Wed, September 16, 2026

بڑھتی سازشیں فورسز کا امتحان ۔۔!

بڑھتی سازشیں فورسز کا امتحان ۔۔!

پاکستان اس وقت داخلی استحکام، معاشی بحالی اور قومی یکجہتی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی فرد یا گروہ کی جانب سے ایسا بیانیہ اختیار کرنا جو عوام کو اشتعال دلائے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کو فروغ دے یا قانون ہاتھ میں لینے کی ترغیب دے، نہ صرف قابلِ تشویش بلکہ ملکی امن و امان کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز اور تقاریر میں ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن میں مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی اور بعض مقامات پر ماضی کے پُرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے مستقبل میں بھی اسی نوعیت کی کارروائیوں کے امکانات کا اظہار کیا گیا۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ امان کی منصوبہ بندی کے تحت اشتعال انگیز اور گمراہ کن گفتگوسامنے آ گئی ہے۔ کالعدم ایکشن کمیٹی نے ہمیشہ اشتعال انگیزی، گمراہ کن بیانیے اورمسلح جتھوں کے ذریعے پر تشدد سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے اس کا واضح ثبوت حالیہ ویڈیو سے ملا ہے۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ امان نے آزاد کشمیر کے علاقے بلوچ (بیٹھک) میں سکیورٹی فورسز پر حملے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جو کچھ بلوچ (بیٹھک) میں کیا یہاں بھی کر سکتے ہیں اور کریں گے، ہمارے مطالبات ہماری مرضی کے مطابق حل ہوں گے۔ اس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا سرغنہ امان اور دیگر منظم منصوبہ بندی کے تحت ریاست مخالف اشتعال انگیز بیانیے کی ترویج کر رہے ہیں۔ مسلح جتھوں کے ذریعے دہشتگردی کی دھمکی اس مو¿قف کو تقویت دیتی ہیں کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی بھارتی پراکسی کے طور عدم استحکام پیدا کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ قانون کی مو¿ثر عملداری کے ذریعے مسلح جتھوں کے ذریعے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کا طرزِ گفتگو معاشرے میں کشیدگی اور تصادم کو بڑھا سکتا ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ آئین پاکستان بھی شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار اور پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ تاہم یہی آئین یہ بھی واضح کرتا ہے کہ کسی کو تشدد پر اکسانے، ریاستی اداروں پر حملوں کی ترغیب دینے یا قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اختلاف اگر پُرامن اور آئینی حدود میں ہو تو وہ جمہوریت کی مضبوطی کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن جب اختلاف تشدد، دھمکیوں یا مسلح کارروائیوں کی شکل اختیار کر لے تو اس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جہاں بھی اشتعال انگیز بیانیے نے زور پکڑا، وہاں امن و امان متاثر ہوا، عوامی جان و مال کو نقصان پہنچا اور ترقی کا عمل سست پڑ گیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر قسم کی سیاسی، سماجی یا عوامی تحریک آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر اپنے مطالبات پیش کرے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اسی ٹولے کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی منفی ویڈیوز اور پراپیگنڈے کا سلسلہ طول پکڑ رہا ہے ۔ اس انتشار پسند ٹولے کی جانب سے ایک غیر ذمہ دارانہ تقریر یا ویڈیو چند ہی منٹوں میں عزائم خود ہی پاکستانیوں کو بتا دیتی ہے۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ کے بیان میں نفرت اور تشدد کا عنصر واضح ہے جس کے اثرات انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں، اسی گروہ کی جانب سے قانون شکنی یا تشدد پر اکسانے کے شواہد یہ بھی واضح کر رہے ہیں کہ بھارتی چالیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ لوگ بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ریاست کے اندر انتشار کی سیاست کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان تمام حالات میں کشمیری عوام نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ اس گروہ کو شکست ہو گی، انتشار اور فتنہ کی سیاست پروان نہیں چڑھ سکے گی۔ آج پاکستان کو تقسیم، نفرت اور تصادم کی نہیں بلکہ اتحاد، برداشت اور آئین کی بالادستی کی ضرورت ہے۔ قومی مسائل کا حل صرف مذاکرات، جمہوری عمل اور قانونی طریقہ کار میں پوشیدہ ہے۔ تشدد یا اس کی ترغیب وقتی طور پر کچھ لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے، لیکن اس کا انجام ہمیشہ معاشرتی انتشار، معاشی نقصان اور عوامی مشکلات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ان حالات میں ہم کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ وہی ایجنڈا ہے جو ملک میں فساد بڑھانے کی سازش پر مبنی ہوتا ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ کشمیری عوام ان ٹولے کو مسترد کر رہے ہیں۔ ہڑتالوں کی کالیں بے اثر ہو رہی ہیں۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو ہر طرف سے منہ کی کھانا پڑ رہی ہے اگر یہ ٹولہ ایسے ہی حالات کے بگاڑ کا سبب بنتا رہا ہے یقینی طور پر آپریشن ناگزیر ہو جائے گا۔

ٹیگز: