اسلام آباد: شہریوں کی نجی معلومات کو سائبر حملوں سے بچانے کے لیے قومی سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے ملک بھر کے اداروں کے لیے ڈیٹا سیکیورٹی کی تازہ گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔
نیشنل سرٹ، جو پاکستان کے ڈیجیٹل اثاثوں، اہم معلوماتی نظاموں اور انفراسٹرکچر کو سائبر خطرات سے محفوظ رکھنے والا وفاقی ادارہ ہے، نے ان ہدایات میں اداروں کو شہریوں کے حساس ڈیٹا کی حفاظت کے لیے فوری، درمیانی اور طویل المدتی اقدامات اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ایڈوائزری ان تمام اداروں پر لاگو ہوگی جو شہریوں کی ذاتی شناختی معلومات (PII) کو اکٹھا کرتے، پراسیس کرتے، محفوظ رکھتے یا کسی دوسرے ذریعے سے منتقل کرتے ہیں۔ ان میں مالیاتی ادارے، ٹیلی کام کمپنیاں، انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز، لاجسٹکس، حکومتی دفاتر، اسپتال، تعلیمی ادارے اور آؤٹ سورسنگ کمپنیاں شامل ہیں۔
رہنما ہدایات میں شامل اقدامات میں شامل ہیں:
ڈیٹا کو اس کی حساسیت کے مطابق درجہ بند کرنا
جدید انکرپشن ٹیکنالوجیز کا استعمال
ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن کو رائج کرنا
صرف قانونی مدت تک معلومات کو محفوظ رکھنا
پرانی اور غیر ضروری معلومات کو تلف کرنا
نیشنل سرٹ نے اداروں کو تاکید کی ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کو اپ ڈیٹ رکھیں، اسٹاف کو سائبر سیکیورٹی کی باقاعدہ تربیت دیں، اور غیر مجاز رسائی کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام اپنائیں۔
ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ سائبر مجرم نت نئے طریقے اپنا رہے ہیں، سیکیورٹی کنفیگریشن میں خامیاں اور ڈیٹا ہینڈلنگ میں لاپروائی اکثر بڑے ڈیٹا لیکس کی وجہ بنتی ہے۔
ممکنہ خطرات میں شامل ہیں:
سائبر کرائم گروہ جو شہریوں کا چوری شدہ ڈیٹا بیچ کر فراڈ اور فشنگ کے ذریعے پیسہ بناتے ہیں
ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے اے پی ٹی گروپ جو سیاسی و انٹیلی جنس مقاصد کے لیے ڈیٹا چراتے ہیں
ہیکٹیوسٹس جو نظریاتی بنیادوں پر اداروں کو نشانہ بناتے اور معلومات افشا کرتے ہیں
اندرونی بدنیت افراد جیسے کہ ملازمین یا کنٹریکٹرز جو ذاتی مفاد یا انتقامی جذبے کے تحت معلومات کا غلط استعمال کرتے ہیں
نیشنل سرٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر اداروں نے ڈیٹا پروٹیکشن پر توجہ نہ دی تو اس کے نتیجے میں شناختی چوری، مالی فراڈ، رازداری کی خلاف ورزیاں، سروسز میں خلل، عوامی اعتماد میں کمی اور قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ادارے نے عام شہریوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات کو صرف ضرورت پڑنے پر ہی فراہم کریں، مضبوط پاس ورڈز کا استعمال کریں، ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن کو فعال رکھیں اور غیر ضروری طور پر آن لائن معلومات شیئر نہ کریں۔
واضح رہے کہ مئی میں نیشنل سرٹ نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کے 18 کروڑ سے زائد صارفین کے لاگ ان کریڈینشلز ایک عالمی ڈیٹا لیک میں چوری ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل مارچ 2024 میں نادرا ڈیٹا لیک کی تحقیقات کرنے والی JIT نے انکشاف کیا تھا کہ 2019 سے 2023 کے درمیان تقریباً 27 لاکھ شہریوں کا ڈیٹا چوری ہو چکا ہے۔