Wed, September 16, 2026

”بلوچستان میں امن، ترقی اور فتنہ الہندوستان کی ناکامی“

”بلوچستان میں امن، ترقی اور فتنہ الہندوستان کی ناکامی“

بلوچستان پاکستان کا ایک انتہائی اہم، اسٹریٹجک اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے جو جغرافیائی لحاظ سے ملکی سطح پر غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے مختلف اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس صوبے کو دشمن عناصر نے اپنے سیاسی اور جغرافیائی مفادات کے لیے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی، تاہم حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ ریاست، اس کے ادارے اور بلوچستان کے عوام ایک مشترکہ قومی ویژن کے تحت ترقی، استحکام اور امن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس رپورٹس میں یہ بات بار ہا سامنے آئی ہے کہ شدت پسند اور علیحدگی پسند (فتنہ الہندوستان) تنظیموں کو بیرونی سرپرستی اور مالی معاونت حاصل رہی ہے، جن کا بنیادی مقصد پاکستان کے اندرونی امن کو سبوتاژ کرنا، ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ بھارت کی جانب سے خطے میں اثرانداز ہونے کی کوششیں کوئی نئی بات نہیں، تاہم پاکستان نے ہر دور میں ان کوششوں کا موثر اور بھرپور جواب دیا ہے۔ گوادر پورٹ، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے بڑے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ کوئی بھی رکاوٹ یا سازش پاکستان کی ترقی کے سفر کو نہیں روک سکی۔ یہ منصوبے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی ترقی اور رابطوں کا ایک نیا دور شروع کر رہے ہیں۔ریاست کی مربوط پالیسیوں، پاک فوج، جنوبی بلوچستان میں ایف سی بلوچستان (سا¶تھ)، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول انتظامیہ کے مشترکہ اقدامات کے نتیجے میں بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پسماندہ علاقوں میں اب امن، ترقی اور خوشحالی واضح طور پر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی طرف سے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ تشدد کا راستہ تاریکی ہے جبکہ مفاہمت اور ترقی ہی بلوچستان کا مستقبل ہے۔ بلوچستان دشمن علیحدگی پسند تنظیمیں جتنا بھی ظلم و جبر کر لیں، وہ اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ بلوچ عوام اب ان کے من گھڑت بیانیے کو مسترد کر چکے ہیں۔چین پاکستان اقتصادی راہداری نے بلوچستان کو ایک نئی معاشی سمت دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سڑکیں، توانائی، بندرگاہوں، صنعتی زونز اور تعلیمی اداروں کی تعمیر نے مقامی آبادی کےلئے روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ گوادر کو ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز بنانے کا خواب اب تیزی سے حقیقت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ان منصوبوں کی کامیابی نے نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کیا ہے بلکہ پاکستان کے عالمی اقتصادی کردار کو بھی نمایاں کیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی مسلسل، منظم اور موثر کارروائیوں کے باعث دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا گیا۔ عوامی فلاح و بہبود کے انیشیٹو شروع کیے گئے جن کی بدولت آج بلوچستان ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ خان آف قلات اور نوابوں کی بانی پاکستان محمد علی جناح اور پاکستان سے والہانہ محبت کسی تعارف اور ثبوت کی محتاج نہیں، اور آج یہ وابستگی پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ بلوچ نوجوان ملک بھر میں مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاک فوج، پولیس، سول سروس، تعلیم، صحت اورمیڈیا سمیت ہر میدان میں ان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ قومی دھارے کا فعال حصہ ہیں۔ آج پاکستان کے ہر شہر میں بلوچ خاندان نہ صرف آباد ہیں بلکہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں، جس کا واضح ثبوت ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں کوئٹہ ٹی سٹال، کوئٹہ بریانی، بلوچی سجی، کوئٹہ ہوٹل اور کوئٹہ کیفے کی صورت میں نظر آتا ہے۔ بلوچ ثقافت پاکستان کی شناخت کا ایک خوبصورت اور مضبوط پہلو ہے۔ بلوچ روایات، مہمان نوازی، موسیقی اور سماجی اقدار پورے ملک میں احترام اور محبت کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔ یہی ثقافتی تنوع پاکستان کی اصل طاقت ہے جو مختلف قومیتوں کو ایک مضبوط قومی دھاگے میں جوڑتا ہے۔بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں نے عام شہری کی زندگی پر مثبت اثرات ڈالے ہیں۔ تعلیمی اداروں کا قیام، صحت کی سہولیات میں بہتری، سڑکوں کی تعمیر اور روزگار کے نئے مواقع نے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنایا ہے۔ ریاست کی اولین کوشش رہی ہے کہ یہ صوبہ بھی ملک کے دیگر ترقی یافتہ صوبوں کے برابر کھڑا ہو اور یہاں کے نوجوانوں کو ہر ممکن سہولیات میسر ہوں۔ اگر مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند یا شدت پسند بیانیہ اپنی عوامی حمایت سے بالکل محروم ہے۔ اگرچہ دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، لیکن اس کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ریاستی رٹ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے، عوام کا اعتماد بحال ہوا ہے اور ترقی کا سفر پہلے سے زیادہ تیزی سے جاری ہے۔ یہ حقیقت پوری طرح واضح ہے کہ بلوچستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے اور یہاں کے عوام امن، ترقی اور استحکام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تمام منفی پراپیگنڈا اور غیر حقیقی بیانیے ناکام ہو چکے ہیں، جبکہ مستقبل کا راستہ صرف اور صرف ترقی، یکجہتی اور قومی ہم آہنگی کی طرف جاتا ہے۔ اس وقت فتنہ الہندوستان کا اصل چہرہ عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ بھارت کی سیاسی، سفارتی اور خفیہ سرپرستی کے باوجود دہشت گرد تنظیموں کی دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے۔ بھارتی سرمایہ کاری، خواہ وہ میڈیا وار کی صورت میں ہو یا دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کی شکل میں، سب زمین بوس ہو چکی ہے۔ نہ تو بلوچستان کے عوام نے اس ایجنڈے کو قبول کیا اور نہ ہی عالمی برادری نے اسے سنجیدہ لیا۔ آج فتنہ الہندوستان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بلوچستان کے عوام کا ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ یہی عوامی شعور، یہی اجتماعی بصیرت اور یہی قومی وابستگی وہ مضبوط دیوار ہے جس کے سامنے ہر سازش دم توڑ دیتی ہے۔ وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انتشار، تشدد اور گمراہ کن بیانیے عارضی ہوتے ہیں، جبکہ امن، ترقی اور قومی یکجہتی ہی پائیدار حقیقت ہیں۔ بلوچستان کے عوام نے جس ثابت قدمی، شعور اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے وہ نہ صرف قابل تحسین ہے ۔

ٹیگز: