اسلام آباد: پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ فری لانسرز نے اپنی محنت اور ہنر کے بل بوتے پر 557 ملین ڈالرز کما کر ملکی معیشت کو بڑا سہارا دیا ہے، جو کہ ملکی ڈیجیٹل تاریخ میں ایک ریکارڈ اضافہ ہے۔
فری لانسنگ سے حاصل ہونے والی آمدن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 58% کا ہوش ربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔پاکستان کی آئی ٹی گروتھ ریٹ نے بھارت، دبئی اور نیویارک جیسے بڑے ٹیکنالوجی حبس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ملک کے 170 سے زائد اسٹارٹ اپس کی مجموعی مالیت اب 4 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو ملکی معیشت میں نئے خون کی مانند ہے۔
اس کامیابی میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کا کردار سب سے اہم رہا ہے، جس نے درج ذیل اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کے لیے راستے ہموار کیے۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ اور ای کامرس میں نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا۔ فری لانسرز کے لیے ادائیگیوں کے طریقہ کار کو آسان بنانا اور ٹیکس مراعات فراہم کرنا۔ ملک بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور فری لانسنگ مراکز کا قیام۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ "پاکستان اب صرف ایک زرعی ملک نہیں رہا، بلکہ یہ ایک 'ڈیجیٹل پاور ہاؤس' بن کر ابھرا ہے۔ فری لانسرز کی یہ کمائی براہِ راست زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کر رہی ہے جس کا فائدہ عام آدمی تک پہنچے گا۔"