کل سعودی عرب کی فضاؤں میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کا وہ استقبال ہوا جس پر ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ سعودی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی وزیر اعظم پاکستان کے طیارے کو رائل سعودی ایئر فورس کے طیاروں نے اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا۔ پھر جدہ ایئرپورٹ پر اکیس توپوں کی سلامی، سعودی قیادت کی گرمجوش آغوش اور جدہ کی شاہراہوں پر پاکستانی و سعودی پرچموں کی بہار، یہ سب کچھ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا کاغذوں پر لکھے الفاظ کا نہیں بلکہ دلوں میں دھڑکتے خون کا رشتہ ہے۔ یہ دوستی نہیں، یہ بھائی چارہ ہے! یہ محض استقبال نہیں، یہ درحقیقت پاکستان کی عظمت کا اعتراف ہے! بلا شبہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے عمل سے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ پاکستان کوئی تنہا اور مجبور ملک نہیں بلکہ ایک ایسی خود مختار ریاست ہے جو سعودی عرب کے ساتھ مل کر امت مسلمہ کی بقا کو دوام بخشتی ہے۔ دوسری طرف مختصر عرصے میں سی پیک کو نئی زندگی دینا، ترکیہ اور خلیجی ممالک کو قریب لانا، امریکی و یورپی قیادت کو پاکستان کو اہمیت دینے اور اس کی بات سننے پر مجبور کرنا اور عالمی فورمز پر کشمیر و فلسطین کے مقدمات کو للکار کر پیش کرنا، یہ سب وہ کارنامے ہیں جو میاں شہباز شریف کی قیادت کو نمایاں کرتے ہیں۔ آج دنیا یہ ماننے پر مجبور ہے کہ پاکستان کا وزیر اعظم ایک ایسا رہنما ہے جو نہ صرف اپنے عوام کے لیے سوچتا ہے بلکہ پوری امت کے لیے لڑنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ پھر کل وہ لمحہ بھی آیا کہ جس نے امت مسلمہ کے دشمنوں کو دلوں میں کپکپی طاری کر دی اور وہ تھا سعودی عرب اور پاکستان کا تاریخی ’’سٹریٹیجک دفاعی معاہدہ‘‘۔ یہ محض ایک رسمی دستاویز پر دستخط نہیں تھے بلکہ یہ ایک اعلان تھا۔ اس بات کا اعلان کہ اب امت مسلمہ کے دشمن ہوشیار ہو جائیں، اب کوئی مکہ و مدینہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ بھی نہیں سکتا، کیونکہ ایسا کرنے والے کیخلاف سعودی عرب کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے پاکستان کی ایٹمی طاقت کھڑی ہو گی! یہ معاہدہ امت مسلمہ کے لیے ایک نئی ڈھال ہے، ایک نیا عہد ہے کہ جب بھی کوئی دشمن دونوں یا کسی ایک سرزمین کیخلاف سر اٹھائے گا تو پاکستان اور سعودی عرب کو شانہ بشانہ مد مقابل پائے گا۔ دوسری طرف ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان ایسے وقت میں اپنے عوام کی مشکلات بھول سکتا ہے؟ نہیں! بالکل نہیں۔ حقیقتاً پاکستان آج کل معاشی بحران سے نبرد آزما ہے۔ قرضوں کا بوجھ، یکے بعد دیگرے قدرتی آفات سے آئی تباہی اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔ تو ایسے میں جب پاکستان نے اپنی عسکری طاقت کو سعودی عرب کے دفاع کے لیے پیش کر دیا ہے تو کیا اب یہ سعودی قیادت کی بھی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ بھی دل کھول کہ پاکستان کو مشکل وقت میں سہارا دے؟ سعودی عرب کے پاس وسائل اور دولت کی کمی نہیں۔ آج اگر سعودی بھائی پاکستان کا ہاتھ تھام لیں تو کل ایک طاقتور پاکستان ہر مشکل وقت میں ان کا سب سے بڑا ساتھی، سہارا اور ڈھال بنے گا۔ کیونکہ اصل میں تو پاکستان کی مضبوطی ہی امت کی مضبوطی ہے، پاکستان کی بقا ہی اسلام اور امہ کی بقا ہے! یقینا وزیر اعظم پاکستان کا سعودی سرزمین پہ فقیدالمثال استقبال صرف ایک روایتی تقریب نہیں تھی، یہ دراصل دنیا کو ایک خاموش پیغام تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب یک جان، یک قالب اور یک زباں ہیں۔ جنگی جہازوں کے حفاظتی حصار اور توپوں کی سلامی نے دنیا کو بتا اور دکھا دیا کہ اب پاکستان کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ پاکستانی اور سعودی پرچموں کی بہار نے دشمنوں کو یہ یقین بھی دلا دیا کہ دونوں ممالک کا یہ لازوال رشتہ کسی سازش یا دباؤ سے نہیں ٹوٹ سکتا۔ سٹریٹیجک دفاعی معاہدے نے تو اعلان عام کر دیا کہ اب مکہ و مدینہ کے دروازے محفوظ ہاتھوں یعنی پاکستانی ہاتھوں میں ہیں لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ سعودی مملکت بھی عملی قدم اٹھائے۔ پاکستان کو معاشی سہارا دے، سرمایہ کاری کرے، مدد فراہم کرے تاکہ پاکستانی معیشت ایک بار پھر اپنے پیروں پر مضبوطی سے کھڑی ہو۔ بلا شبہ معاشی طور پہ مستحکم پاکستان ہی دنیا کے سامنے امت مسلمہ کے حق میں للکار سکتا ہے۔ ایک طاقتور اور متوازن پاکستان ہی امت مسلمہ کے دشمنوں کو شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔ ایک خوشحال پاکستان ہی ہر مسلمان کے دل میں امن و آشتی کی امید جگا سکتا ہے۔ اس لیے جناب ولی عہد مملکت سعودیہ، اب پاکستان، آپ کی طرف سے پاکستان کے عوام کی خوشحالی کے لیے اقدامات کا بھی منتظر ہے۔ بس ایک دفعہ امریکہ و یورپ کی بجائے پاکستان کا ساتھ دے کر دیکھ لیں۔ آپ کو کبھی مایوسی نا ہو گی۔ پاکستان زندہ باد! سعودی عرب پائندہ باد! پاک، سعودی دوستی ہمیشہ زندہ باد!