Wed, September 16, 2026

دو متضاد بیانیے اورمودی کو نصیحت

دو متضاد بیانیے اورمودی کو نصیحت

جب سے بنی نوع انسان نے اپنی بقاءو تحفظ کے لیے حق دفاع کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ اس وقت سے لیکر آج تک دنیا دو متضاد بیانیوں کے درمیان تقسیم چلی آرہی ہے ۔ ایک جو عدل وانصاف، حق و سچائی پر مبنی ہے ۔جس کا سب سے بہتر تصور رحمت اللعالمین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی شکل میں پیش کیا تھا۔ جو رہتی دنیا تک انسانوں کی رہنمائی کرتا رہے گا ۔ اور دوسرا جو توسیع پسندانہ عزائم ،تعصب و بغض کی بنیاد پر ہے ۔ جو ہر دور میں فرعونیت و تکبر کا دعویٰ کرنے والوں کی سرشست میں شامل ہوتا ہے۔موجودہ عالمی منظر نامے میں یہ بیانیہ اسرائیل ( صہیونیت )نقطہ نظر سے منسلک ہے ۔جس کا زیادہ تر نشانہ امت مسلمہ ہی بنتی ہے ۔ گذشتہ تین دہائیوں اور خاص کر پچھلے چار سالوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں ہونے والے مختلف عسکری واقعات کا تزویراتی گہرائی سے جائزہ لیا جائے ۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ جو بیانیہ سامراجیت پر استوار ہو ۔ وہ کسی بھی فورس کے اخلاقی بگاڑ کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ اس کے لڑنے کا مورال بھی متاثر کرتاہے ۔ ایسی صورت میں ایک منظم فورس غیر محسوس طریقے وحالات کے تحت شکست خوردہ ذہنیت میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ قیادتیں جنگ سے جی چرانے لگتی ہیں یا پھر ان میں خوف وشدت سرایت کر جاتی ہے ۔ ایسے میں دشمنوں کا جاسوسی کا نیٹ ورک اندر تک نفوز کر جاتا ہے ۔ جو ناقابل یقین حد تک افرادی و اسٹریٹجک اثاثہ جات کے بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث بن جاتا ہے ۔ موجودہ جنگی منظرنامے میں امریکہ ، اسرائیل ،بھارت وبشار نصیری فورسز کی شکست وریخت اس کی مثالیں ہیں ۔ 
دشمنوں کے بہکاوے میں آکر خود ساختہ حقوق ،نام نہاد آزادی اور زبردستی مسلط کیئے گے انتہا پسندانہ دینی افکار کی بنیاد پراپنوں کے ہی خلاف مسلح کاروائیاںفساد فی الارض کے سوا کچھ نہیں ۔ ایسے بیانیے ہزاروں بے گناہ انسانوں کی ہلاکتوں کا سبب بنتے ہیں ۔یہ اسلامی تعلیمات و انسانیت نہیں بلکہ بدترین شیطانیت ہے ۔ جس کا کوئی بھی مذہب اجازت نہیں دیتا ۔ خطے میں گذشتہ پانچ دہائیوں سے مذہب کے نام پر اور کبھی مسیحا کی آمد کی آڑ میں انتہا پسندی ، قتل وغارت گری، عبادت خانوں میں دہشت گردانہ حملے ، علماءکرام کا قتل عام ، فرقہ وارانہ تشدد۔ جس کا تصور نہ تو اسلام میں ہے اور نہ ہی عیسائیت میں ۔ جبر و استبداد ، ظلم وستم اور نسل کشی سے اگر کوئی علاقہ فتح ہو بھی جاتا ہے ۔ یا پھر متشددانہ افکار ونظریات کو کو زبردستی لوگوں کے اذہان پر مسلط کر بھی دیا جاتا ہے تو ایسے جابرانہ قبضے و سوچ کی اندھیری رات چاہے کتنی ہی طویل اور تاریک کیوں نہ ہو؟۔ ایسے بیانیوںکا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہی ہوتا ہے ۔ جیسے مشرق وسطیٰ میں مختلف فورسز و نظریات کا زمین بوس ہونا۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں۔بالآخر ایک پرامن سحر نمودار ہو کر ہی رہتی ہے ۔
 پاک چائنا پیس اسٹڑیٹجک کوارڈینشین کی سعی پیہم کی وجہ سے دنیا دن بدن محفوظ ہورہی ہے۔ طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ حقیقت میں امریکہ کی سپر میسی کا سورج غروب ہو رہا ہے ۔ اور دنیا پاک چائنا کے ارد گرد اکٹھی ہو رہی ہے۔ پاک ثالثی کے پرعزم کردار نے انسانیت کے قاتل نیتن یاہو کو بھی لبنان کے ساتھ جنگ بندی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ خدشات بدرجہ اتم موجود ہیں کہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی ہولناکیوں میں دھکیلنے والے بدفطرت دشمنوں کو ثالثی اور امن کا کردار ہضم نہیں ہو رہا۔ ملعونوں کی قتل وغارت گری سے بھری سیاہ تاریخ اس کی شاہد ہے کہ وہ فتنہ برپا کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔ جس طرح ملعون امریکہ و امریکیوں کی ذلت و جگ ہنسائی کا سبب بنے ہیں۔ قیاس ہے وہ مودی اور اس کی انتہا پسند کچن کیبنٹ کے جنگی جنون کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہوئے بھارت کے بھی حصے بخرے کروا کر ہی چھوڑیں گے ۔ مودی کے لیے جتنا جلدی ممکن ہو سکے صہیونی بیانیہ سے جان چھڑائے کیونکہ صہیونی بیانیہ تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں لاتا ۔ 
مودی آخر کب تک پاکستان فوبیا کی بنیاد پر عوام کا سیاسی استحصال کرتا رہے گا ؟۔ پرتشدد سیاسی بیانیہ معاشروں میں مختلف طبقوں کے درمیان نفرتوں کو جنم دیتا ہے ۔ جو عدالتی جانبداری ،سیاسی ڈکٹیٹرشپ اور بیروزگاری کا باعث بنتاہے۔ لہٰذا مودی کےلئے بہتر یہی ہے کہ وہ ضد ، انا اور تعصب کے پرفریب جال سے نکل کر پاکستان کے ساتھ ”معاہدہ برائے بقائے امن“ کرے۔دنیا کو محفو ظ بنانے کے لیے کیے جارہے ثالثی کے پرخلوص کردار سے مودی جی کو موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ تاریخ میں ایسا موقع شادونادر ہی ملتا ہے۔ جس سے قوموں ، ملکوں و ریاستوں کے مستقبل سنورتے ہیں۔ پاکستان کے دیرینہ جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے مقبوضہ ریاست کشمیر ، ریاست حیدر آباد دکن اور ریاست جونا گڑھ پر پاکستان کے حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے تاکہ باقی ماندہ بھارت کو صہیونی بیانہ کی خوفناک سازشوں سے بچایا جا سکے۔ موجودہ بین الاقوامی سطح پر چلنے والی امن کی لہر سے مودی کو سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ دنیا اب جنگوں ، خون خرابہ ، نسل کشیوں سے تنگ آچکی ہے۔ مودی کوان زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہو گا ۔ دہائیوں بعد دنیا نے حیرن کن منظر دیکھا کہ یورپ ، نیٹو اور چرچ نے اس سارے انسانیت کش صہیونی بیانیہ کا ساتھ دینے سے یکسر انکار کر دیا۔ مودی اور اس کی متعصب جنگی کابینہ کو کھلے ذہن سے سرخم تسلیم کر لینا چاہیے کہ دنیا امن و محبت،مضبوط معیشت اور عدل وانصاف کی بالادستی سے چلتی ہے ناکہ زبردستی دھونس و نفرت انگیز بیانیہ سے ۔ مودی کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ایران و امریکہ کو بچانے کے لیے پاکستان میدان میں آگیا ، جس کے ساتھ پوری دنیا کھڑی ہے ۔ لیکن کل کلاں مودی کی ہٹ دھرمی سے بھارت کو بچانے کے لیے کوئی نہیں آئے گا ۔ ابھی تو مقبوضہ ریاست کشمیر، جونا گڑھ اور حیدرآباد تک بات محدود رہے گی دوسری صورت میں پورا بھارت ٹکڑوں میں بکھر جائے گا ۔ 

ٹیگز: