گزشتہ کچھ عرصے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، خصوصاً اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی نے دنیا کو ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر یہ تنازع کھلی جنگ میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے ایران خلیجی ممالک کے درمیان ایک بڑا تیل برآمد کنندہ ملک ہے، اور اس کی بندرگاہیں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں، جو دنیا کا سب سے اہم تیل تجارتی راستہ ہے۔ جنگ کی صورت میں یہ گزرگاہ بند ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہو گی۔ نتیجتاً تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں، جیسا کہ 2008 کے بحران میں ہوا۔ایران اور اسرائیل جنگ کی صورت میں عالمی منڈیوں میں شدید معاشی عدم استحکام بھی ہو سکتا ہے اور عالمی سٹاک مارکیٹس شدید متاثر ہوں گی۔ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال میں اپنے اثاثے نکال کر محفوظ جگہوں جیسے سونا یا امریکی ڈالر میں منتقل کریں گے، جس سے مارکیٹیں کریش کرنے کے قریب پہنچ سکتی ہیں۔
جنگ کے سبب مشرق وسطیٰ سے اشیائے ضروریہ اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ آ سکتی ہے، جس سے دنیا بھر میں افراطِ زر کی نئی لہر دوڑ سکتی ہے۔ یورپ پہلے ہی روس اور یوکرین جنگ سے معاشی دباؤ میں ہے، ایسے میں اسرائیل اور ایران جنگ دنیا کو دوہری کساد بازاری کی طرف لے جا سکتی ہے۔ پاکستان چونکہ ایک تیل درآمدی ملک ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ملک کا درآمدی بل بڑھ جائے گا، جس سے جاری کھاتوں کا خسارہ اور زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ مہنگائی میں شدید اضافہ ہو گا، جو عام آدمی کی زندگی کو مزید دشوار بنا دے گا۔ اسی طرح روپے کی قدر مزید کم ہو سکتی ہے، توانائی بحران گہرا ہو سکتا ہے، صنعتی پیداوار سست پڑ جائے گی، مالیاتی اور سیاسی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے، دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو گا اگر جنگ طوالت اختیار کرے یا علاقائی ممالک اس میں شامل ہوں تو پاکستان کو بھی دفاعی تیاریوں پر زیادہ وسائل صرف کرنا پڑیں گے، جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار معیشت کے لیے ایک نیا بوجھ ہو گا۔ جنگ کے دوران امریکا، چین، روس، اور یورپی طاقتیں اپنی صف بندی کریں گی۔ پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی میں واضح کرنا ہو گی کیونکہ ایران اس کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، جبکہ اسرائیل کے حوالے سے مغربی طاقتوں کا دباؤ رہے گا۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک معاشی تباہی کا پیغام بن سکتی ہے۔2024 کے اختتام پر کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 82 سے 85 ڈالر فی بیرل تھی جنگ کی صورت میں Bloomberg اور Goldman Sachs کی پیش گوئی ہے کہ قیمت 140 سے 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ صرف 10فیصد تیل قیمتوں میں اضافہ سے عالمی افراطِ زر میں 1.5فیصد اضافہ متوقع۔ جنگ کی صورت میں مہنگائی مزید تیز ہو گی، خاص طور پر خوراک، توانائی، اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں۔
پاکستان کی سالانہ تیل درآمدات تقریباً 13 سے 15 ارب ڈالر کی ہوتی ہیں، اگر ایران اور اسرائیل جنگ کی وجہ سے تیل 30فیصد مہنگا ہوا تو درآمدی بل بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔ جنگ کی صورت میں متوقع مہنگائی کی شرح 20 سے 25 فیصد تک ہو جائے گی, سٹیٹ بنک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جون 2025 میں 8.9 بلین ڈالر کے ہیں جو 3 ماہ کی درآمدات کے لیے ناکافی ہیں جنگ کی وجہ سے مزید دباؤ کی صورت میں ذخائر 6 بلین تک گر سکتے ہیں۔ جون 2025 میں ایک ڈالر کی قیمت 278 روپے ہے جو جنگ کی صورت میں 290 سے 310 روپے تک جانے کا خدشہ ہے۔ سٹاک مارکیٹس پر اثر جنگ کی افواہ کے دوران اسرائیل کا انڈیکس 3.5 فیصد اور ایران کا 4 فیصد نیچے گرا ہے جس کا اثر پاکستان سٹاک ایکسچینج پر آ سکتا ہے, آئی ایم ایف کے مطابق جنگ کے چھ ماہ جاری رہنے کی صورت میں عالمی معیشت کو 1.2 ٹریلین ڈالر تک کا نقصان ہوگا. روزانہ 20 ملین بیرل تیل کی سپلائی رکے گی جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے. خلیجی ممالک جس میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر کی تجارت 60 فیصد تک متاثر ہوگی. چین، جاپان، بھارت، اور یورپ کو توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے, ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایسی صورت حال میں ایک بہتر معاشی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو جاتا ہے، جنگ کی صورت میں مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے پاکستان کو وسطی ایشیا، چین اور ترکی سے تجارتی روابط مضبوط کرنا ہوں گے۔
اگر عالمی منڈی میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے، تو پاکستان کو اپنی درآمدات (خصوصاً توانائی اور خوراک) کے لیے زرِ مبادلہ محفوظ رکھنے کی پالیسی اپنانا ہو گی۔ برآمدات بڑھانے کی کوششیں یورپی یونین اور چین کی طرف سے ملنے والی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات اور آئی ٹی کی برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔ جنگ کے نتیجے میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے، لہٰذا حکومت کو سٹرٹیجک فوڈ ریزرو قائم کرنا ہوگا۔ مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لیے بیرونی قرضوں کے بجائے مقامی وسائل پر انحصار بڑھایا جائے۔ آئی ایم ایف پروگرامز میں قومی مفاد کو ترجیح دی جائے، اور معاشی خودمختاری کو مدنظر رکھا جائے۔ ایران اور اسرائیل کی جنگ سے پاکستان کو کئی معاشی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، لیکن اگر بروقت اور دانشمندانہ حکمت عملی اپنائی جائے تو ان چیلنجز کو مواقع میں بدلا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو ایک خودمختار، متنوع اور لچکدار معیشت کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔