Wed, September 16, 2026

صنوبر کے درخت اور بے اعتبار فیصلے

صنوبر کے درخت اور بے اعتبار فیصلے

جب ہم اپنے کالج کے دنوں کے بلوچستان کو یاد کرتے ہیں اور پھر پچاس کی دہلیز پار کر کے آج کے بلوچستان پر نظر ڈالتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ وہ بلوچستان جہاں برادریاں ایک دوسرے کو جانتی تھیں، جہاں رشتے گہرے تھے اور جہاں بیرونی قوتوں کے لیے سازش کے تانے بانے بننا آسان نہیں تھا۔ لیکن افسوس کہ جس سرزمین پر زیارت کے ہزاروں سال قدیم صنوبر خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے رہے، اسی سرزمین پر ریاست اور عوام کے درمیان بداعتمادی بھی آہستہ آہستہ اتنی گہری ہوتی گئی کہ آج وہ ایک سنگین شورش کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہر بڑے حادثے اور سانحے کے بعد ریاست کی طرف سے ایک ہی روایتی بیان سامنے آتا رہا: ”دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا ہے“۔ لیکن تشدد بار بار لوٹ کر آتا رہا، ہر بار ایک نئی شکل میں اور پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ۔ 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کو متعدد مبصرین بلوچستان کی شورش میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہیں۔ کوئی ان کی سیاست سے اتفاق کرے یا نہ کرے، لیکن اس واقعے نے بہت سے ایسے عناصر کو بھی قریب کر دیا جو پہلے مختلف دھڑوں میں تقسیم تھے، جبکہ ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان اعتماد مزید کمزور ہوا۔ اس کے بعد جو حکمتِ عملی اختیار کی گئی، اس میں سیاسی اعتماد کی بحالی، مقامی اداروں کو مضبوط کرنے اور عوامی شمولیت بڑھانے کے بجائے طاقت کے استعمال پر زیادہ انحصار کیا گیا۔ ہر ریاست کا یہ حق اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسلح گروہوں کا مقابلہ کرے جو اس کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ لیکن طاقت ہمیشہ آخری حربہ ہونا چاہیے، جسے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے صرف اور صرف گناہ گاروں کے خلاف استعمال کیا جائے۔ صرف طاقت پر انحصار پائیدار پالیسی نہیں بن سکتا۔
اس سارے نظام کی اصل کمزوری کہیں زیادہ گہری ہے۔ بلوچستان کے فیصلوں کے نتائج کے جوابدہ وہ افسران بنتے رہے جنہوں نے فیصلے کیے ہی نہیں تھے، جبکہ جنہوں نے فیصلے کیے، ان کا کبھی مو¿ثر احتساب نہ ہو سکا۔ اس پورے عمل کا سب سے بڑا نشانہ وہ عام شہری بنا، جس کی آواز پورے منظرنامے سے غائب رہی۔ جو قیادت عوام کے اعتماد سے محروم ہو، وہ کبھی پائیدار امن کی بنیاد نہیں رکھ سکتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ قابل سول سرونٹس اور پولیس افسران پیشہ ورانہ اور غیر جانبدارانہ رائے دینے سے کترانے لگے، کیونکہ ’جی حضوری‘ کو انعام اور اختلافِ رائے کو ناپسندیدگی یا نافرمانی سمجھا جانے لگا۔ مجھے یاد ہے کہ چند روز قبل مظفر آباد میں ایک سینئر پولیس افسر نے بڑے فخر سے کہا کہ ان کا پہلا فرض ”حکومت کی نمائندگی“ ہے۔ میں احترام کے ساتھ ان سے اختلاف کرتا ہوں۔ جمہوری ریاستوں میں پولیس حکومت یا کسی فرد کی نہیں بلکہ قانون کی نمائندہ ہوتی ہے۔ ریاست کی ساکھ اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب قانون سب پر یکساں لاگو ہو اور ہر شہری خود کو محفوظ اور باعزت محسوس کرے۔ پولیس ریاست کی بہترین نمائندگی اسی وقت کرتی ہے جب وہ عوام کے حقوق، عزتِ نفس اور جان و مال کے تحفظ کی ضامن بنے۔ دوسری طرف، کسی قابل منتظم کو ایک جگہ اتنی دیر رہنے ہی نہیں دیا جاتا کہ وہ کوئی پائیدار کام کر سکے۔ بہترین انٹیلیجنس اور اچھی حکمرانی کا انحصار مقامی معلومات، ساکھ اور تسلسل پر ہوتا ہے، جبکہ ہر اچانک تبادلہ ان رشتوں کو پل بھر میں ختم کر دیتا ہے جنہیں قائم ہونے میں برسوں لگتے ہیں۔ ایک اور سبق ہے جسے ہم مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔ ہر حملے کے بعد ہم حملہ آوروں کی تو تحقیقات کرتے ہیں، لیکن کبھی اپنا گریبان نہیں جھانکتے۔ ہمارا نظام کہاں ناکام ہوا؟ کون سے اشارے نظر انداز ہوئے؟ کن ادارہ جاتی کمزوریوں نے اس حملے کی گنجائش پیدا کی؟ فضائی حادثوں کے بعد دنیا کی بہترین ایوی ایشن اتھارٹیز صرف پائلٹ کی غلطی تلاش نہیں کرتیں بلکہ پورے نظام کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتی ہیں تاکہ وہی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے۔ یہاں بھی یہی اصول اختیار کیا جانا چاہیے، پیشہ ور ادارے اپنی غلطیوں کے دیانت دارانہ جائزے سے ہی بہتر بنتے ہیں۔
بلوچستان کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ شرپسندوں کے خلاف آپریشن جتنا ضروری ہے، اتنا ہی عوام کے مسائل کا حل اور ان کو فتنہ ہندوستان کے چنگل سے نکالنا بھی ضروری ہے۔ تعلیم، روزگار، انفراسٹرکچر اور صحت کی سہولتیں عام آدمی کو ملنے کا مطلب فسادیوں کے فساد کا خاتمہ ہے کہ ان کو ایسا موقع نہ دیا جائے کہ وہ عوام کو گمراہ کر سکیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ شروعات کہاں سے کی جائے، تو میں کہوں گا کہ شروعات کسی نئے آپریشن سے نہیں بلکہ عوام سے ہونی چاہیے۔ پاکستان کو ان برادریوں کے ساتھ ایک طویل، مستقل اور بامقصد مکالمے کی ضرورت ہے جو ریاست سے دور ہو چکی ہیں۔ سننا اور بات چیت کرنا ہتھیار ڈالنا نہیں ہوتا اور مصالحت کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ کسی بھی شورش کے خاتمے کا دارومدار سیاسی جواز، جوابدہ اداروں اور عوامی اعتماد پر ہوتا ہے۔ زیارت کے صنوبر کے قدیم درخت ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مضبوط جڑیں ایک دن میں نہیں بنتیں۔ بلوچستان میں امن بھی کسی ایک آپریشن، کسی ایک پیکیج یا کسی ایک اعلان سے نہیں آئے گا، بلکہ مسلسل انصاف، معتبر مقامی اداروں، جوابدہی اور عوامی اعتماد سے پروان چڑھے گا۔ امن اس دن آئے گا جب بلوچستان کے ہر شہری کو یہ یقین ہو جائے گا کہ یہ ریاست جتنی کسی اور کی ہے، اتنی ہی اس کی بھی ہے۔

ٹیگز: