Wed, September 16, 2026

رمضان المبارک میں دھڑن تختہ

رمضان المبارک میں دھڑن تختہ

رمضان کی آمد ہے اور ہم اس کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلز کے سیٹ سجا لیے گئے ہیں جن میں مذہبی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔ جنگ جمل، جنگِ صفین، نہروان، خلافتوں کے اختلافات اور اصحاب رسول کے اختلافات پر سنگین اور تحیر انگیز سوالات تیار کر لیے گئے ہیں۔ طہارت کے اختلافی مسائل پر جنگی مناظروں کو تیار کرلیا گیا ہے۔ ایسے مولانا حضرات کا تقرر کیا جا چکا ہے جن کی مدد سے یا تو کوئی چنگاری لگائی جا سکے یا پھر کوئی چٹکلہ چھوڑا جا سکے۔ ظاہر ہے اگر ہم نے محنت کشوں ، کسانوں، مزدوروں، مکینکوں میں یہ اہم تاریخی اور فقہی اختلافات کو عام نہ کیا تو یہ ملک کیسے ترقی کرے گا ؟؟؟۔
پہلے یہ کام چند مشہور چینلز کیا کرتے تھے اب اس فخریہ پیش کش میں بہت سے یوٹیوبرز، ان پڑھ وی لاگرز اور ٹک ٹاکرز بڑی شد و مد سے شامل ہونے لگے ہیں۔ ہم نے پھل فروشوں سے لے کر کھجور فروشوں، درزیوں اور قصائیوں تک کو یہ بات سمجھا دی ہے کہ اگر انھوں نے سنگین فقہی یا تاریخی مسائل پر اپنی رائے فوراً قائم نہ کی تو وہ بخشے نہیں جائیں گے۔ 
اس ضمن میں قابلِ فخر بات یہ ہے کہ ملک میں تعصبات سے بھرپور ماحول پیدا کرنے اور قوم کا مزاج انتہا پسندانہ بنانے میں کم و بیش سبھی طبقات نے اہم کردار پوری زمہ داری سے ادا کیا ہے۔ ہم نے کون سی معلومات کس طبقے کو دینی ہیں؟ کس طرح کی دلچسپی رکھنے والے افراد کن میدانوں میں پیدا کرنے ہیں؟ اور کن لوگوں کو کس طرز کی تربیت کی ضرورت ہے؟ ہم ابھی تک ان حوالوں سے پالیسی سازی نہیں کر پائے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میں ایک سپیس سائنس کے مشہور و معروف ادارے کے پروفیسرز کے ساتھ کھانے پر بیٹھا تھا۔ میری ان سے کسی دوست کے طفیل پہلی ملاقات تھی۔ بحیثیت طالب علم مجھے جدید تحقیقاتی اداروں کے بارے میں جاننے اور ان کے پیدا کردہ افکار کے بارے میں پڑھنے کا شوق ہمیشہ سے رہا ہے۔ سپیس سائنس کے ادارے سے منسلک ان پروفیسروں نے ڈھائی گھنٹے کی بیٹھک میں بڑی تفصیل سے رفع الیدین پر بحث کی۔ یہ بحث علمی سے کہیں زیادہ جذباتی تھی۔ مجھے ان کی بحث پر کوئی اعتراض نہیں تھا نہ آج ہے لیکن یہ ضرور محسوس ہوا کہ یہ صاحبان اپنی دلچسپی کے اعتبار سے غلط شعبے میں کام کر کے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہیں۔ آپ پاکستان کے جدید تحقیقی اداروں میں جائیں وہاں پائے جانے والے لوگوں کی گفتگو سنیں، ان کی نجی محافل اور کام کی جگہوں پر ہونے والی بات چیت سنیں حتیٰ کہ ان کی آفیشل گفتگو سنیں مجھے یقین ہے کہ صورت حال اس سے مختلف نہیں ہو گی۔ 
چلیں ہم اس صورت حال پر کوئی تنقیص نہیں کرتے لیکن اگر ہم اس سب کے ساتھ اگر معاشرے کی حالتِ زار پر بات کرلیں تو بھی یار لوگ برا مان جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود معاشرے کی اخلاقی حالت، تہذیبی شکل اور قدروں کی جانب دیکھا جائے تو کیا کہا جائے گا؟ بات میڈیائی پروگراموں کے مواد سے چلی تھی۔ معاشرے نے ان سے کیا حاصل کیا ؟ ۔
رمضان کے استقبال میں سب سے پہلے ہم سادہ سادگی اور قناعت پسندی کی طرف راغب ہوں گے۔ ریسٹورینٹس پر بوفے کلچر مزید فروغ پائے گا، کاسمیٹکس کی مصنوعات کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ہو گا، ساتھ ہی تمام مارکیٹوں میں چیزیں مہنگی ہونا شروع ہوں گی۔ پھر منافع خوری تیز ہوتی ہوئی ٹھگی اور لوٹ کھسوٹ تک پہنچ جائے گی۔ پھل سبزیاں اور گوشت عام آدمی کی پہنچ سے باہر جانا شروع ہوں گے۔ اسی دوران چوری چکاری کی وارداتوں میں اضافہ ہو گا۔ موبائل، پرس اور موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات بڑھ جائیں گے۔ 
بات صرف نرخوں تک نہیں رکتی۔ دوسرے مرحلے میں ملاوٹ کا سنگین مسئلہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ آپ ایک ٹیسٹ کے طور پر ملک کے خصوصاً بڑے شہروں میں خالص دودھ یا دیسی گھی تلاش کریں۔ عام طور پر تیار کی جانے والی کھانے پینے کی چیزوں کا معیار چیک کریں۔ نتائج آپ کو پہلے سے معلوم ہیں لیکن یہ تجربہ شاید آپ کی توجہ ان حقیقی مسائل کی طرف مبذول کرا سکے جن کا ہمیں طویل عرصے سے سامنا ہے۔ اگر اس حوالے سے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو خطرناک تفصیلات سامنے آتی ہیں۔ 
حقیقت یہ ہے کہ ان مسائل سے زیادہ اہم وہ فقہی اور تاریخی تعصبات ہیں جن پر سارا میڈیا اور سوشل میڈیا ابھی برس پڑے گا۔ یہ ماضی کے ہر کردار کی جنت جہنم کا الگ الگ فیصلہ کر کے لوگوں کو بتائیں گے کہ کون کس سے کتنی نفرت کر سکتا ہے۔ یار لوگوں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ ہم رمضان کی تقریبات میں کچھ اور نہ بھی کر سکیں تو کم از کم گرما گرمی تو پیدا کر ہی سکتے ہیں۔ لوگوں کی اخلاقی تربیت ہمارے ذمہ ہے نہ ہی ان کی طرزِ زندگی میں کوئی بہتری ہمارا مقصود ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان چیزوں سے ہمارے پالیسی سازوں نے بھی صرفِ نظر کیا ہوا ہے۔ 
میری ناقص رائے میں رمضان المبارک ہمیں مادی اور نظریاتی تبدیلی کا غیر معمولی موقع فراہم کرتا ہے لیکن اس بات کا مطلب ہر گز ضیا الحق کی لاٹھی نہیں ہے بلکہ حقیقی مسائل کے حل کی جانب شعوری کوشش کا سلسلہ ہے۔

ٹیگز: