Wed, September 16, 2026

کہتا ہوںجھوٹ کہ سچ کی عادت نہیں مجھے…

کہتا ہوںجھوٹ کہ سچ کی عادت نہیں مجھے…

مندرجہ بالا عنوان کتابت کی غلطی نہیں بلکہ اسے اسی طرح لکھا گیا ہے ، چونکہ پولی گراف ٹیسٹ کی جب بات عدالت کی جانب سے آتی ہے تو اسکا مطلب کہ معاملہ سنگین ہے عدالت کو ملزم کی سابقہ تاریخ دیکھتے ہوئے نیز بدلتے بیانات دیکھتے ہوئے ملزم کی بات پر اعتبار نہیں گزشتہ دنوں چوتھی مرتبہ اڈیالہ کے باسی جو ا ب اپنی جماعت کے سرپرست اعلی بن چکے ہیں، سرپرست اعلیٰ کسی بھی جماعت اسلئے بنایا جاتا ہے جب اس جماعت کے دیگر عہدیدار خود فیصلہ کرنا چاہتے ہوں،اور سربراہ بے عمل ہو ۔گزشتہ دنوںچوتھی مرتبہ سرپرست اعلیٰ نے پولی گراف ٹیسٹ کرانے سے منع کردیا، ۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی اکثریت پولی گرافک ٹیسٹ سے ناواقف ہوگی ، ماسوائے انکے جو ملک کے باہر بیٹھے منفی سوشل میڈیا سے جو کپتان کی مشکلات میں روز بروز اضافہ کررہا ہے اس سوشل میڈیا کے ہی سہارے اس جماعت نے شہرت حاصل کی ہے اور خود سرپرست اعلیٰ کو بھی ایسے ہی لوگ پسند ہیں جو بے پرکی اڑائیںسوشل میڈیا کے تحریک انصاف کی سیاست پر کتنے منفی اثرات ہیں اسکے متعلق جماعت کے وہ لوگ جو ملک میں صاف ستھر ی سیاست کرنا چاہتے ہیں وہ بھی نالاں ہیں۔ حال امریکہ میں پاکستان کے معروف بزنس میں تنویر احمد جو پی ٹی آئی کے معاملات سلجھانے کیلئے عمران خان سے سات ملاقاتیں کرچکے ہیں پریس کانفرنس میں وہ بھی تحریک کی سیاست سے نالاںنظر آئے اور کہا کہ پی ٹی آئی کوئی بیانیہ بنانے میں ناکام ہے اسکی وجہ اس جماعت کا سوشل میڈیا ہے ، انہوںنے بتایا کہ ایک ملاقات میں میں نے عمران سے پوچھا کہ سوشل میڈیا کہہ رہا ہے کہ جیل حکام تنگ کررہے ہیں، کھانے میں زہر کی باتیں کی جارہی ہے، انہوںنے کہا کہ ایسا کچھ نہیں میں ٹھیک ہوں کوئی تنگ نہیںکررہا ماسوائے ملاقاتوںکے ،تنویر احمد نے خیال ظاہر کیا کہ ایک طرف انکی بہن ہیںوہ اپنے گروپ کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتی ہیں جبکہ دیگر گروپ اپنی سیاست کیلئے ملاقات کے خواہا ں جس وجہ سے ملاقاتیں مشکل ہورہی ہیں،تحریک انصاف کے چاہنے والے شائد پولی گراف ٹیسٹ سے مکمل واقفیت نہ رکھتے ہوں پولی گراف ٹیسٹ ایک ایسا آلہ ہے جو کئی جسمانی اشاریوں کی پیمائش اور ریکارڈ کرتا ہے۔ جیسے دل کی دھڑکن ،بلڈ پریشر،سانس کی شرح ، جستی جلد کا ردعمل (پسینے کے غدود کی سرگرمی)۔ یہ پیمائشیں اس وقت لی جاتی ہیں جب کسی موضوع سے متعلق کئی سوالات پوچھے جاتے ہیں، جس کا مقصد فریب دینے والے رویے کا پتہ لگانا ہے۔سوالات پوچھنے والا مرکزی مقدمے یا جرم کے حوالے سے متعلقہ سوالات کو محور بناتاہے سوالات ، جوابات کے دوران جسمانی ردعمل کا تجزیہ اس بات کا تعین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے کہ آیا وہ متعلقہ سوالات پر نمایاں طور پر مختلف ہیں۔پولی گراف ٹیسٹ کا نتیجہ سو فیصد درست نہیں ہوتا دنیا میں ہونے والے پولی گراف ٹیسٹ کے نتائج اکثر 70فیصد کے قریب حوالہ دیا جاتا ہے۔ پولی گراف کے نتائج قابل اعتبار ہونے کے خدشات کی وجہ سے عدالت میں قابل قبول نہیں ہیں۔مگر کسی حد تک کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے مگر سرپرست اعلیٰ کے ماضی کے بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ کہنا جائز ہے کہ شائد پولی گراف ٹیسٹ سرپرست اعلیٰ سے کچھ نتیجہ حاصل نہ حاصل کرسکے ، پولی گراف ٹیسٹ ایک طرف موصوف نے وائس میچنگ ٹیسٹ سے بھی منع کردیا ہے ، سرپرست اعلیٰ نے 9 مئی 2023 کے فسادات کی تحقیقات کے دوران پولی گراف، وائس میچنگ اور فوٹو گرافی مسئلہ یہ ہے کہ 9مئی کے مقدمات میںفوٹیج موجود ہیں، بیانات موجود ہیں جس کے متعلق یہ جماعت کہتی ہے ان پر سیاسی بنیادوںپر مقدمات بنائے گئے ہیں ، اگر 9مئی کو اس جماعت کے رہنماء اور انکے رہنمائوں کی تقاریر سے متاثر ہوکر حملہ کسی سیاسی مخالف کے گھر پرہوتا توشائد یہ بات درست مانی جاتی مگر قائد اعظم، ایٹمی طاقت ہونے کی یادگا روں، ایم ایم عالم کے تاریخی جہاز پر حملہ کی کیا ضرورت تھی وہ دن یقینا کسی عسکری قیادت اور پاکستان کے خلاف سازش تھی جو ناکام ہوئی ، نیز مقدمات تو بہت سے بنتے تھے ، جیسے تقاریر میں سول نافرمانی پر عوام کو اکسانا، بجلی کے بل ادا نہ کرو، بل پھاڑ دو، بیرون ملک پاکستانی بنکوںسے رقم نہ بھیجیں بلکہ غیر قانونی ذرائع سے بھیجیں، چینی قیادت کو پاکستا ن میں داخل نہ ہونے دینا وغیرہ وغیرہ مگر ہماری عدالتوں، حکومت اوراسکے کرتا دھرتائوںکو یہ سب نہ جانے کیوںنظر نہ آیا، 9 مئی کے فسادات خان کی بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتاری سے شروع ہوئے، جس کے نتیجے میں ملک گیر احتجاج اور فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے۔ خان کو 200 سے زیادہ مقدمات کا سامنا ہے اور وہ اگست 2023 سے جیل میں بند ہیں۔ فرانزک ٹیسٹ کرانے سے انکار کو حکام کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جن کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے لیے ان کا تعاون ضروری ہے۔ تاہم، خان کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ الزامات سیاسی اور تحقیقات میں شفافیت کا فقدان ہے۔معزز عدالتوںسے ایک میںسزا اور دوسری سے اسی مقدمہ میں بریت مجرموںکی حوصلہ افزائی کرتی ہے ، اور سراسر ریاست کے وکلاء کی نااہلی سے تعبیر کی جاسکتی ہے ۔ مقدمات میں تاخیر اس بلا کی کہ دوسال سے زائد تاحال کوئی فیصلہ نہیں، اس بنا پر عوام میںشکوک پیدا ہوتے ہیںکہ کہیں مقدمات خوامخواہ تو نہیں،کرپشن کے حوالے سے 
لاکھوں ڈالرز برطانیہ سے لاکر بزنس ٹائیکون کو دے دینا جبکہ برطانیہ نے اس رقم کو بلیک منی قرار دیا تھا ،توشہ خانہ مقدمہ یہ تمام OPEN SHUT  کیس میںشمار ہوتے ہیںمگر دوسال سے کچھ نہ ہوا اس لئے عوام کا یہ کہنا جائز بنتا ہے کہ ’’اس ملک میںکچھ بھی کرلو کچھ نہیں ہوتا ‘‘ خان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سفارتی سائفر لیک کرنے کا الزام ہے۔ اگست 2023 میں اسے اس جرم میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ایک اپیل کورٹ نے اس مہینے کے آخر میں سزا کو معطل کر دیا، لیکن وہ ابھی تک زیر التوا مقدمے کی سماعت میں قید ہے۔عدالت عمران خان کے 9 مئی 2023 کے فسادات میں ملوث ہونے کا پتہ لگانے کے لیے پولی گراف ٹیسٹ کرانے پر اصرار کر رہی ہے جس کی وجہ سے فوجی تنصیبات اور عوامی املاک پر حملے ہوئے تھے۔ حکام کا الزام ہے کہ خان نے ان واقعات کو منظم کیا، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف پرامن احتجاج کی کال دی۔ پولی گراف ٹیسٹ کو اس کے بیانات کی تصدیق اور واقعات میں اس کے کردار کا تعین کرنے کے لیے ایک ٹول کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔چونکہ شائد فیصلہ سازوںکو فوٹیج ، بیانات سے کوئی رہنمائی نہیں مل رہی جو ایک مذاق اور تاخیری حربے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ مسلسل تاخیر پر یہ کہنا بنتاہے کہ JUSTICE DELAYED IS JUSTICE DENIED  
ہو سکتا ہے میری سوچ کسی اندرونی خانہ معاملات سے ہم آہنگ نہ ہو ۔

ٹیگز: