Wed, September 16, 2026

بات برابری کی نہیں، تسلیم کی ہے

بات برابری کی نہیں، تسلیم کی ہے

 تمام عورتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور نہ ہی تمام مرد۔ ہر عورت مظلوم نہیں اور ہر مرد ظالم نہیں۔ زندگی کو اگر ہم ان سادہ مگر بے حد ضروری سچائیوں کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کریں تو شاید بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں اور بہت سی الجھنیں جنم ہی نہ لیں۔ مگر افسوس کہ ہمارا سماج، ہماری سوچ، ہمارا میڈیا اور ہمارے ذاتی تعصبات ان سیدھی باتوں کو پیچیدہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔یہ کالم اس بحث سے ہٹ کر لکھا جا رہا ہے کہ عورت کو برابری کیوں نہیں دی جاتی۔ کیونکہ میرے نزدیک مسئلہ برابری کا نہیں، تسلیم کیے جانے کا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عورت کی شخصیت، اس کی ذہانت، اس کی صلاحیت، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی شناخت کو سماج کب تسلیم کرے گا؟مرد و عورت کو یکساں پیمانے پر پرکھنے کی کوشش نہ صرف فطرت کے بنائے ہوئے امتیازات سے انکاری ہے بلکہ معاشرتی توازن کو بھی بگاڑ رہی ہے۔ دونوں کی جسمانی و ذہنی ساخت، جذباتی لگاؤ اور زندگی کے مقاصد جدا ہیں۔یہ تفاوت انہیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ تکمیل کنندہ بناتا ہے۔ مقابلے کی دوڑ نہیں، باہمی تعلق کی تکمیل ہی تو دراصل انسانی تعلقات کی اصل بنیاد ہے۔میں نے بہت عرصے تک سوچا کہ کیا مجھے واقعی کسی مرد کے برابر آ کر کھڑا ہونا ہے؟ کیا مجھے واقعی یہ ثابت کرنا ہے کہ میں بھی سب کچھ کر سکتی ہوں؟ اور پھر ایک دن یہ سوال ختم ہو گیا۔ جواب میرے اندر سے آیا "نہیں، مجھے کسی سے مقابلہ نہیں کرنا مجھے صرف اپنا آپ مکمل طور پر جینے کی اجازت چاہیے۔"
مقابلہ وہاں ہوتا ہے جہاں میدان جنگ ہو، یا حریف ہو۔ لیکن جہاں محبت ہو، تعلق ہو، رشتہ ہو وہاں مقابلہ نہیں قبولیت ہوتی ہے۔ مجھے اپنے باپ سے، اپنے بھائی سے، اپنے شوہر سے، اپنے دوستوں سے مقابلہ نہیں کرنا۔ مجھے ان کی قربت میں خود کو ثابت نہیں کرنا بلکہ ان سے جڑ کر خود کو مکمل محسوس کرنا ہے۔جب مجھے میرے گھر نے، میرے اپنے رشتوں نے، میرے قریبی دوستوں ، ساتھیوں نے تسلیم کر لیا، میری حدود و قیود کو، میری صلاحیت کو، میرے طریقِ کار کو تو مجھے برابری مانگنے کی ضرورت نہیں رہی۔ کیونکہ جو قبول کر لیتا ہے، وہ برابری کے تقاضے نہیں رکھتا بلکہ ساتھ چلنے کی ہمت دیتا ہے۔ لیکن ہر عورت اتنی خوش نصیب نہیں۔ میں نے اپنی عملی زندگی میں یہ کڑوی حقیقت بارہا محسوس کی کہ میرے ساتھ سب سے زیادہ رکاوٹیں پیدا کرنے والوں میں بعض اوقات عورتیں ہی آگے تھیں ،مرد نہیں۔ 
یہ وہ لمحے تھے جب میں نے برابری کی بحث کو ترک کر کے انصاف کی بات شروع کی۔ کیونکہ جس نے مجھے آگے بڑھنے سے روکا، وہ چاہے مرد تھا یا عورت، وہ میرے راستے کی دیوار بن گیا اور اْس دیوار سے برابری کی خواہش بے معنی ہو جاتی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے ان سے نہیں لڑنا جو مجھے نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔ بلکہ مجھے خود کو اس رب کے حوالے کر دینا ہے جس کی محبت ، ساتھ، ہر رشتے، ہر تعلق اور ہر دشمنی سے کہیں بلند ہے۔یقین جانیے جب انسان اللہ کے سامنے خود کو سرنڈر کر دیتا ہے، تو دنیا کے تمام حریف خودبخود پیچھے ہٹنے لگتے ہیں۔ جنہوں نے آپ کو کمزور سمجھ کر ٹھوکر ماری، انہی کی آنکھوں کے سامنے آپ دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بغیر شور، بغیر بددعا، بغیر نفرت کے۔ صرف صبر، فقط یقین اور مسلسل محنت کے ساتھ۔یہی میری کہانی ہے۔ میرے ساتھ وہی کچھ ہوا جو بہت سی عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ نہ خود کھیلے، نہ مجھے کھیلنے دیا۔ لیکن میری بات سننے والا اوپر موجود تھا۔ اس نے میری زبان بند کر کے میرے حق میں فیصلے لکھے۔ اس نے مجھے روشنی دکھائی وہاں سے، جہاں اندھیرے کے سوا کچھ نہیں تھا۔
 اسی تجربے نے مجھے یہ سکھایا کہ عورت اور مرد کے درمیان مسئلہ "مقابلے" کا نہیں، "قبولیت" کا ہے۔ اگر آپ مجھے قبول کر لیں، میرے دائرے، میری ترجیحات، میرے انداز کو تسلیم کر لیں۔تو پھر نہ مجھے آپ سے برابری مانگنی ہے نہ آپ کو خود کو برتر ثابت کرنا ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ ہر عورت ہر وقت مظلوم نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر مرد ہمیشہ ظالم ہوتا ہے۔ بعض اوقات عورت خود اپنے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے اور بعض اوقات مرد اپنے ظرف، فہم اور محبت سے ایک پوری عورت کی دنیا بدل دیتا ہے۔مجھے یاد ہے، ایک دن دفتر میں ایک کولیگ نے کہا کہ "تمہارے جیسا اعتماد ہر عورت میں نہیں ہوتا۔"میں صرف مسکرا دی۔ دل ہی دل میں سوچا کہ "یہ اعتماد نہیں، یہ وہ صبر ہے جو میں نے ہر اس وقت دکھایا جب مجھے روکنے کی کوشش کی گئی۔"عورت صرف جسم یا لباس نہیں۔ وہ صرف جذبات یا آنسو نہیں۔ وہ ایک مکمل انسان ہے، جو خواب دیکھ سکتی ہے، فیصلے کر سکتی ہے، غلطیاں کر سکتی ہے اور دوبارہ سنور بھی سکتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اسے جینے دیا جائے۔ بغیر الزام، بغیر دباؤ اور بغیر شرمندگی کے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو یہ سکھانا ہے کہ وہ اپنی شناخت کو برابری کی جنگ میں نہ کھوئیں بلکہ اپنی اصل کو سنواریں ، اپنی فطری خوبیوں کو اپنائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خود کو صرف عورت ہونے کی بنیاد پر "کم" نہ سمجھیں۔ہمیں اپنے بیٹوں کو بھی یہ سکھانا ہے کہ عورت کمزور نہیں مختلف ہے اور فرق کو تسلیم کرنا ہی اصل شعور ہے۔عورت جب اپنی حدود خود طے کرنے لگے، تو وہ خودمختار ہو جاتی ہے۔ لیکن جب وہ دوسروں کو گرا کر خود کو بڑا ثابت کرنے لگے تو وہ خود اپنی عظمت کو مٹا دیتی ہے۔ یہی بات مرد پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اگر وہ عورت کے مقام کو چھوٹا سمجھ کر اپنی بڑائی تلاش کرتا ہے تو وہ خود اپنے ظرف کا قتل کرتا ہے۔زندگی کا حسن یہی ہے کہ سب کو جینے کا موقع دیا جائے۔ کوئی کمزور نہیں، کوئی برتر نہیں۔ ہر انسان اپنی جگہ معتبر ہے، بس تسلیم کرنے والی نظر ہونی چاہیے۔خوش رہیں، دوسروں کو خوش رکھیں، اور سب کی صلاحیتوں کو تسلیم کریں۔ برابری کی بحث سے نکل کر تسلیم کی راہ اپنائیں کیونکہ محبت، عزت اور رشتوں میں برابری نہیں، قبولیت اہم ہوتی ہے۔

ٹیگز: