Wed, September 16, 2026

ڈیجیٹل فراڈ

ڈیجیٹل فراڈ

حکومت پاکستان نے یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے لیے ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان کررکھا تھا۔یہ وہ دن تھا جب جی ٹی روڈ پر واقع شہروں کے درجنوں گھروں میں صف ماتم بچھی تھی۔میں اس سوال کے جواب کی تلاش میں تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی سمندر میں غیرقانونی تارکین وطن کی کوئی کشتی ڈوبتی ہے تو اس میں مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعدا د پاکستانیوں کی ہوتی ہے۔سوال اہم یہ ہمیشہ سے ہی رہا ہے لیکن اس کا جواب کسی کے پاس اس لیے نہیں ہوتا کہ اس فراڈ کی رو ک تھام کرنے والا ادارہ ایف آئی اے اس دھندے میں خود بھی ملوث ہے۔ہمارا معاشرہ اسلامی،ہم سب مومن لیکن حرام ہے کہ ایمانداری کی رتی بھی ہمارے رویوں اور سوچ میں پائی جاتی ہو۔رویوں میں فراڈ،دھوکا،،غلط بیانی اور جھوٹ،یہی اوڑنابچھونا اور یہی روزگار۔ میں یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ ایک قریبی دوست بچوں سمیت ملنے آگئے،آتے ہی کہا کہ ایک کام ہے بچوں کے لیے گیمنگ مشین پلے سٹیشن خریدنا ہے خریدوفروخت والی ویب سائٹ سے بچوں نے ایک مشین پسند کی ہے آپ ذرا بات کرکے ڈیل کردیں۔ 
میں نے اس اشتہار پر نظر ڈالی،اشتہار انتہا ئی جاذب نظر،پیشکش پرکشش،مارکیٹ میں اس مشین کی قیمت کم از بھی ایک لاکھ روپے ہوگی لیکن اس اشتہار میںاس کی قیمت صرف چالیس ہزارروپے تھی اور یہی وجہ تھی کہ دوست نے اس کوخریدنے کی بات کی تھی۔اس اشتہار میں لوکیشن لاہور درج تھی میں نے کہا بات کرتے ہیں اگر حقیقی بات ہوئی تو جاکر لے آئیں گے۔ میں نے دیئے گئے فون نمبر پرکال کی آگے سے صاحب نے لمبا ساسلام کیا، دھیما لہجہ گفتار ماشاء اللہ، تعارف کرایا بچوں کو دینی تعلیم دیتا ہوں میں نے پوچھا کہ یہ مشین کہاںدیکھ سکتے ہیں بولے،اٹک میں۔کانوں پر یقین نہ آیا پوچھا اشتہار میں تو لوکیشن لاہورکی ہے؟ فرمانے لگے سر آپ کو معلوم ہے کہ یہ گیمنگ کی مارکیٹ تو بڑے شہر ہیںہم چھوٹے شہروں والے ہیں یہاں لوگ کہاں افورڈ کرتے ہیں اس لیے لاہور کی لوکیشن دینا پڑتی ہے گاہک جلدی مل جاتا ہے۔ بات تھوڑی منطقی لگی کہ آج کل آن لائن تجارت کا زمانہ ہے تو کوئی بات نہیں۔میں نے کہا مشین تصاویر میں تو اچھی لگی ہے آگے کیسے بڑھیں بولے میں آپ کو ویڈیو واٹس ایپ کرتا ہوں آپ تسلی سے دیکھ لیں۔ فون بند کیا تو ویڈیو آگئی۔
واٹس ایپ جو بھیجا اس میں فارورڈڈ میسج کا نشان تھا۔میرا ماتھاٹھنک گیا۔میں نے کہا کہ ویڈیو ان صاحب نے خود نہیں بنائی کسی نے ان کو بھیجی ہے کیونکہ واٹس ایپ کی کمپنی میٹا نے فیکٹ چیکنگ اور فیک نیوز کی روک تھام کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں جن میں اوریجنل میسیج نہ ہو تو اس کے ساتھ لکھا ہوا آتاہے کہ یہ پیغام کسی اور کا ہے یہ صاحب صرف آگے بھیج رہے ہیں۔ ویڈیو دیکھ کردوبارہ کال کی پوچھا کہ یہ مشین آپ کی اپنی ہے؟ گویا ہوئے نہیں جن کے گھر قرآن پاک پڑھاتا ہوں ان کی ہے ان کے بچے چھوٹے ہیں خاتون باپردہ ہیں ان کے خاوند باہرسے لے آئے تھے ان کے کسی کام کی نہیں ہے اس لیے میری ذمہ داری لگادی ہے کہ اس کو بیچ دوں۔میں نے کہا کہ آپ اس گھر جاکر ایک ویڈیوکال کرکے مشین ہمیںدکھادیں تاکہ تسلی ہوجائے اور ہم آگے بڑھیں وہ صاحب فوری بولے ویڈیو بھیج تو دی ہے آپ دیکھ لیں مجھ پر بھروسہ کریں میں آپ کو اپنا شناختی کارڈ بھیج دیتا ہوں۔ایساکرتے ہیں کہ میں کوریئر والے کے پاس جاکر و یڈیو کال کرادیتا ہوں آپ کے سامنے پیکٹ اس کے حوالے کروں گا آپ مجھے آدھی پیمنٹ بھیج دیں میں مشین بھیج دیتا ہوں۔میں نے کہا آپ مجھ پر اعتبار کرلیں میں آپ کی مشین ملتے ہی کیش آن ڈیلیوری کے تحت پورے پیسے کوریئر والے کو دے کر مشین لے لوں گا۔مجھے کہنے لگے چلیں آپ پر اعتبار کرتا ہوں آپ آدھے پیسے نہ دیں دس ہزار بطور ٹوکن دے دیں میں آپ کاآرڈر بک کرادیتا ہوں۔
میں نے کہا چلیں ایک کام اور کرتے ہیں مجھے اپنی لوکیشن بھیجیں میں اٹک میں سے کسی کو آپ کے پاس بھیج دیتا ہوں وہ پورے پیسے دے کرآپ سے مشین وصول کرلے گا۔ یہ سن کر وہ صاحب تھوڑے ڈھیلے پڑنے لگے ان کومعلوم ہورہا تھا کہ گاہک کوئی عام سادہ لوح نہیں ہے بلکہ ان کی تفتیش شروع ہوچکی ہے۔جھنجھلا کر بولے آپ چھوڑیں اس کو کوریئر دیکھیں اور پیسے دیں کام ختم کریں کل آپ کو مشین مل جائے گی۔میں نتیجے تک پہنچ گیا تھا میں نے ان کو اٹک کے ایک صحافی دوست کا نام بتایا کہ وہ آپ کے پاس آجاتے ہیں یہ سننا تھا کہ بولے آپ چھوڑدیں۔ میں نے کہا کیوں فراڈ کرتے ہو۔ وہ ڈھٹائی سے بغیر خوف زدہ ہوئے بولے کہ آپ سمجھدار نکلے اور پکڑلیا لالچ میں نہیں آئے اور بچ گئے ورنہ ایک لاکھ کی مشین کی اتنی کم قیمت دیکھ کر لوگ لالچ کی پٹی آنکھوں پر باندھ کر اپنی عقل کی رسی ہمیں پکڑا دیتے ہیں۔آ پ کی جگہ اور ہوتا تو کم از کم اب تک دس ہزار تومجھے دے چکا ہوتا۔میں نے کہا تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں؟ بولے کون پوچھے گا؟صاحب فراڈ کا اپنا ایک سسٹم ہے۔جب تک لالچ زندہ ہے ٹھگ بھوکے نہیں مریں گے۔
فون بند کیا اور سوچنے لگا کہ اس کا کیا کروں۔سوچا پی ٹی اے کو بتاتا ہوں۔ پھرسوچا وہ کیا کرے گا؟ زیادہ سے زیادہ یہ سم بلاک کردے گااور اس کے بس میں کیا ہے؟ ایسے لوگوں کے پاس سیکڑوں سم کارڈ ہوتے ہیں۔میں فراڈ پیغامات کا پہلے بھی پی ٹی اے کو بتاچکا تھا تو پی ٹی اے نے وہ سم بلاک کرکے مجھے تسلی دے دی تھی لیکن بے نظیر انکم سپورٹ سے لے کر جیتوپاکستان اور بول گیم شو کے انعامات کے پیغامات تو آج تک آرہے ہیں۔پھر سوچا ایف آئی اے کو بتاتاہوں۔اس طرف جانے ہی والا تھا کہ کشتی ڈوبنے پر یوم سوگ کی خبروں پر نظر پڑی تو سوچا کہ اگر ایف آئی ا ے کام کررہی ہوتی تو آج ہم سوگ نہ منارہے ہوتے۔
فراڈ کا یہ سسٹم صرف ایک ویب سائٹ تک محدودنہیں ہے میں نے اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ کو وسیع کرنا شروع کردیا۔او ایل ایکس کو کھنگالا تو ایسے سیکڑوں اشتہارات سامنے آگئے۔جس کو بھی فون کیا اٹک والی کہانی سے واسطہ پڑتا گیا۔میں نے فیس بک کا رخ کیاتو فیس بک کی مارکیٹ پلیس بھی ایسے ہی فراڈیوں کا گڑھ نکلی۔میں اس فراڈ کی تحقیقات میں مزیداترا تو پتہ چلا کہ کچھ لوکل کوریئر کمپنیاںاس دھندے میں برابر کی شریک ہیں یہ فراڈیے گاہکوں کو پھانس کر انہی کوریئر والوں کے پاس جاتے ہیں اور واٹس ایپ ویڈیو کالز کے ذریعے کوریئر والوں کی گواہی دلواکراپنا فراڈ اوریجنل بناتے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں تمام سوشل میڈیا ذرائع ،فیس بک سے لے کر واٹس ایپ اور انسٹا گرام تک فراڈیوں کی دکانیں ہیں۔
یہ بات ثابت شدہ ہے کہ فراڈ اور فراڈیے ہمارے اردگرد موجود بے رحمی سے عوام کولوٹ رہے ہیں لیکن تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ لٹنے والوں کی دادرسی کا کوئی فورم موثر نہیں ہے۔

ٹیگز: