Wed, September 16, 2026

ویلڈن سی سی ڈی

ویلڈن سی سی ڈی

گزشتہ دور حکومت میں جب میاں شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو انہوں نے ایک اعلان کیا کہ ہم لاہور کو استنبول بنائیں گے اس کے ساتھ ہی لاہور کو کلین اور گرین کرنے کے لیے دو محکموں میں اصلاحات کی گئیں جن میں پی ایچ اے اور لاہور میونسپل کارپوریشن شامل تھیں۔ میونسپل کارپوریشن کو ایک نئے محکمے میں ضم کر کے ایل ڈبلیو ایم سی کے نام سے نیا محکمہ بنایا گیا ان میں اضافی لوگ بھرتی کیے گئے ان کی فہرست کے مطابق انہیں مشینری دی گئی ابتدائی طور پر اس کی مینجمنٹ میں ترکی کے لوگوں نے بہت مدد کی اور ایک ایسا ادارہ بنا کر حکومت پنجاب کے حوالے کیا جس کے بعد اسے چلانا مشکل نہیں رہا تھا کیونکہ انہوں نے ایک ایسا نظام بنا دیا تھا کہ جس میں وقت کے ساتھ حسب ضرورت تبدیلیاں کر کے اسے بہتر بنایا جا سکے۔ پھر پنجاب پر تحریک انصاف کا سیاہ ترین دور حکومت شروع ہوا جس نے ترکی کے تمام معاہدے منسوخ کر دئیے لاہور کو پھر سے کوڑا دان بنا دیا گیا سڑکوں پر ہر طرف کوڑے کے ڈھیر نظر آنے لگے اور گرین بیلٹس پر لگے پودے اور پھول پانی نہ ملنے کی وجہ سے جل گئے پنجاب کے ہر محکمے میں کرپشن کا راج ہو گیا۔ جب محترمہ مریم نواز صاحبہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئیں تو انہوں نے ان محکموں کو از سر نو ترتیب دیا بلکہ اس کا دائرہ کار بڑھا کر لاہور کی بجائے پورے پنجاب تک پھیلا دیا اور اس کی معاونت کے لیے ستھرا پنجاب کے نام سے ایک اور محکمہ شروع کیا ان کی دن رات محنت نے لاہور سمیت سارے پنجاب کو دوبارہ سے صاف ستھرا بنا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک نئے چیلنج نے پنجاب کو گھیر لیا سموگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر دیں پھر محترمہ وزیراعلیٰ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور لاہور میں بہت سی جگہوں پر سموگ ٹاور اور اب مزید جدید مشینری منگوائی جس سے آنے والے دنوں میں سموگ کا مقابلہ کرنے میں کافی مدد ملے گی، ان شاء اللہ۔ اب سموگ کے دنوں میں پنجاب واسیوں کو بہتر موسمی حالات دیکھنے کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ میڈم وزیراعلیٰ نے شہروں اور فضاؤں کی گندگی کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب سے جرائم کی گندگی صاف کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی ضمن میں فروری 2025 میں سی سی ڈی کے نام سے ایک نیا محکمہ بنایا جو بلا شبہ وقت کی اہم ضرورت تھی اور اس کی سربراہی جناب سہیل ظفر چٹھہ صاحب کو دی اس محکمے نے اس مختصر ترین وقت میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی بڑے بڑے بدمعاشوں، قبضہ گروپوں، بھتہ خوروں، اغوا کاروں، چوروں ڈکیتوں کے وجود کی غلاظت سے پنجاب کو صاف کرنے کا عمل جاری ہے اور ان شاء اللہ بہت جلد وہ وقت آئے گا کہ دبئی کی طرح پنجاب بھی جرائم سے پاک ہو جائے گا۔ میں مبارک باد پیش کرتا ہوں جناب وزیراعلیٰ پنجاب، انسپکٹر جنرل پنجاب، سہیل ظفر چٹھہ صاحب، ان کی ٹیم میں شامل تمام افسران، ملازمین اور ہر اس شخص کو جنہوں نے میرے پنجاب کو کرائم فری کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اگر یہ نظام ایسے ہی چلتا رہا تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جیسے سہیل چٹھہ صاحب نے اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی عورت زیور پہن کر اکیلی سفر کر رہی ہوئی تو اسے کوئی خوف نہیں ہو گا۔ جب سے یہ فورس قائم ہوئی ہے بڑے بڑے بدمعاشوں نے جرائم سے توبہ کر لی ہے بہت سوں نے تو مساجد میں جا کر قران کریم سر پر رکھ کر ریاست سے وعدہ کیا ہے کہ وہ آئندہ کسی جرم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اگر یہ فورس اسی عزم سے کام کرتی رہی تو پنجاب سے قاتلوں، زانیوں، بھتہ خوروں، قبضہ گروپوں کا خاتمہ یقینی ہے حکومت پنجاب کی بڑی کامیابی ہے کہ اتنے کم وقت میں انہوں نے پنجاب کے 38 اضلاع میں سی سی ڈی پولیس سٹیشن قائم کر دئیے ہیں لاہور چونکہ ایک بڑا شہر ہے اس لیے اس میں تین پولیس سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ جب سے سی سی ڈی فورس کا قیام عمل میں آیا ہے یقین کریں پنجاب کے تمام شہریوں سمیت سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد پاکستان پر بحال ہو گیا ہے۔ انہیں اب یقین ہو گیا ہے کہ جو انہوں نے محنت مزدوری کر کے پاکستان میں جائیدادیں بنائی ہیں وہ محفوظ ہو گئی ہیں، اب ان پر کوئی قبضہ نہیں کرے گا۔ اس کا نتیجہ آپ نے گزشتہ ماہ بیرون ملک سے آنے والی رقوم کی صورت میں دیکھ لیا ہے یہ سہرا بلا شبہ سربراہ سی سی ڈی کے سر جاتا ہے کہ سمندر پار پاکستانی ان کی موجودگی میں اپنی جانوں اور اپنی جائیدادوں کو محفوظ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ جس 
طرح اس مختصر وقت میں سی سی ڈی نے بڑے بڑے بدمعاشوں کو اچھے بچے بنا دیا ہے اور جن کا انسان بننا مشکل تھا انہیں مکمل علاج فراہم کر کے ٹھکانے لگا دیا ہے اگر یہ سلسلہ مزید ایک سال جاری رہا تو ان شاء اللہ پنجاب پاکستان کا سب سے پُرامن صوبہ ہو گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس فورس میں اصلاحات کی ضرورت پیش آئے گی حکومت پنجاب سے گزارش ہے کہ جس طرح آپ نے پنجاب پولیس سے قابل ترین اور ایماندار لوگوں کو اس فورس میں شامل کیا ہے اسی طرح انہیں جدید گاڑیاں، جدید اسلحہ، بکتر بند گاڑیاں، جدید ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم، جدید یونیفارم، نائٹ ویژن گلاسز، بلٹ پروف جیکٹس اور اس کے ساتھ تمام ضروری آلات بھی فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ان میں جدید ٹیکنالوجی، ڈرون ٹیکنالوجی، بھاری جنگی اسلحہ بھی فراہم کریں انہی میں سے قابل ترین افسران کو منتخب کریں انہیں جدید ٹریننگ کے لیے چین، دبئی یا ترکی بھیجیں تا کہ واپس آ کر یہ اپنے تمام ساتھیوں کو جرائم کے خاتمے کے جدید انداز سکھا سکیں۔ سی سی ڈی کے تمام افسران اور ملازمین ہر وقت اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر جرائم پیشہ افراد سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں انہیں لائف انشورنس، صحت کارڈ ان کے بچوں کی مفت تعلیم کے لیے کوئی ایجوکیشن کارڈ وغیرہ فراہم کریں اور انہیں وہ تمام وہ سہولیات دیں جو ترقی یافتہ ممالک نے اپنی پولیس کو دے رکھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹیلیجنس کی جدید تربیت دبئی کی طرز پر کریں مخبری کا نظام متعارف کرائیں تاکہ بدمعاشوں کے ساتھ ساتھ پنجاب کو منشیات فروشوں اور ہر قسم کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی جرائم سے بھی پاک کیا جائے۔ جناب وزیراعلیٰ اگر ممکن ہو تو جیسے ہی ہماری سی سی ڈی پنجاب سے جرائم کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ایک پھیرا رشوت خوری، ملاوٹ، سود خوری، کم تولنے والوں اور ان سے ملتی جلتی معاشرتی برائیوں پر بھی ہو جائے۔ اگر سی سی ڈی آئندہ چند ماہ میں اپنے ٹارگٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو میرا خیال ہے کہ آئندہ کئی سال تک کوئی جرم کی راہ پر چلنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ میری وزیراعلیٰ کے پی کے سندھ بلوچستان سے بھی گزارش ہے کہ اپنے اپنے صوبوں میں سی سی ڈی پنجاب کی طرز پر اپنی فورسز کی ٹریننگ کا انتظام کریں ان شاء اللہ آ پ کو بھی کامیابی حاصل ہو گی۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ سی سی ڈی کے تمام جوانوںکو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور یہ اسی جذبے سے پنجاب کی خدمت کرتے رہیں۔

ٹیگز: