Wed, September 16, 2026

ویلڈن! مریم نواز شریف

ویلڈن! مریم نواز شریف

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض نام محض شخصیات نہیں بلکہ ہمت، جرأت اور مزاحمت کی علامت ہیں۔ مریم نواز شریف کا شمار آج انہی ناموں میں ہوتا ہے۔ وہ سیاست میں کسی حادثاتی موڑ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، کٹھن اور مسلسل جدوجہد کی پیداوار ہیں۔ ان کا سیاسی سفر 1999ء کے مشرف دور کی اس گھٹن زدہ فضا سے شروع ہوا جب ایک منتخب وزیرِاعظم کو قید کر کے خاندان کے تمام مردوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ جبر و استبداد کے اسی تاریک دور میں مریم نواز بھی بچوں سمیت گھر میں قید تھیں تو کسی طرح بی بی سی کو اُن سے انٹرویو کی اجازت مل گئی۔ مریم نواز کا وہ تاریخی انٹرویو آج بھی اُن کی سیاسی بصیرت، جرأتِ اظہار اور فکری پختگی کی ایک روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔ اس انٹرویو میں مریم نواز نے نہ صرف آمریت کو للکارا بلکہ یہ واضح اعلان بھی کیا کہ وہ تاریخ کی درست جانب کھڑی ہیں اور ظلم و جبر کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ محض الفاظ نہیں تھے بلکہ ایک عہد تھا جسے انہوں نے ہر آزمائش میں نبھا کر دکھایا۔ مریم نوازمیاں نواز شریف کی صاحبزادی ہیں مگر یہ کہنا دیانت داری کے منافی ہو گا کہ وہ صرف اسی نسبت کے سہارے یہاں تک پہنچی ہیں۔ سیاست میں خاندانی پس منظر راستہ تو فراہم کر سکتا ہے منزل نہیں۔ منزل تک پہنچنے کے لیے  ہمت، جرأت، عزم، مزاحمت، قربانی اور کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ مریم نواز نے جیلیں کاٹیں، مقدمات کا سامنا کیا، جلاوطنی برداشت کی اور سیاسی تنہائی کے ادوار دیکھے مگر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ مشکل دور میں حمزہ شہباز کی قربانیوں سے بھی انکار ممکن نہیں تاہم 2024ء کے انتخابات کے بعد جب مرکز میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے میاں شہباز شریف کا انتخاب عمل میں آیا تو پارٹی قیادت کے سامنے سب سے اہم سوال پنجاب کی قیادت کا تھا۔ ایسے وقت میں جب کہ پارٹی کا سیاسی مستقبل براہِ راست پنجاب سے جڑا ہوا تھا متفقہ طور پر مریم نواز شریف کو وزیرِاعلیٰ پنجاب نامزد کرنا ایک جرأت مندانہ مگر سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں، جہاں گھاگ سیاستدانوں کے ساتھ ایک مضبوط اپوزیشن سرگرم ہو اور عوامی توقعات آسمان سے باتیں کر رہی ہوں وہاں ایک خاتون کو پہلی بار وزیرِاعلیٰ منتخب کرنا بظاہر ایک مشکل فیصلہ تھا۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ مسلم لیگ (ن) کا مستقبل بڑی حد تک پنجاب میں مریم نواز کی کارکردگی سے وابستہ تھا۔ 25 فروری 2024ء کو حلف اٹھانے کے بعد آج یکم فروری 2026ء کو مریم نواز کی وزارتِ اعلیٰ کو تقریباً دو سال مکمل ہونے جا رہے ہیں۔ ان دو برس میں مریم نواز جس عزم اور متحرک قیادت کے ساتھ عوامی مسائل کے حل میں مصروف نظر آئیں وہ قابلِ ستائش ہے۔ ان کے یہ دو سال مسلسل محنت اور عوامی خدمت کے سال ثابت ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں پنجاب حکومت کی کارکردگی محض دعوؤں تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں عوام کے سامنے آئی ہے۔ صحت کے شعبے میں سرکاری ہسپتالوں کی بہتری، مفت ادویات کی فراہمی، جدید مشینری کی تنصیب اور دیہی علاقوں میں بنیادی صحت مراکز کو فعال بنانے جیسے اقدامات نے عام آدمی کو براہِ راست فائدہ پہنچایا ہے۔ تعلیم کے میدان میں سکولوں کی اپ گریڈیشن، اساتذہ کی بھرتی، ڈیجیٹل لرننگ پروگرامز اور طالب علموں کے لیے وظائف نے تعلیمی نظام کو نئی سمت دی۔ اسی طرح باعزت روزگار کے لیے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے پروگرام، خواتین کے لیے آسان قرضے اور چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی جیسے منصوبے عوامی سطح پر خاصے مفید ثابت ہوئے ہیں۔ ستھرا پنجاب مہم کے ذریعے صفائی کے نظام میں بہتری، نکاسیِ آب کے منصوبے اور شہری سہولیات کی فراہمی نے صوبے کے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے قصبوں کی شکل بھی بدلنا شروع کر دی ہے۔ روزمرہ مسائل میں آسانی کے لیے ون ونڈو آپریشن، ڈیجیٹل سروس اور انتظامی اصلاحات مریم نواز حکومت کی گڈ گورننس کا عملی ثبوت ہیں۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات ہوں یا تعلیم کے میدان میں اقدامات، باعزت روزگار کے مواقع ہوں یا روزمرہ زندگی میں سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں ہر جگہ وزیراعلیٰ کی موجودگی اور دلچسپی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین ریسرچ کی جانب سے گذشتہ کچھ عرصہ پہلے پنجاب کے 36 اضلاع میں کیے گئے سروے کے نتائج کے مطابق پنجاب کے 62 فیصد عوام نے عوامی خدمت اور مسائل کے حل کے حوالے سے مریم نواز کی کارکردگی کو غیر معمولی قرار دیا۔ تعلیم کے شعبے میں 73 فیصد اور صحت کے شعبے میں 68 فیصد عوام نے وزیراعلیٰ کے اقدامات کو اچھا اور بہت اچھا قرار دیا جب کہ 57 فیصد شہریوں کے مطابق گزشتہ دو برس میں گورننس کا معیار بہتر ہوا ہے۔ سروے کے مطابق 60 فیصد عوام اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مریم نواز شریف نے کارکردگی کے اعتبار سے دیگر تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ 53 فیصد عوام کی رائے میں پی ٹی آئی کے مقابلے میں مریم نواز کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد پنجاب حکومت کی کارکردگی اور عوامی خدمت کے معیار میں واضح بہتری آئی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی صرف صوبے تک محدود نہیں رہی بلکہ خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کے عوام بھی ان کی شفافیت اور گڈ گورننس کو سراہنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ سانحہ بھاٹی گیٹ کے بعد وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس حادثے میں غفلت اور کوتاہی کے مرتکب انتظامی افسران کے خلاف جس طرح کسی دباؤ اور مصلحت کے بغیر فوری اور سخت کارروائی کی اور جاں بحق ہونے والی خاتون اور اس کی بچی کے لواحقین کی داد رسی کی اسے نہ صرف پنجاب بلکہ ملک بھر کے عوام نے تمام تر تعصبات سے بالاتر ہو کر سراہا ہے اورمر یم نواز کے انصاف کے لیے ان فوری اقدامات کو ذمہ دار قیادت کی علامت قرار دیا ہے۔ اگر مریم نواز کی سیاست کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ مزاحمت سے خدمت تک کے سفر کی علامت ہیں۔ مشرف دور کی آمریت کے خلاف جدوجہد سے لے کر بطور وزیراعلیٰ پنجاب عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات تک ان کا ہر قدم ایک واضح سمت کا غماز ہے۔ وہ محض اقتدار کی وارث نہیں بلکہ اپنے والد اور قائد میاں نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی امین اور عوامی خدمت کی کارکردگی کی نمائندہ ہیں۔ یہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی سیاستدان کو تاریخ میں زندہ رکھتے ہیں اور مریم نواز شریف عوامی فلاح و بہبود کے اسی راستے پر گامزن دکھائی دیتی ہیں۔ ویلڈن مریم نواز شریف۔

ٹیگز: