زندگی تغیرات کا نام ہے ، کچھ بھی مستقل نہیں۔ انسانی زندگی ہویا پھر قدرت ، حادثوں اور تبدیلیوں سے مزین ہے۔ انسانی و قدرتی طرز عمل بعض اوقات ایسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں جو آنے والے ماہ و سال کو لوگوں کے لیے سب کچھ بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ اس وقت اگر بین الاقوامی اُفق پر نگاہ ڈالی جائے تو امریکہ سے لیکر بھارت تک اور اسرائیل سے لیکر پاکستان تک، بڑے تنازعات جس انداز میں رونما ہورہے ہیں وہ اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ دُنیا پر بسنے والے انسانوں کے لیے آنے والے دن ایسی جنگوں کی نوید سنا رہے ہیں جو بنی نوع انسان کے لیے بڑی تباہی لا سکتی ہیں۔ اگر امن کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات نہ اُٹھائے گئے تو پھر شاید آنے والی دُنیا ہمیں آج ویسے بھی نظر نہ آئے جیسے ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں موسمیاتی تبدیلیوں نے دُنیا کے طول و عرض میں تباہی مچا رکھی ہے۔ پاکستان ان دنوں خاص طور پر ان کے نشانے پر ہے۔ روس، یوکرین تنازع میں واشنگٹن کی بھرپور حمایت و مدد حاصل کرنے کے لیے یورپی رہنما وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔ ان رہنمائوں میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر، یورپین کمیشن کی صدر اور اٹلی کی وزیراعظم سمیت دیگر رہنما ٹرمپ سے ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ تاہم کامیابی کے امکانات اس لیے بھی کم ہیں کیونکہ روس 90ء کی دھائی میں شروع کی گئیں امریکہ اور یورپ کے وہ سازشیں جس کی تحت وہ روس کے گرد گھیرا تنگ کرکے بالآخر یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنا ہے، کسی بھی حال میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ روسی صدر سے حالیہ ملاقات کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے الاسکا میں ملاقات میں جنگ بندی سے متعلق کوئی خاص پیش رفت تو سامنے نہ آ سکی تاہم امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان سامنے ضرور آیا تھا کہ ملاقات مثبت رہی۔ ایسے میں ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ملاقات قدرے دوستانہ رہی جو فروری میں دونوں صدور کے درمیان اسی کمرے میں خاصی تلخ تھی۔ ٹرمپ اور یورپی شراکت داروں کی جانب سے تاحال یوکرین کی سلامتی کی ضمانت یا امن معاہدے کی جانب اقدامات کے حوالے سے کوئی ٹھوس وعدے نہیں کیے گئے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دو طرفہ معاہدے کے بعد، ایک ایسے مقام پر، جس کا تعین کیا جائے گا، ایک سہ فریقی اجلاس ہو گا جہاں امریکی صدر ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ایسے میں جنوبی ایشیا کی دو بڑی ایٹمی قوتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کے باوجود حالات خاصے کشیدہ ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کے بعد کہ بھارتی انکار کے باوجود ان کے پاس ایسے وڈیو ثبوت موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ کے دوران انڈیا کے چھ لڑاکا طیارے گرے تھے، نئی دہلی کے دُنیا بھر میں ایک بار پھر ’واٹ‘ لگا دی ہے۔ بھارت اس وقت تنہائی کا شکار ہے۔ خطے میں اس کا تھانیدار بننے کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔ ٹرمپ بھی مودی سرکار سے اُکھڑے اُکھڑے سے ہیں۔ ایسے میں نریندر مودی چین سے تعلقات کی بہتری کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ چین بھی خطے میں اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے وزیر خارجہ ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں۔ جس کے بعد وہ پاکستان بھی آئیں گے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا بھی چین کا دورہ شیڈول ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی جلد بنگلہ دیش کا دورہ کرینگے جو پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغا ز ہے۔ انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ پڑوسیوں کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی صرف اسی صورت میں پیدا سکتی ہے جب ان کی سرحد پر امن ہو۔ اگر یہ بات دُرست ہے تو نئی دہلی کو اس کا اطلاق سب سے پہلے اپنے ہمسایوں پر کرنا چاہیے جو اسکے توسیع پسندانہ عزائم سے سخت نالاں ہیں۔ پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، چین اور بھوٹان سے اس وقت بھارت کے تعلقات خاصے کشیدہ ہیں۔
اب کچھ بات قدرتی آفات سے پیدا ہونے والی تباہی کی، جس کا ان دنوں پاکستان خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا شکار ہے۔ 26 جون سے اب تک پاکستان بھر میں بارش سے متعلقہ واقعات میں کم از کم 657 افراد ہلاک جبکہ 929 زخمی ہوئے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق، سب سے زیادہ تباہی صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوئی جہاں اب تک 390 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ قدرتی آفات کی تباہ کاری سے خوف زدہ پاکستانیوں کیلئے یہ اطلاعات بھی تشویشناک ہیں کہ مختلف علاقوں میں جاری بارشوں کی وجہ سے ملک کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے تاہم صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے دریاؤں میں بالخصوص پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایسے میں این ڈی ایم اے ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے جو قومی خزانے پر کسی آکاس بیل کی مانند ہے جو ہر سال اربوں روپے کے فنڈز تو کھا رہا ہے تاہم اس کی اصل کارکردگی صرف موسمی پیشن گوئیاں ہیں۔ موسمی اثرات سے تباہ حال علاقوں میں عوام اپنے مدد آپ کے تحت کام کرتے نظر آتے ہیں۔ این ڈی ایم اے کا حال تو یہ ہے کہ کئی سال بھاری فنڈز ہڑپ کرنے اور افسران و ملازمین کی فوج ظفر موج پالنے کے باوجود یہ موسم کی دُرست صورت حال کا اندازہ لگانے کے لیے ملک بھر میں مؤثر نظام قائم کرنے بھی ناکام نظر آتا ہے۔