Wed, September 16, 2026

بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی؟

بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی؟

آج کل ہمارے ہاں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا معاملہ زیر بحث ہے۔ پنجاب اسمبلی کی ایک رکن سارہ احمد نے اسمبلی میں قرار داد پیش کی ہے کہ پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی یا سخت ضوابط عائد ہونے چاہیں۔ قرار داد میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال والدین یا سرپرست کی رضامندی سے مشروط ہونا چاہیے۔ یہ پابندی پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی مرہون منت ہے جو کہ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے۔ اس لئے قرار داد میں وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ اس ضمن میں قانون سازی کی جائے۔ سارہ احمد کا موقف ہے کہ اس پابندی کا مقصد بچوں کو سائبر بلینگ، استحصال، ہراسانی اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ 
پاکستان میں یہ کوئی نئی بحث نہیں ہے۔ جب سے سوشل میڈیا ہمارے معمولات حیات کا حصہ بنا ہے، اکثر ا س کے اثرات بد کا تذکرہ ہوتا ہے۔ کم عمر بچوں کے ساتھ ساتھ بڑی عمر کے افراد کے زیادہ ا سکرین ٹائم کے منفی اثرات کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ یہ بحث صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ دنیا کے کم و بیش تمام ممالک میں سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات زیر بحث آتے ہیں۔ باقاعدہ علمی اور سائنسی تحقیق بھی ہوتی ہے۔خاص طور پر کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ تشویش محض زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ حکومتی ایوانوں اور متعلقہ اداروں میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے۔ 
پاکستان میں بھی یہ قرار داد اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک اس حوالے سے سخت قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جو قانون سازی کر بھی چکے ہیں۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا نے اس ضمن میں قانون سازی کی ہے ۔ آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس پر قانونی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کئے جاتے ہیں۔ تفہیم کا پہلو یہ ہے کہ صارف کو نہیں، بلکہ سوشل میڈیا کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ فرانس میں بھی سوشل میڈیا کا استعمال والدین کی منظوری یا اجازت سے مشروط ہے۔ برطانیہ اور یورپی یونین وغیرہ بھی قانون سازی کے مراحل میں ہیں۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا نے گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی میں ہماری زندگی کو بہت متاثر کیا ہے۔اس کی وجہ سے ہماری زندگی میں تیز رفتار تبدیلی آئی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے ہماری زندگی میں بہت آسانی پیدا کی ہے۔ہماری تعلیم، سیاسی اور نجی ابلاغ، تعلقات ، سب کچھ تبدیل کر دیا ہے۔ ہماری ترقی میں حصہ ڈالا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس تیز رفتاری نے ہماری جسمانی ، ذہنی اور نفسیاتی صحت پر اثرت مرتب کئے ہیں۔ دراصل انہی اثرات نے حکومتوں ، ماہرین نفسیات ، قانون سازوں اور محققین کو اس جانب توجہ دینے اور قانون سازی پر مجبور کر دیا ہے۔ ان ممالک میں نہایت سنجیدگی سے اس پہلو پر تحقیق ہوتی ہے کہ الگورتھمز صارف کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے ، انہیں زیادہ سے زیادہ وقت کے لئے اپنے ساتھ باندھے رکھنے کے لئے نفسیاتی اصولوں پر مبنی ڈیزائن استعمال کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں صارفین میں اسکرین کے استعمال کی لت لگ جاتی ہے۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ڈپریشن، بے چینی، نیند کی خرابی اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ بیسیوں معروف ماہرین کی تحقیق موجود ہیں جو بچوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کا احاطہ کرتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے نوعمر بچوں کی تعلیمی کاکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اضطراب یا بے چینی ، بے خوابی کی شکایت پیدا ہوتی ہے۔ گردان اور آنکھوں کی مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ
اگرچہ سوشل میڈیا کے محدود استعمال کی بات کرتے وقت آزادی اظہار رائے کا پہلو بھی زیر بحث آتا ہے۔ یہ بھی کہ کیا کسی بھی پلیٹ فارم یا ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی مسئلے کا مستقل اور دیر پا حل ہو سکتا ہے؟ پاکستان میں بھی یہ بحث ہوتی ہے۔ جن لوگوں کی تان سیاست پر آن کر ٹوٹتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قرار داد نوجوانوں کی زبان بندی اور رائے کے اظہار پر پابندی کا ایک ہتھ کنڈا ہے۔ بہرحال، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کم عمر بچوں کو ہم سڑک پر بائیک یا موٹر کار چلانے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ پابندی ان کے نقل وحرکت کے حق کو روکنے کیلئے نہیں، بلکہ ان کے تحفظ کیلئے ہے۔ تاکہ وہ نقصان یا ایکسیڈنٹ وغیرہ سے محفوظ رہیں۔ بالکل اس طرح سوشل میڈیا کا محدود استعمال بھی ہمارے بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لئے ہے۔ آج ترقی یافتہ ممالک ڈیجیٹل آزادی 
 (digital freedom) کیساتھ ساتھ ڈیجیٹل تحفظ(digital safety) کے بارے میں بھی سنجیدہ بحثوں میں مصروف ہیں۔ بسا اوقات آزادی سے زیادہ وزن تحفظ کے پلڑے میں رکھ دیا جاتا ہے۔بھلا ایسی آزادی کا کیا فائدہ جو آپ کی ذہنی ، جسمانی اور نفسیاتی صحت برباد کر کے رکھ دے۔ 
یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا سے مکمل طور پر کنارہ کش ہو جانا ممکن نہیں ہے۔ تاہم اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ ہم خود کو اور اپنے بچوں کو ایک غیر محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں؟اس بات پر بھی غور کیجئے کہ کیا یہ امر قابل جواز ہے کہ ہر عمر کے افراد کے لئے ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال کی آزادی ایک جیسی ہو؟ یعنی کم عمر بچے اور بڑی عمر کے افراد ایک ہی طرح سے سوشل میڈیا کا استعمال کریں۔ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ان تمام پہلووں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کچھ قواعد و ضوابط وضع کر لئے جائیں۔یہ بھی دیکھئے کہ جب بھی سوشل میڈیا پر پابندی لگتی ہے تو وی ۔پی۔این وغیرہ کا استعمال ہونے لگتا ہے۔ سوشل میڈیا پر قانون سازی کی صورت میں بچے جعلی عمر کے اندراج سے اکاونٹ بنا لیں تو پھر کیا ہو گا؟ لازم ہے کہ اس کے لئے اخلاقی ضوابط بھی وضع کئے جائیں۔ والدین اس حوالے سے آگاہی پیدا کریں۔ اسکول لیول پر بھی ڈیجیٹل لڑیسی کو فروغ دیا جائے۔ تاکہ اس کے اچھے برے استعمال کو بچے سمجھ سکیں۔ 
اس ضمن میں کوئی قانون سازی ہو تی ہے اور کوئی تکنیکی نظام وضع کر لیا جاتا ہے جس میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے لئے 16 سال کی عمر کی حد مقرر ہوتی ہے ، یا والدین کی اجازت وغیرہ کا نظام متعارف کروایا جاتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔ ہم میں سے بیشتر یہ چاہتے ہیں بچوں کو ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال کی اجازت محدود ہو اور محفوظ بھی۔

ٹیگز: