Wed, September 16, 2026

مریم نواز کسی سے بلیک میل نہیں ہو گی

 مریم نواز کسی سے بلیک میل نہیں ہو گی

 ریاست ایک ہی وقت میں ماں کا بھی رول ادا کر رہی ہوتی ہے اور ساتھ باپ کا بھی رول ادا کرتی ہے ریاست کا ہر وقت رویہ ماں جیسا نرم دل اور شفیق نہیں ہو سکتا کبھی کبھی ریاست کوباپ کا بھی رول ادا کرنا پڑتا ہے کیونکہ جب کوئی گروہ، تنظیم یا جتھہ بار بار ریاست پر چڑھائی کرنے کی کوشش کرتا ہے توامن قائم رکھنے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ برقرار رکھنے کے لیے بھی باپ کا رول ادا کرتی ہے۔ ریاست کے لیے سب سے پہلے عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں لانااہم ہوتا ہے۔ جب کوئی ریاست کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتا ہے تو ریاست یقینی طور پر اس کا رد عمل دیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پنجاب میں ایک مذہبی جماعت کی جانب سے عوام کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی پہلے ریاست نے تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن جب مذہبی جماعت کی جانب سے معاملات انتہا تک پہنچ گئے تو ریاست کو ایک سخت باپ کا رول بھی ادا کرنا پڑا۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ کوئی تنظیم گروہ یا جتھہ ریاستی اداروں پر چڑھائی کرے اور عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچانا شروع کر دے اور ریاست خاموش تماشائی کا رول ادا کرتی رہے۔ ریاست کی جو ذمہ داریاں ہوتی ہیں وہ اس نے ہر صورت پوری کرنا ہوتی ہے ۔13 اکتوبر کو مذہبی جماعت کی جانب سے مرید کے میں جو کچھ کیا گیا وہ پوری دنیا کا میڈیا دکھا چکا ہے ۔کس طرح پولیس اہلکاروں پر حملے کیے گئے سرکاری ونجی املاک کو جلایا گیا وہ ریاست کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا تھا ۔اس لیے ریاست نے پھر ان بلوائیوں اور شدت پسندوں کو انہی کی زبان میں جواب دیا۔ پنجاب حکومت نے اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق دو اہم ترین اجلاس ہوئے جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اب اس جماعت کے لیے کسی قسم کی نرمی اختیار نہیں کی جائے گی بلکہ ان کے اعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر پابندی عائد کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو باقاعدہ درخواست کی جائے۔جس کی پنجاب کابینہ نے باقاعدہ بعد میں منظوری بھی دے دی اور سمر ی وفاقی حکومت کو ارسال بھی کردی۔ 13 اکتوبر کے احتجاج میں سب سے زیادہ پنجاب پولیس کو نقصان اٹھانا پڑا۔ پنجاب پولیس نے ایک ذمہ دار فورس ہونے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذہبی جماعت کی جانب سے غیر سیاسی اور اشتعال انگیز رویے کا تحمل کے ساتھ مظاہرہ کیا۔ انسانی جانوں کے بڑے پیمانے پر زیاںسے بچنے کے لیے پنجاب پولیس نے ایک پروفیشنل فورس ہونے کا ثبوت دیا۔ پنجاب پولیس کے سیکڑوں جوان ان بلوائیوں اور شدت پسند گروہ کے حملوں سے زخمی ہوئے اس پر پنجاب پولیس کی لیڈرشپ اور اس کا ہر جوان خراج تحسین کا مستحق ہے۔ پنجاب میں امن و امان کو قائم رکھنے کے لیے آئی جی پنجاب اور ان کی فورس نے بھرپور ذمہ داری سے اپنے فرائض سر انجام دیئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شدت پسند گروپ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑے ہو کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک مضبوط اعصاب کی مالک وزیراعلیٰ ہے ۔وہ کسی بھی جتھے یا گروہ کے دباؤ میں نہیں آنے والی وہ تمام مشکل حالات کو بھرپور تحمل اور بردباری کے ساتھ سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔وہ کسی گروہ سے بلیک میل نہیں ہونے والی بلکہ وہ پنجاب کے عوام کے تحفظ کے لیے تمام مشکل فیصلے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے حکومت کی رٹ کو قائم کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ واقع ہی ایک باصلاحیت اور مضبوط اعصاب کے مالک وزیراعلیٰ ہیں ۔عموما ًایسے حالات میں حکمران دباؤ میں آتے ہیں اور مذہبی طبقات کی جانب سے ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے حکمران طبقے کو پسپائی اختیار کرنا پڑتی ہے لیکن اس مرتبہ صورتحال بالکل مختلف ہے ۔ مریم نواز اس شدت پسند گروہ کے حمایتی مذہبی طبقات کے سامنے بھی ڈٹ گئی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیے ہوئے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اس مذہبی جماعت کی جانب سے گزشتہ تین سال میں پنجاب میں 25 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں مختلف مذاہب کے مذہبی عبادت گاہوں پر حملے کیے گئے جن میں اس مذہبی جماعت کے کارکن براہ راست ملوث پائے گئے ۔ان واقعات کے پیش آنے کے بعد پاکستان کا دنیا میں امیج بری طرح متاثر ہوا لیکن مجال ہے اس مذہبی جماعت کی لیڈرشپ کو کوئی پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ریاست کی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے جب کوئی بار بار ریاست پر چڑھائی کرنے کی کوشش کرتا ہے ،عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچاتے ہے،اقلیتوں کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ریاست اس کا رد عمل دیتی ہے۔ اب اسی رد عمل کا سامنا اس تحریک لبیک کو کرنا پڑ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مذہبی تنظیم کے لیے مزید مشکلات بڑھیں گی کیونکہ اب پنجاب حکومت فیصلہ کر چکی ہے کہ اس گروہ سے نہ بلیک میل ہوں گے نہ ہی ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی کی جائے گی۔

ٹیگز: