Wed, September 16, 2026

جوڈیشل کمیشن کی ججز کی تعیناتی، توثیق اور آئینی بینچز کی مدت بڑھانے کی سفارش

جوڈیشل کمیشن کی ججز کی تعیناتی، توثیق اور آئینی بینچز کی مدت بڑھانے کی سفارش

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں سندھ، اسلام آباد اور پشاور ہائیکورٹس سے متعلق ججز کی تعیناتی، مستقل تقرری اور آئینی بینچز کی مدت میں توسیع کے حوالے سے اہم سفارشات منظور کی گئیں۔

سپریم کورٹ میں ہونے والے اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس خالد حسین شاہانی کی مدتِ تعیناتی میں مزید چھ ماہ اضافے کی سفارش کی گئی، جبکہ ایڈیشنل جج جسٹس سید فیاض الحسن شاہ کو مستقل جج بنانے کی سفارش نہیں کی گئی۔

کمیشن نے سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کی مدت میں مزید تین ماہ کی توسیع کی بھی منظوری دی۔

اجلاس میں محمد ہمایوں خان ایڈووکیٹ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سریش کمار اور ڈاکٹر شاہ نواز میمن ایڈووکیٹ کو سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج مقرر کرنے کی سفارش کی گئی۔ تاہم دو آسامیاں خالی رہ گئیں کیونکہ متعلقہ امیدوار کمیشن کی مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے ایاز شوکت ایڈووکیٹ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شہرخ ارجمند اور عمیر مجید ملک ایڈووکیٹ کے نام ایڈیشنل جج کے طور پر تجویز کیے گئے۔

دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ کے حوالے سے کمیشن نے جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب کو مستقل جج مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔ یہ فیصلہ ان کے سروس ریکارڈ، سابقہ کارکردگی اور جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔

جوڈیشل کمیشن کے ان فیصلوں کا مقصد اعلیٰ عدلیہ میں خالی آسامیوں کو پُر کرنا اور عدالتی نظام کی مؤثر انداز میں فعالیت کو یقینی بنانا ہے۔
 
 

ٹیگز: