آج ہم سود مند باتیں باتیں کرتے ہیں۔ وہ باتیں جن کی بنیاد پر ہمارا پورا معاشرہ کھڑا ہے۔ دیکھیے مصلحت کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اپنا فائدہ نقصان اچھی طرح سے دیکھ لیں۔ کاروباری اور دنیاداری کے معاملات میں درجہ بندی کا خاص خیال رکھیں۔ زندگی جن رسومات کے سہارے کھڑی ہے اور معاشرہ جن اقدار پر کام کرتا ہے وہ کسی بھی زمانی حقیقت سے زیادہ اہم ہے۔ آپ کا کام پہلے سے تیار شدہ چیزوں سے استفادہ کرنا ہے۔ پہلے سے قائم شدہ تصورات پر چلنا بہت ضروری ہے۔ زمانے کے چال چلن کو سمجھئے اور وقت اور حالات کے مطابق قدم اٹھائیے۔
رسمی امور میں غیر رسمی رویہ اختیار نہ کیجئے۔ کام کے اوقات اور ڈسپلن کو بھی ہمیشہ مد نظر رکھیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی قدر کی جائے تو مال و اسباب ضرور اکٹھا کیے رکھیں۔ صاحبِ ثروت ہونا ایسی اچھائی ہے جو انسان کی تمام روحانی برائیوں کو چھپا سکتی ہے۔ ثروت مندی چونکہ برکت کی علامت ہے۔ ثروت مندی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ لباس سمیت تمام تر زیر استعمال چیزوں پر زور دیجئے۔ لباس وقت اور محل کے مطابق زیب تن کیجئے۔ خصوصاً اگر آپ دفتر میں موجود ہیں تو لباس کو خود سے زیادہ اہم تصور کیجئے۔ کیا خریدنا اور پہننا آسان ہے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی۔ ایسی باتوں میں الجھنے سے آپ کی شخصیت مو¿ثر نہیں رہے گی۔
یہ وہ تمام نکات اور دانشمندانہ باتیں ہیں جو ہم نے سنا اور پڑھا کر اپنے معاشرے میں بہت سے روبوٹ پیدا کیے ہیں۔ ان میں اکثر روبوٹ ہلے جلے ہیں، یعنی ہلے ہوئے ہیں۔ ان کی استعداد کار تو جدید برقی روبوٹ جیسی نہیں ہے لیکن فکر و نظر سے عاری اور بصیرت سے محروم ہونے میں یہ برقی روبوٹس سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ بس اب آخری کیل ٹھوکیے ان روبوٹس میں مصلحت پسندی کی کیسٹ لگا کر آخری درجے کی خوشامد سکھا کر انہیں اور پختہ کار بنا دیجئے تا کہ اسی ماحول میں یہ اور ترقی کر سکیں اور کامیابی کے یہی معیارات مزید پختہ کرتے چلیں۔
آپ اپنے اداروں میں سکھائیے کہ گیدڑ کی سو سال کی زندگی شیرکی ایک دن کی زندگی سے بہتر ہے۔ گیدڑ کی زندگی میں ملنے والی کامیابیوں کو مثال بنا کر پیش کیجئے اور اپنے ارد گرد کے بونے خوشامدیوں میں نئے گیدڑ پیدا کیجئے۔
کتنی خوش قسمتی کی بات ہے کہ اس زمیں پر کئی صدیاں گزارنے کے بعد بھی یہاں وہ انسانی بستیاں نہیں پنپ سکیں جن میں آواز اٹھانے، تنقید کرنے اور مروجہ اصولوں کو توڑنے والے شرارتی لوگ پائے جاتے ہوں۔ انسانی فکر کو شکست و ریخت کے تکلیف دہ عمل سے گزارنے والے باغی پھل پھول سکتے ہوں۔ اس کی بجائے دماغ کو پُر سکون رکھنے والے ذوقِ تن آسانی کی نیکی سنبھالے ہوئے پارسا لوگوں کی افراط کا شکار یہ دنیا تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ مادی وسائل سے لدے پھندے وجود پارسائی کی عیاشی کے ہزار طریقے ایجاد کر چکے ہیں۔ سہولت سے ان کی نئی تعبیر کیجے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں نئے پرانے دور کا سنگم ہونا ہے۔ نئی وارداتوں اور پرانی کہانیوں نے حکمت اور دانش کے کئی بھیس بدلنے ہیں ۔ قصہ در اصل انسان کی غیر متمدن زندگی سے شروع ہوا تھا اور تہذیب کی سرحد عبور کرنے تک یہ تعمیر جاری و ساری ہے۔ لیکن اس سے زیادہ خوش آئند بات یہ ہے کہ جدید تہذیب کی سرحد عبور کرنے کے بعد ہمارے معاشرے مزید ترقی یافتہ ہو گئے ہیں۔ عالمی سطح پر انسان کی آزادی کے خواب دیکھنے والے انیسویں اور بیسویں صدی کے فلسفی اگر اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں آگے بڑھتی ہوئی انسانی آزادی کو دیکھیں تو باغ باغ ہو جائیں۔ روسو نے انسان کو دنیا بھر میں پا با زنجیر دیکھا تو پریشان ہو گئے تھے۔ ہم نے زنجیر کی علامت کو اس کے تاریخی تصور سے علیحدہ کر لیا ہے۔
تسلی بخش بات یہ ہے کہ کم از کم ہم اس میدان میں دنیا سے آگے ہیں۔ ہم اول درجے کے خوشامدی پیدا کرنے کا عظیم کام انجام دے رہے ہیں اور انہی ہمنواوں کی مدد سے نئے دور کی مہذب غلامی ترتیب دے رہے ہیں۔ ہماری ساکھ ہمارے ہمنوا قوالوں پر منحصر ہے۔ تالیاں بجانے والوں میں کوئی ایک انگلی اٹھانے والا شامل ہو گیا تو ریت پر بنی عمارت ڈھیر ہو جائے گی۔ سو اچھی اچھی باتیں کیا کیجئے۔ زیادہ بولنے یا سامنے بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مطلب کی بات کیا کیجئے۔ وقت پر آیا جایا کیجئے اور لباس کا خاص خیال رکھا کیجئے۔ ہم دوسروں پر خوشبو سے بھی اچھا تاثر ڈال سکتے ہیں۔ پھر چاہے منہ سے کیسی ہی بد بو کیوں نہ پیدا ہو رہی ہو اور ذہن اس سے بھی کہیں زیادہ تعفن زدہ کیوں نہ ہو، بے فکر رہیے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اپنا فائدہ نقصان دیکھ لیا کیجئے۔