کو سوچنے کی کی فرصت کہاں؟ آپ کے پاس ہر روز ہر پل مرتے ہوئے لوگوں کی آہیں سننے کا وقت کہاں؟ سرکاری ہسپتالوں کے گندے بستروں پر پڑی لاشوں کو دیکھنے والی نظر کہاں؟ ٹوٹی ہوئی چارپائی پر زندگی اور موت سے لڑتی سانسوں کو سننے والی ساعتیں کہاں؟ حضور سوچ لیں وقت ریت کی طرح جہاں اس ملک کے غریبوں کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے وہی آپ کے پاس بھی اب وقت کم ہے۔ سوچ لو میرے ملک کے حکمرانوں کہ کہیں وقت آپ کے ہاتھ سے بھی نہ چلا جائے۔